سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: ذِكْرِ أَفْضَلِ الأَعْمَالِ
باب: سب سے بہتر عمل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4989
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، اور ایسا جہاد جس میں چوری نہ ہو، اور حج مبرور“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4989]
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں ذرہ بھر شک نہ ہو، وہ جہاد جس میں کسی قسم کی خیانت نہ ہو اور نیک و پاک حج۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2527 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقبول حج جس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد گناہوں سے بچا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
2. بَابُ: طَعْمِ الإِيمَانِ
باب: ایمان کے مزہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4990
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ وَطَعْمَهُ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَنْ يَبْغُضَ فِي اللَّهِ، وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعَ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں جس میں ہوں گی، وہ ایمان کی مٹھاس اور اس کا مزہ پائے گا، ایک یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں، دوسرے یہ کہ آدمی محبت کرے تو اللہ کے لیے اور نفرت کرے تو اللہ کے لیے، تیسرے یہ کہ اگر بڑی آگ بھڑکائی جائے تو اس میں گرنا اس کے نزدیک زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4990]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی پائی جائیں، ایمان اس کو لذیذ معلوم ہوتا ہے (اسے ایمان میں مزہ آنے لگتا ہے)۔ اللہ عز وجل اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوں۔ اس کی محبت اور ناراضی خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ عظیم بھڑکتی آگ میں گر پڑنا اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے زیادہ پسند ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 928)، مسند احمد (3/207، 278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی روایت میں ”ایمان کی مٹھاس“ ہے اور کسی میں ”اسلام کی مٹھاس“ ایسی جگہوں میں ”ایمان“ اور ”اسلام“ دونوں کا معنی مطلب ایک ہے یعنی دین اسلام، اور جہاں دونوں لفظ ایک سیاق میں آئیں تو دونوں کا معنی الگ الگ ہوتا ہے۔ (جیسے حدیث نمبر ۴۹۹۳ میں)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
3. بَابُ: حَلاَوَةِ الإِيمَانِ
باب: ایمان کی مٹھاس کا بیان۔
حدیث نمبر: 4991
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ".
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں جس میں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا، ایک یہ کہ جو کسی آدمی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے، دوسرے یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ہر ایک سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں اور تیسرے یہ کہ آگ میں گرنا اس کے لیے زیادہ محبوب ہو بہ نسبت اس کے کہ وہ کفر کی طرف لوٹے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے نجات دے دی“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4991]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص میں یہ تین چیزیں پائی جائیں، وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے: جو شخص کسی آدمی سے محبت کرتا ہے کسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، جسے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوں، اور جس شخص کو آگ میں کود جانا کفر کی طرف لوٹ جانے سے زیادہ پسند ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کفر سے نکال لیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 9 (21)، 14(21)، الأدب 42 (6041) الإکراہ 1 (6941)، صحیح مسلم/الإیمان 15(43)، (تحفة الأشراف: 1255)، مسند احمد 3/172، 248، 275) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
4. بَابُ: حَلاَوَةِ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام کی مٹھاس کا بیان۔
حدیث نمبر: 4992
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِسْلَامِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ".
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں جس میں پائی جائیں گی وہ اسلام کی مٹھاس پائے گا، ایک یہ کہ جس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ جو آدمی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، تیسرے یہ کہ کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4992]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اوصاف جس شخص میں پائے جائیں، وہ (ان کی برکت سے) اسلام کی مٹھاس محسوس کرے گا۔ وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر چیز سے زیادہ پیارے ہوں، جو کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کرے، جس شخص کو کفر کی طرف لوٹنا اتنا ناپسند ہو جتنا آگ میں پھینکا جانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
5. بَابُ: نَعْتِ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام کا تفصیلی بیان۔
حدیث نمبر: 4993
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ , وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا"، قَالَ: صَدَقْتَ , فَعَجِبْنَا إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاه، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ"، قَالَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ"، قَالَ: عُمَرُ فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ , هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟"، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَاكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ أَمْرَ دِينِكُمْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے، اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھا اور اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا، اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھی، پھر کہا: محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، رمضان کے روزے رکھنا، اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا“، وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا، ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی آپ سے سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی اس کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور ہر اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا“ ۱؎۔ وہ بولا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے“ ۲؎۔ وہ بولا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا“۔ اس نے کہا: اچھا تو مجھے اس کی نشانی بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یہ کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۳؎۔ دوسرے یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے بڑے بڑے محل تعمیر کریں گے“۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تین (دن) تک ٹھہرا رہا ۴؎، پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم جانتے ہو پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، وہ تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4993]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک آدمی ہمیں اچانک نظر پڑا۔ اس کے کپڑے انتہائی سفید تھے اور سر کے بال انتہائی سیاہ۔ نہ تو اس پر سفر کے نشانات نظر آتے تھے اور نہ اسے کوئی پہچانتا تھا حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ لگا دیے اور اپنی ہتھیلیاں آپ کی رانوں پر رکھ لیں، پھر کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور تو نماز کی پابندی کرے، زکاۃ ادا کرے، رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اگر تو طاقت رکھے تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ اس نے کہا: آپ سچ فرماتے ہیں۔ اس پر حیرانی ہوئی کہ یہ آپ سے پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتلائیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور ہر اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔“ اس نے کہا: آپ سچ فرماتے ہیں۔ مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، پھر اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں خبر دیجیے؟ آپ نے فرمایا: ”جس سے پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے قیامت کا زیادہ علم نہیں رکھتا۔“ اس نے کہا: پھر مجھے اس کی نشانیاں بتلا دیجیے؟ آپ نے فرمایا: ”(ایک نشانی یہ ہے) کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور (دوسری) یہ کہ تو ننگے پاؤں پھرنے والے، ننگے جسم رہنے والے، بکریوں کے کنگال چرواہوں کو دیکھے گا کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں فخریہ انداز میں اونچی عمارتیں بنانے لگے ہیں۔“ (پھر وہ چلا گیا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین دن میں اسی طرح (ششدر) ٹھہرا رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”عمر! جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، تمہیں تمہارے دینی معاملات سکھانے آئے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 1(8)، سنن ابی داود/السنة 17 (4695، 4696)، سنن الترمذی/الإیمان 4 (2610)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (63)، (تحفة الأشراف: 105720)، مسند احمد (1/27، 28، 51، 52) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس نے ہر اس چیز کا اندازہ مقرر فرما دیا ہے اب ہر چیز اسی اندازے کے مطابق اس کے پیدا کرنے سے ہو رہی ہے کوئی چیز اس کے ارادے کے بغیر نہیں ہوتی۔ ۲؎: یعنی: اگر یہ کیفیت طاری نہ ہو سکے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو یہ تو یقین جانو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے، اس لیے اسی کیفیت میں عبادت کرو۔ ۳؎: اس کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ چھوٹے بڑے کا فرق مٹ جائے گا، اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ کرنے لگے گی۔ ۴؎: تین دن، تین ساعت یا تین رات یا چند لمحے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
6. بَابُ: صِفَةِ الإِيمَانِ وَالإِسْلاَمِ
باب: ایمان اور اسلام کی تعریف۔
حدیث نمبر: 4994
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأبِي ذَرٍ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ , فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ؟ حَتَّى يَسْأَلَ , فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ , فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ , وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِهِ , إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ، حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: ادْنُهْ فَمَا زَالَ، يَقُولُ: أَدْنُو مِرَارًا، وَيَقُولُ لَهُ: ادْنُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ:" الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاهُ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَالْكِتَابِ، وَالنَّبِيِّينَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ"، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، وَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا عَلَامَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُهُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا خَمْسٌ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34"، ثُمَّ قَالَ:" لَا , وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ هُدًى وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ , وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ".
ابوہریرہ اور ابوذر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان اس طرح بیٹھتے تھے کہ اجنبی آتا تو آپ کو پہچان نہیں پاتا جب تک پوچھ نہ لیتا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش ظاہر کی کہ ہم آپ کے بیٹھنے کی جگہ بنا دیں تاکہ جب کوئی اجنبی شخص آئے تو آپ کو پہچان لے، چنانچہ ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھتے تھے۔ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر بیٹھے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، جس کا چہرہ سب لوگوں سے اچھا تھا، جس کے بدن کی خوشبو سب لوگوں سے بہتر تھی، گویا کپڑوں میں میل لگا ہی نہ تھا، اس نے فرش کے کنارے سے سلام کیا اور کہا: ”السلام علیک یا محمد“ اے محمد! آپ پر سلام ہو، آپ نے سلام کا جواب دیا، وہ بولا: اے محمد! کیا میں نزدیک آؤں؟ آپ نے فرمایا: آؤ، وہ کئی بار کہتا رہا: کیا میں نزدیک آؤں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے رہے: آؤ، آؤ، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ آپ کے دونوں گھٹنوں کے اوپر رکھا۔ وہ بولا: اے محمد! مجھے بتائیے، اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز ادا کرو، زکاۃ دو، بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو“۔ وہ بولا: جب میں ایسا کرنے لگوں تو کیا میں مسلمان ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی کہ ”آپ نے سچ کہا“ تو ہمیں عجیب لگا (خود ہی سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی)۔ وہ بولا: محمد! مجھے بتائیے، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر ایمان رکھنا اور تقدیر پر ایمان لانا“، وہ بولا: کیا اگر میں نے یہ سب کر لیا تو میں مومن ہو گیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے، احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“۔ وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ سن کر آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے آنے کے متعلق سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ البتہ اس کی کچھ نشانیاں ہیں جن سے تم جان سکتے ہو: جب تم دیکھو کہ جانوروں کو چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں اور دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے زمین کے بادشاہ ہو رہے ہیں، اور دیکھو کہ غلام عورت اپنے مالک کو جنم دے رہی ہے (تو سمجھ لو کہ قیامت نزدیک ہے)، پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر آپ نے «إن اللہ عنده علم الساعة» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے“ (سورة لقمان: 34) سے لے کر «إن اللہ عليم خبير» ”اللہ علیم (ہر چیز کا جاننے والا) اور خبیر (ہر چیز کی خبر رکھنے والا) ہے“ کی تلاوت کی، پھر فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے محمد کو حق کے ساتھ ہادی و بشارت دینے والا بنا کر بھیجا، میں اس کو تم میں سے کسی شخص سے زیادہ نہیں جانتا، وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4994]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں اس طرح تشریف فرما ہوتے تھے کہ کوئی اجنبی آدمی آتا تو وہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں، حتیٰ کہ وہ (آپ کی بابت) پوچھتا، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم آپ کے بیٹھنے کے لیے مخصوص جگہ بنا دیں تاکہ اجنبی آدمی آئے تو وہ بھی آپ کو پہچان سکے۔ اجازت ملنے پر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کا ایک تھڑا بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ ایک دفعہ ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے مخصوص مقام پر تشریف فرما تھے کہ ایک انتہائی خوب صورت اور خوشبو میں بسا ہوا ایک آدمی آیا۔ اس کے کپڑوں کو ہلکا سا میل کچیل بھی نہیں لگا تھا، حتیٰ کہ اس نے نیچے بچھی ہوئی چٹائی کے کنارے کے پاس آکر سلام کہا اور کہا: اے محمد! «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا۔ اس نے کہا: اے محمد! میں قریب آ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ۔“ وہ بار بار اسی طرح کہتا رہا: اور قریب آ جاؤں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے: ”قریب آ جاؤ۔“ حتیٰ کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا: اے محمد! مجھے بتائیے: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ سمجھے، نماز قائم کرے، اور زکاۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔“ اس نے کہا: جب میں یہ کام کرلوں تو کیا میں مسلمان ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی تو ہم نے اس پر تعجب کیا (پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے)۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! فرمائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، نبیوں اور تقدیر کو دل و جان سے تسلیم کر لے۔“ اس نے کہا: جب میں یہ کام کر لوں گا تو کیا میں مومن ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر کہنے لگا: اے محمد! بتلائیے: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ وہ کہنے لگا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر وہ کہنے لگا: اے محمد! مجھے بتائیے: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا لیا اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ اس نے دوبارہ پھر وہی سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے تیسری دفعہ پھر وہی سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ لیکن قیامت کی کچھ علامات ہیں جن کے ساتھ اس کا پتا چل جائے گا، مثلاً: جب تو دیکھے کہ بکریوں بھیڑوں کے چرواہے عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا فخریہ انداز میں مقابلہ کر رہے ہیں اور ننگے پاؤں چلنے والے اور ننگے جسم رہنے والے کو زمین کا بادشاہ بنے دیکھے اور دیکھے کہ عورتیں اپنے مالک جننے لگی ہیں (تو پھر قیامت کا انتظار کر)۔ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [سورة لقمان: 34] ”اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے...“ پھر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو سچا نبی بنایا جو رہنمائی کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہے! تمھاری طرح میں بھی اس آدمی کو پہچان نہیں سکا تھا۔ (پھر معلوم ہوا کہ) وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آئے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 17 (4698)، (تحفة الأشراف: 12002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
7. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا}
باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4995
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ مُسْلِمٌ" , حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَوْ مُسْلِمٌ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو عطیہ دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے؟ تو نبی آپ نے فرمایا: ”بلکہ وہ مسلم ہے“ ۱؎، سعد رضی اللہ عنہ نے تین بار دہرایا (یعنی وہ مومن ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ہر بار) کہتے رہے: ”وہ مسلم ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض لوگوں کو عطیہ دیتا ہوں اور بعض ایسے لوگوں کو محروم کر دیتا ہوں جو مجھے ان سے زیادہ محبوب ہیں، میں اسے اس اندیشے سے انہیں دیتا ہوں کہ کہیں وہ اپنے چہروں کے بل جہنم میں نہ ڈال دیئے جائیں“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4995]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا لیکن ان میں سے ایک آدمی کو کچھ نہ دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے لیکن فلاں کو کچھ نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی صاحبِ ایمان ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بلکہ وہ) مسلمان ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی بات تین دفعہ دہرائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر دفعہ یہی فرماتے تھے: ”(بلکہ وہ) مسلمان ہے۔ پھر لوگوں کو مال دیتا ہوں جبکہ ان لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں جو مجھے زیادہ پیارے ہوتے ہیں، میں انھیں کچھ نہیں دیتا، (دیتا ہوں) اس خوف سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ گرائے جائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 19 (27)، الزکاة 53 (1478)، صحیح مسلم/الإیمان 67 (236)، الزکاة 45 (236)، سنن ابی داود/السنة 16 (4683، 4685)، (تحفة الأشراف: 3891)، مسند احمد (1/182) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ ایمان کی جگہ دل ہے اور وہ کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہو سکتا ہے اس لیے کسی کے بارے میں یقینی طور پر یہ دعویٰ کرنا کہ وہ صحیح معنوں میں مومن ہے“ جائز نہیں اس کو صرف اللہ عالم الغیوب ہی جانتا ہے، اور ”اسلام“ چونکہ ظاہری ارکان پر عمل کا نام ہے اس لیے کسی آدمی کو ”مسلم“ کہا جا سکتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ”مومن“ کی بجائے ”مسلم“ کہنے کی تلقین کی۔ ۲؎: یعنی: جن کو نہیں دیتا ہوں ان کے بارے میں یہ یقین سے جانتا ہوں کہ دینے نہ دینے سے ان کے ایمان میں کچھ فرق پڑنے والا نہیں ہے، اور جن کو دیتا ہوں ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر (تالیف قلب کے طور پر) نہ دوں تو ایمان سے پھر کر جہنم میں جا سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4996
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ قَسْمًا , فَأَعْطَى نَاسًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَمَنَعْتَ فُلَانًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، قَالَ:" لَا تَقُلْ , مُؤْمِنٌ وَقُلْ مُسْلِمٌ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا سورة الحجرات آية 14.
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم کیا تو کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مومن نہ کہو، مسلم کہو“۔ ابن شہاب زہری نے یہ آیت پڑھی: «قالت الأعراب آمنا» ۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4996]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم فرمایا، کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہ دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی مومن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن نہ کہو، مسلمان کہو۔“ ابن شہاب (زہری) نے پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا﴾ [سورة الحجرات: 14] ”دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4997
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:" أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ , وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) میں اعلان کر دیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہو گا ۱؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4997]
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، نیز یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصیام 35 (1720)، (تحفة الأشراف: 2019)، مسند احمد (3/415، 4/335)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1807) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: جنت میں پہلی مرتبہ ہی داخل ہونے کا شرف کامل ایمان والوں کو ہی حاصل ہو گا۔ ۲؎: سال کے سارے ہی دن کھانے پینے کے دن ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ خاص طور سے کھانے پینے کے دن ہیں، یعنی ایام تشریق، قربانی کے دن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
8. بَابُ: صِفَةِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کی صفات۔
حدیث نمبر: 4998
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں اطمینان رکھیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4998]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں، اور اصل مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کے بارے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان12(2627)، (تحفة الأشراف: 12864)، مسند احمد (2/379) (حسن، صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کامل مسلم وہ ہے جس کے شر و فساد سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، یہاں باب ہے ”مومن کی صفات“ اور حدیث میں ”مسلم“ کا لفظ ہے، مطلب یہ ہے کہ اسلام اگر حقیقی ہو گا تو وہ ایمان ہی کا مظہر ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح