سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: صِفَةِ الْمُسْلِمِ
باب: مسلم کی صفات۔
حدیث نمبر: 4999
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”(حقیقی اور کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4999]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور اصل مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 4 (10)، الرقاق 26 (6484)، صحیح مسلم/الإیمان14(40)، سنن ابی داود/الجہاد2(2481)، (تحفة الأشراف: 8834)، مسند احمد (2/163، 192، 193، 203، 205، 209، 212، 224، سنن الدارمی/الرقاق 8 (2758) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5000
أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا , وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا , وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكُمُ الْمُسْلِمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے جیسی نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5000]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبح کیا ہوا جانور کھائے، وہ مسلمان ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 28 (391)، (تحفة الأشراف: 1620) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اعمال اسلام کے مظاہر اور شرائط ہیں۔ یہ حقیقی بھی ہو سکتے ہیں اور بناوٹی بھی، اگر حقیقی ہوں گے تو یہ ایمان کامل کے مظاہر ہوں گے، اور اگر بناوٹی ہوں گے تو نفاقاً ہو گا، اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ جو صرف ان چند متعین اور خاص اعمال کو انجام دے لے وہ مسلمان ہو گیا، یہ باتیں خاص طور پر اس وقت کے یہود و نصاریٰ کے تناظر میں کہی گئی ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے، مسلمانوں کے قبلے کی طرف نماز نہیں پڑھتے تھے، اور نہ ہی مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے تھے۔ آج کل کی دیگر غیر مسلم قومیں بھی ایسا نہیں کرتیں، اور بعض نام نہاد مسلمان ان سب اعمال کو انجام دے کر بھی شرک میں مبتلا ہیں تو یہ بھی مسلم نہیں ہیں۔ مگر ان کے ساتھ حرب و مقاطعہ جیسے معاملات سو فیصد اس طرح نہیں کیے جائیں گے جس طرح کھلم کھلا کفار و مشرکین کے ساتھ کیے جاتے ہیں، ان کے لیے دعوت الی الحق اور وعظ و نصیحت ہو گی جب کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود و مشرکین کے ساتھ جہاد و قتال ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
10. بَابُ: حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ
باب: آدمی کے اسلام کی اچھائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5001
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا، ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ , الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بندہ اسلام قبول کر لے اور اچھی طرح مسلمان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر نیکی لکھ لیتا ہے جو اس نے کی ہو اور اس کی ہر برائی مٹا دی جاتی ہے جو اس نے کی ہو، پھر اس کے بعد یوں ہوتا ہے کہ بھلائی کا بدلہ اس کے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے، اور برائی کا بدلہ اتنا ہی ہوتا ہے“ (جتنی اس نے کی) سوائے اس کے کہ اللہ معاف ہی کر دے (تو کچھ بھی نہیں ہوتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5001]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور اچھا مسلمان بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر وہ نیکی (اس کے نامہ اعمال میں) لکھ دیتا ہے جو اس نے اپنے دور جاہلیت میں کی ہوتی ہے اور اس کا ہر وہ گناہ معاف کر دیا جاتا ہے جو اس نے اس سے پہلے کیا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد (اس کو اس کے اعمال کا) بدلہ ملے گا۔ نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہو گا اور برائی کا بدلہ برائی کے برابر ہی ہو گا۔ ہاں! اللہ عزوجل چاہے تو اسے بھی معاف فرما دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 31 (41 تعلیقا)، (تحفة الأشراف: 4175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
11. بَابُ: أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ
باب: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟
حدیث نمبر: 5002
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ وَهَوَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5002]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 5 (11)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (42)، سنن الترمذی/القیامة 52 (2504)، (تحفة الأشراف: 9041) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: ”کون سا مسلمان سب سے اچھا ہے؟“ یا ”اسلام والا کون آدمی سب سے اچھا ہے“۔ ۲؎: یہ کئی بار گزر چکا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کے اپنے خاص احوال، یا سوال کے خاص تناظر میں اسی کے حساب سے جواب دیا کرتے تھے، کسی کے لیے کسی عمل پر تنبیہ مقصود تھی تو کسی کے لیے کسی اور عمل کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
12. بَابُ: أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ
باب: کون سا اسلام بہتر ہے؟
حدیث نمبر: 5003
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" تُطْعِمُ الطَّعَامَ , وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا اسلام سب سے اچھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کھانا کھلانا، سلام کرنا ہر شخص کو خواہ جان پہچان کا ہو یا نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5003]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھانا کھلائے اور ہر ایک کو سلام کہے، خواہ پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 6 (12)، 20 (28) الاستئذان 9 (6236)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (39)، سنن ابی داود/الأدب 142 (5194)، سنن ابن ماجہ/الأطمعة 1 (3253)، (تحفة الأشراف: 8927)، مسند احمد (2/169) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اسلام کا کون سا عمل بہتر اعمال میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
13. بَابُ: عَلَى كَمْ بُنِيَ الإِسْلاَمُ
باب: اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے؟
حدیث نمبر: 5004
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: أَلَا تَغْزُو؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ جہاد نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5004]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزیں ہیں: گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں (اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں)، نماز پابندی کے ساتھ پڑھنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 2 (8)، صحیح مسلم/الإیمان 5 (16)، سنن الترمذی/الإیمان 3 (2609)، (تحفة الأشراف: 7344)، مسند احمد (2/26، 93، 120، 143) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ تھا کہ بنیادی باتوں کو میں تسلیم کر چکا ہوں اور جہاد ان میں سے نہیں ہے، جہاد اسباب و مصالح کی بنیاد پر کسی کسی پر فرض عین ہوتا ہے اور ہر ایک پر فرض نہیں ہوتا۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نعوذ باللہ جہاد فی سبیل اللہ کے منکر تھے، بلکہ آپ تو اپنی زندگی میں دسیوں غزوات میں شریک ہوتے تھے، آپ نے مذکورہ بالا جواب: (۱) ارکان اسلام کو بیان کرنے کے لیے اور (۲) سائل کے سوال کی کیفیت کو سامنے رکھ کر دیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
14. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الإِسْلاَمِ
باب: اسلام پر بیعت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5005
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ:" تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، قَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ , فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے“، پھر آپ نے سورۃ الممتحنہ کی آیت پڑھی ۱؎ پھر فرمایا: ”تم میں سے جو اپنے اقرار کو پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جو ان میں سے کوئی کام کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے چھپا لے تو اب یہ اللہ تعالیٰ پر ہے کہ چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5005]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مجلس میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری آیت تلاوت فرمائی، (پھر فرمایا): ”جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور جس شخص نے ان (مذکورہ کاموں) میں سے کسی کام کا ارتکاب کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہوگا، چاہے اسے عذاب دے، چاہے معاف کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4166 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ آیت یہ ہے: «يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنك» (سورة الممتحنة: 12)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
15. بَابُ: عَلَى مَا يُقَاتَلُ النَّاسُ
باب: کس بات پر لوگوں سے لڑنا صحیح ہے؟
حدیث نمبر: 5006
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا , فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں تو ان کے خون اور ان کے مال ہم پر حرام ہو گئے مگر کسی حق کے بدلے، ان کے لیے وہ سب ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے اور ان پر وہ سب ہے جو مسلمانوں پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5006]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کفار سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف منہ (کر کے نماز قائم) کریں، ہمارا ذبح شدہ جانور کھائیں، ہماری طرح نماز پڑھیں تو ان کے جان و مال ہم پر حرام ہیں، الا یہ کہ ان پر کوئی حق بنتا ہو۔ ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ فرائض عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر عائد ہوتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3972 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
16. بَابُ: ذِكْرِ شُعَبِ الإِيمَان
باب: ایمان کی شاخوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5007
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5007]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک اہم شاخ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 3 (9)، صحیح مسلم/الإیمان 12 (35)، سنن ابی داود/السنة 15 (4676)، سنن الترمذی/الإیمان 6 (2614)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (57)، (تحفة الأشراف: 12816)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5008)، 5009) حم2/414، 442، 445) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ستر کا عدد عربوں میں غیر متعین کثیر تعداد کے لیے بولا جاتا تھا، اس سے خاص متعین ”ستر کا عدد“ مراد نہیں ہے، اور «بضع» کا لفظ ”تین سے نو“ تک کے لیے بولا جاتا ہے، اور ایمان کی ان شاخوں میں خاص طور پر حیاء کا تذکرہ اس کی اہمیت جتانے کے لیے کیا ہے کہ حیاء ان ستر اعمال پر ابھارنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس حیاء سے بھی مراد وہی حیاء ہے جو نیک کاموں پر ابھارے، نہ کہ وہ حیاء جو حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے سے روکے، وہ شرعی حیاء ہے ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5008
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَوْضَعُهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں، ان میں سب سے سب سے بہتر لا الٰہ الا اللہ اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے، اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5008]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں۔ ان میں سے افضل کلمہ توحید (ورسالت) کی ادائیگی ہے۔ اور ان میں سے کم مرتبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن