سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
باب: عاریت والی بیع میں اندازہ کر کے خشک کھجور دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4543
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخِرْصِهَا تَمْرًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی اجازت دی کہ اس (کی تازہ کھجوروں کو) اندازہ لگا کر کے خشک کھجوروں کے بدلے بیچی (جا سکتی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4543]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطیہ کے درخت کے پھل کے بارے میں رخصت عطا فرمائی کہ ”اسے اندازاً پھل کے برابر خشک کھجوروں کے عوض بیچا جا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
35. بَابُ: بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ
باب: عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4544
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ وَبِالتَّمْرِ , وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ وہ توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور سے بیچی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز میں رخصت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4544]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ ”عطیہ کے درختوں کا پھل خشک یا تازہ کھجوروں کے عوض بیچا جا سکتا ہے“، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ (اس کی عام) اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4545
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ , أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4545]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطیہ کے درختوں کے بارے میں رخصت عطا فرمائی کہ ”ان کا پھل اندازاً اس کے برابر کھجوروں، پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم تک بیچا جا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، المساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن ابی داود/البیوع 21 (3364)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، (تحفة الأشراف: 14943)، مسند احمد (2/237) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4546
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا".
سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4546]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھل کی فروخت سے روکا ہے اور عطیہ کے درختوں کے بارے میں اجازت عطا فرمائی ہے کہ ان کا پھل اندازاً اس کے برابر خشک پھل کے عوض فروخت کر دیا جائے تاکہ ان درختوں والے غریب لوگ (جلدی تازہ کھجوریں کھا سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن ابی داود/البیوع 20 (3363)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، (تحفة الأشراف: 4646)، مسند احمد (4/2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحه
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4547
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ , وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ , إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ".
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا، سوائے اصحاب عرایا کے، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4547]
حضرت رافع بن خدیج اور حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا، یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کا سودا خشک کھجوروں سے کیا جائے، البتہ آپ نے عطیہ والے درختوں کے مالکوں کو (پانچ وسق تک) اس بیع کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4548
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ , قَالُوا:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا".
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخمینہ (اندازہ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4548]
حضرت بشیر بن یسار رحمہ اللہ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطیہ کے درختوں کے پھل کو اندازاً ان کے برابر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4546 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
36. بَابُ: اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ
باب: تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4549
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ؟ , فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ:" أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ ," فَنَهَى عَنْهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا: جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہو جاتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4549]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے عوض خشک کھجوریں خریدنے یا بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے حاضرین سے فرمایا: ”کیا تازہ کھجور خشک ہو کر وزن میں کم ہو جاتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے سودے سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 18 (3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن ابن ماجہ/التجارات 45 (2464)، (تحفة الأشراف: 3854)، موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد 1/175، 179 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کسی کے پاس خشک کھجوریں ہوں اور وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے بدلے برابر یا کم و بیش کے حساب سے خرید و فروخت کرنے کی بجائے خشک کھجوروں کو پیسوں سے فروخت کر دے، پھر ان پیسوں سے تازہ کھجوریں خرید لے، ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے (دیکھئیے نمبر ۴۵۵۷)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ , فَقَالَ:" أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ؟" , قَالُوا: نَعَمْ ," فَنَهَى عَنْهُ".
سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوکھی کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے کے متعلق سوال کیا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا تازہ کھجور سوکھنے پر کم ہو جائے گی؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4550]
حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے عوض تازہ کھجوریں خریدنے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تازہ کھجوریں خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں؟“ (صحابہ نے عرض کیا:) جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سودے سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
37. بَابُ: بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لاَ يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ
باب: بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4551
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4551]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”کھجوروں کے اس ڈھیر کا سودا، جس کا وزن معلوم نہ ہو، مقررہ وزن کی کھجوروں کے ساتھ کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 9 (1530)، (تحفة الأشراف: 2820) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خرید و فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
38. بَابُ: بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ
باب: اناج کے ڈھیر کو اناج کے ڈھیر کے بدلے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4552
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاعُ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ , وَلَا الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ الطَّعَامِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اناج کا ڈھیر اناج کے ڈھیر سے نہیں بیچا جائے گا ۱؎، اور نہ ہی اناج کا ڈھیر ناپے اناج سے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4552]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلے کا ایک ڈھیر دوسرے ڈھیر کے عوض یا معین وزن کے غلے کے عوض خریدا بیچا نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ دونوں کی مقدار معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ ایک زیادہ ہو اور ایک کم، جب کہ تفاضل (کمی زیادتی) جائز نہیں۔ ۲؎: کیونکہ گرچہ ایک ڈھیر کی مقدار معلوم ہے مگر دوسرے کی معلوم نہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کمی زیادتی ہو جائے، جو جائز نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب دونوں ڈھیروں کی جنس ایک ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن