سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: قِيَامُ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد پڑھنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5029
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تراویح پڑھی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5029]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان المبارک کی راتوں میں ایمان کی بنا پر اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1604 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
22. بَابُ: قِيَامُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
باب: شب قدر میں تہجد پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5030
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے نماز تہجد پڑھی تو اس کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا، اس کے بھی گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5030]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کا قیام کرے، اس کے سب پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص جذبہ ایمان اور نیت ثواب کے ساتھ لیلۃ القدر میں عبادت کرے، اس کے بھی سب پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2208 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
23. بَابُ: الزَّكَاةُ
باب: زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5031
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ , يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ , وَلَا يُفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا , فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لَا , إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لَا , إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لَا , إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ، يَقُولُ: لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی گنگناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”دن رات میں پانچ وقت کی نماز“، اس نے کہا: اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں میرے اوپر؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل (سنت) پڑھنا چاہو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے“، اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ کچھ اور بھی روزے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل ادا کرو“، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: میرے اوپر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل دینا چاہو“، پھر وہ منہ موڑ کر چلا اور کہہ رہا تھا: نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہوا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5031]
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نجد کے علاقے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی آواز کی بھنبھناہٹ تو سنائی دیتی تھی مگر اس کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی، یہاں تک کہ وہ قریب آگیا تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”ہر دن رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ کوئی اور نماز بھی مجھ پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو خوشی سے پڑھے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اور ماہ رمضان المبارک کے روزے۔“ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ خوشی سے کرے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکاۃ کا بھی ذکر فرمایا۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مالی چیز (صدقہ) مجھ پر فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں الا یہ کہ تو نفل صدقہ کرے۔“ وہ آدمی واپس جانے لگا تو کہہ رہا تھا: میں نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ آدمی اپنی بات پر لگا رہا تو کامیاب ہوگیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 459 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زکاۃ بھی ایمان کے ارکان اور پہچان میں سے ہے اس لیے مؤلف نے یہ عنوان قائم کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
24. بَابُ: الْجِهَادُ
باب: جہاد کے شرائع ایمان ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5032
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي , وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، وَإِمَّا وَفَاةٍ أَوْ أَنْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ يَنَالُ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کی راہ میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا صرف اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے اور اس کی راہ میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ نے ایسے شخص کی) ضمانت اپنے ذمہ لے لی ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی طبعی موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5032]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ضمانت دے رکھی ہے کہ اگر وہ صرف مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور خالص میرے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے، تو میں اسے ضرور جنت میں داخل کروں گا، چاہے وہ (میدان جنگ میں) قتل ہو جائے یا اسی راستے میں فوت ہو جائے؛ یا پھر وہ (اللہ تعالیٰ) اس کو اس کے گھر واپس لائے گا جس سے وہ نکلا تھا، جبکہ اس کو ثواب بھی حاصل ہو گا اور غنیمت بھی جو اس کے مقدر میں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3125 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5033
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَضَمَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِي , وَإِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي فَهُوَ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ , أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اس شخص کی جو اس کے راستے میں نکلا ہو اور اس کا یہ نکلنا جہاد کے مقصد سے، اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو وہ ضامن ہے اس کا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے وطن لوٹا دے جہاں سے وہ نکلا تھا اس اجر یا مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو جو بھی ملا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5033]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلتا ہے، جب کہ اس کی نیت صرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد ہی کی ہو اور مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق ہی اس کو جہاد پر مجبور کر رہے ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے ضمانت دے رکھی ہے کہ میں اسے ضرور جنت میں داخل کروں گا یا اسے اس کے گھر میں واپس لاؤں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا، علاوہ ثواب اور غنیمت کے جو اس کو ملے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 27 (36)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، (تحفة الأشراف: 14901)، مسند احمد (2/231، 384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
25. بَابُ: أَدَائُ الْخُمُسِ
باب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو لا کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5034
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ , فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَقَالَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَيَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْمُزَفَّتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی عبدقیس کا وفد آیا، تو ان لوگوں بت کہا: ہم لوگ قبیلہ ربیعہ سے ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں کے علاوہ کبھی نہیں آ سکتے تو آپ ہمیں کچھ باتوں کا حکم دیجئیے جو ہم آپ سے سیکھیں اور جو ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اسے ان تک پہنچا سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر ایمان -پھر آپ نے اس کی تشریح کی کہ ایک تو گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں - دوسرے نماز قائم کرنا، تیسرے زکاۃ کی ادائیگی، چوتھے یہ کہ مال غنیمت کا پانچواں (خمس) مجھے لا کر دینا، اور میں تمہیں روکتا ہوں: (تمبی) کدو کے بنے پیالے، لاکھی (سبز رنگ) کے برتنوں، لکڑی کے برتنوں اور تار کول ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5034]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قبیلہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا: ہم قبیلہ عبد القیس والے ربیعہ کی نسل سے ہیں، ہم حرمت والے مہینے کے علاوہ آپ کے پاس نہیں آ سکتے، ہمیں کسی اہم چیز کا حکم دیجیے جو ہم آپ سے سیکھیں اور واپس جا کر اپنے علاقے کے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: (پہلی چار چیزیں یہ ہیں) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایمان کی تفصیل بیان فرمائی: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، نماز پابندی سے ادا کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور خمس (پانچواں حصہ) بھیجنا، اور میں تمہیں خشک کدو کے برتنوں، سبز مٹکے اور تارکول والے مٹکے سے روکتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 40 (53)، العلم 25 (187)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1(1398)، الخمس 2 (3095)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4369)، الأدب 98 (6176)، خبرالواحد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/الإیمان 6 (17)، الأشربة 6 (17)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3692)، سنن الترمذی/السیر 39 (1599) (مایتعلق بالخمس فحسب) الإیمان 5 (2611) (مختصرا)، (تحفة الأشراف: 6524)، مسند احمد (1/128، 291، 304، 334، 340، 352، 361 ویأتی عند المؤلف فی الأشربة بأرقام 5695) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں وارد الفاظ میں دباء، حنتم، مزفت، نقیر، مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا تاکہ لوگ شراب سے بالکل دور ہو جائیں اور اس حرام چیز کو اپنی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیں، یہ حکم سد باب کے طور پر تھا، جب مسلمان اس وبا سے دور ہو گئے تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت ہو گئی، بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» اس حدیث کی رو سے اب سابقہ نہی کا حکم منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
26. بَابُ: شُهُودُ الْجَنَائِزِ
باب: جنازے میں حاضر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5035
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ الْأَزْرَقِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مسلمان کے جنازے کے پیچھے جائے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے، اس کی نماز جنازہ ادا کرے پھر قبر میں رکھے جانے تک انتظار کرے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ایک قیراط جبل احد کی طرح ہو گا، اور جس نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور لوٹ آیا تو اسے صرف ایک قیراط ثواب ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5035]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جذبہ ایمان اور ثواب کی نیت رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے، پھر انتظار کرے حتیٰ کہ اسے قبر میں دفن کر دیا جائے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، اور جو صرف جنازہ پڑھ کر واپس آ جائے، اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1996 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
27. بَابُ: الْحَيَائِ
باب: شرم و حیا۔
حدیث نمبر: 5036
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ:" دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا، جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو، (یعنی اس کو یہ نصیحت کرنی چھوڑ دو) شرم و حیاء تو ایمان میں داخل ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5036]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت ابن عمر) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو زیادہ حیا کرنے کی وجہ سے ڈانٹ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رہنے دو! حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 16 (24)، الأدب77(6118)، سنن ابی داود/الأدب 7 (4795)، صحیح مسلم/الإیمان 12 (36)، سنن الترمذی/الإیمان 7 (2615)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (58)، (تحفة الأشراف: 6913)، موطا امام مالک/حسن الخلق 2 (10)، مسند احمد (2/56، 147) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
28. بَابُ: الدِّينُ يُسْرٌ
باب: دین (اسلام) آسان ہے۔
حدیث نمبر: 5037
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ , وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَيَسِّرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدَّلْجَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین آسان ہے اور جو دین میں (عملی طور پر) سختی برتے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اسے تھکا دے گا) لہٰذا صحیح راستے پر چلو (اگر مکمل طور سے عمل نہ کر سکو تو کم از کم) دین سے قریب رہو، لوگوں کو دین کے معاملے میں خوش رکھو (نفرت نہ پیدا کرو) انہیں آسانی دو اور صبح و شام اور کچھ رات گئے کی مدد سے اللہ کی عبادت کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5037]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین آسان ہے۔ جو شخص دین کو سخت بنائے گا، دین اس پر غالب آجائے گا، لہٰذا تم اپنے اعمال درست رکھو، میانہ روی اختیار کرو، خوش رہو، لوگوں پر آسانی کرو، کچھ سفر پہلے پہر کر لیا کرو، کچھ پچھلے پہر اور کچھ آخرِ رات کو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 29 (39)، الرقاق 18 (6463)، (تحفة الأشراف: 13069)، مسند احمد (2/514) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان اوقات سے مدد طلب کرنے کا مطلب ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
29. بَابُ: أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ دینی کام کا بیان۔
حدیث نمبر: 5038
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ:" مَهْ , عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا , وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا: فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5038]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت ہے، یہ (رات کو) بالکل نہیں سوتی اور اس کی (نفل) نماز کا ذکر کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو، اتنا کام کیا کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ دین کے کاموں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کر سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1643 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن