سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: ذِكْرِ شُعَبِ الإِيمَان
باب: ایمان کی شاخوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال:" الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء (شرم) ایمان کی ایک شاخ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5009]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا ایمان کا اہم حصہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5007 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
17. بَابُ: تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ
باب: ایمان میں ایک مسلمان کا دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کا ایمان ہڈیوں کے پوروں تک بھر گیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5010]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار (رضی اللہ عنہ) کناروں تک ایمان سے لبالب بھرا ہوا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15653) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عمار رضی اللہ عنہ کا ایمان بعض لوگوں سے زیادہ تھا، اس سے ایک دوسرے کا ایمان میں کم و بیش ہونا ثابت ہوا، سلف کا یہی عقیدہ ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی خود ہر آدمی کے حساب سے بھی ہوتی ہے، نیز ایک دوسرے کے مقابلے میں بھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الأعمش عنعن وهومدلس. وانظر سنن ابن ماجه (147 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
حدیث نمبر: 5011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5011]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص برا کام ہوتا دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کر دے اور اگر طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے برا جانے، اور یہ (آخری درجہ) کمزور ترین ایمان ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، مسند احمد (3/10، 20، 49، 54، 92) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے یعنی جو دل کے ذریعہ برائی کو ختم کرے گا وہ ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو دور کرنے والے سے ایمان میں کم ہو گا اور دل کے ذریعہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا جانے اور اس سے دور رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5012
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَغَيَّرَهُ بِيَدِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَغَيَّرَهُ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِلِسَانِهِ فَغَيَّرَهُ بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کر دیا تو وہ بری ہو گیا، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کر دی ہو تو وہ بھی بری ہو گیا، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ۱؎ تو وہ بھی بری ہو گیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5012]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص برائی ہوتی دیکھے اور اپنے ہاتھ سے روک دے، وہ (گناہ سے) بری ہو گیا۔ جو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھے اور زبان سے روک دے، وہ بھی (گناہ سے) بری ہو گیا۔ اور جو شخص زبان سے روکنے کی طاقت نہ رکھے لیکن دل سے برا سمجھے، وہ بھی (گناہ سے) بری ہے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے برا سمجھا، اور اس سے دور رہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
18. بَابُ: زِيَادَةُ الإِيمَانِ
باب: ایمان کے گھٹنے بڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ"، قَالَ:" يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ"، قَالَ:" فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ"، قَالَ:" فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا"، قَالَ:" وَيَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ , حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ , فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ إِلَى عَظِيمًا سورة النساء آية 48.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا دنیاوی حق کے سلسلے میں جھگڑا اس جھگڑے سے زیادہ سخت نہیں جو مومن اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں کے سلسلے میں کریں گے جو جہنم میں داخل کر دیے گئے ہوں گے، وہ کہیں گے: ہمارے رب! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز ادا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے پھر بھی تو نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔ وہ کہے گا: جاؤ اور ان میں سے جنہیں تم جانتے ہو نکال لو، چنانچہ وہ ان کے پاس آئیں گے اور انہیں ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے، ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جو آدھی پنڈلی تک جلے ہوئے ہوں گے اور بعض ایسے کہ ٹخنوں تک جلے ہوں گے، چنانچہ وہ انہیں نکالیں گے تو وہ کہیں گے: ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے انہیں نکال لیا، وہ کہے گا: جس کے دل میں ایک دینار برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لو، پھر کہے گا: جس کے دل میں آدھا دینار برابر ایمان ہو یہاں تک کہ کہے گا: جس کے دل میں ذرے کے وزن بھر ایمان ہو“۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: جسے یقین نہ ہو تو وہ یہ آیت: «إن اللہ لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشائ» سے «عظيما» ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا“ (النساء: ۴۸) تک پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5013]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم دنیا میں اپنے حق کی خاطر اتنا نہیں جھگڑتے جتنا جھگڑا مومن اپنے رب تعالیٰ سے اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو آگ میں داخل کیے جائیں گے۔ وہ (مومن) کہیں گے: اے ہمارے رب! یہ ہمارے وہ مسلمان بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے اور حج کرتے تھے۔ تو نے ان کو آگ میں ڈال دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ جنھیں تم پہچانتے ہو، ان کو نکال لاؤ۔ وہ جائیں گے اور ان کو ان کی صورتوں سے پہچانیں گے۔ ان میں سے کسی کو نصف پنڈلیوں تک آگ لگی ہوگی اور کسی کو ٹخنوں تک۔ وہ ان کو نکال لائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! جن کے بارے میں تو نے فرمایا تھا، وہ تو ہم نے نکال لیے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ان کو بھی نکالو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر فرمائے گا: (ان کو بھی نکالو) جن کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہے حتیٰ کہ فرمائے گا: (ان کو بھی نکالو) جن کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص اس حدیث کی تصدیق میں متذبذب ہو، وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ [سورة النساء: 48] ”یقینا اللہ تعالیٰ یہ تو معاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، البتہ اس سے کم دوسرے گناہ جس کو چاہے گا، معاف فرمائے گا۔۔۔“ آخر آیت تک۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (60)، (تحفة الأشراف: 4178)، مسند احمد (3/94-95) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5014
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ , مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، قَالَ: فَمَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الدِّينَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ لوگ مجھ پر پیش کئے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک ہے، بعض کی اس سے نیچے ہے اور میرے سامنے عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا، وہ ایسی قمیص پہنے ہوئے تھے جسے وہ گھسیٹ رہے تھے“۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دین“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5014]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک دفعہ سویا ہوا تھا کہ (خواب میں) دیکھا لوگ مجھ پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں۔ بعض (تو اتنی چھوٹی ہیں کہ) پستانوں تک ہی پہنچتی ہیں اور کچھ ان سے نیچی ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ پر پیش کیے گئے تو ان پر اتنی لمبی قمیص تھی کہ زمین پر گھسٹ رہی تھی“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دین“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 15 (23)، فضائل الصحابة 6 (3691)، التعبیر 17 (7008)، 18 (7009)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2390)، سنن الترمذی/الرؤیا9(2285، 2286)، (تحفة الأشراف: 3961)، مسند احمد (3/86)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2197) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کا ایمان ان کے جسم میں کامل شکل میں رچا بسا ہوا ہے، یہی نہیں بلکہ ان کا ایمان اوروں کی نسبت سے زیادہ پختہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟، قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ الْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، وَالْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ".
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ یہود کا ایک یہودی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر بولا: امیر المؤمنین! آپ کی کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے، اگر وہ ہم یہودیوں پر اترتی تو (جس روز اترتی) ہم اسے عید کا دن بنا لیتے، کہا: کون سی آیت؟ یہودی بولا: «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج کے دن میں نے تمہارا دین پورا کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا“ (المائدہ: ۳)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے وہ مقام جہاں یہ اتری وہ مقام معلوم ہے، وہ دن معلوم ہے جب یہ نازل ہوئی، یہ جمعہ کے دن عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5015]
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! تمہاری کتاب (قرآن مجید) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی تو ہم اس (کے نزول) کے دن کو تہوار بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کون سی آیت؟ اس نے کہا: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ [سورة المائدة: 3] ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنا احسان تم پر پورا کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند فرمایا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس جگہ کو بھی جانتا ہوں جس میں یہ آیت اتری ہے اور اس دن کو بھی، یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بمقام عرفات جمعۃ المبارک کے دن اتری۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3005 (صحیح)»
وضاحت: یہ آیت بھی ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے پر دلالت کرتی ہے، اس طرح کہ دین اسلام دیگر ادیان کے مقابلے میں کامل ہے، اور کامل کا ضد ناقص ہوتا ہے، تو اہل اسلام کا ایمان اگلی امتوں سے زیادہ ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
19. بَابُ: عَلامَةُ الإِيمَانِ
باب: ایمان کی نشانی۔
حدیث نمبر: 5016
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے اپنے بال بچوں، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5016]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص صاحبِ ایمان نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کی اولاد، ماں باپ اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (67)، (تحفة الأشراف: 1249)، مسند احمد (3/177، 207، 275، 278)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2783) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اور باب کی دیگر حدیثوں میں جن جن اعمال کا بطور ایمان کی نشانی ذکر کیا گیا ہے وہ سب دل میں بیٹھے پختہ ایمان کا ہی نتیجہ ہیں اس لیے ان کو ”ایمان کی نشانی“ کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5017
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ. ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ وَأَهْلِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے بیوی بچوں، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5017]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے اہل و عیال اور مال و منال اور سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، (تحفة الأشراف: 993، 1047) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5018
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ , مِمَّا ذُكِرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے بال بچے اور اس کے ماں باپ سے زیادہ اسے محبوب نہ ہو جاؤں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5018]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے نزدیک اس کی اولاد اور والدین سے بڑھ کر محبوب نہ بن جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 8 (14)، (تحفة الأشراف: 13734) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري