🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ: الْفِرَارُ بِالدِّينِ مِنْ الْفِتَنِ
باب: دین بچانے کے لیے فتنوں سے بھاگنے اور دور رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5039
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ مُسْلِمٍ غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ , وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش ہونے کی جگہوں میں چلا جائے گا، وہ اس طرح فتنوں سے اپنے دین کو بچائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5039]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑی کی چوٹیوں یا بارشی علاقوں میں چلا جائے گا تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچائے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 12 (19)، بدء الخلق 15 (3300)، المناقب 25 (3600)، الرقاق 34 (6495)، سنن ابی داود/الفتن 14(4267)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (3980)، (تحفة الأشراف: 4103)، موطا امام مالک/الاستئذان 6 (16)، مسند احمد (3/6، 30، 43، 53) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: مَثَلُ الْمُنَافِقِ
باب: منافق کی مثال۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5040
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5040]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکرے کی طلب میں دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے، کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے، کبھی اس ریوڑ میں، اس کو تسلی نہیں ہوتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المنافقین 17 (2784)، (تحفة الأشراف: 8472)، مسند احمد (2/32، 47، 68، 82، 88، 102) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مِنْ مُؤْمِنٍ وَمُنَافِقٍ
باب: قرآن پڑھنے والے مومن اور منافق کی مثال۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5041
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلَا رِيحَ لَهَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کے مانند ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5041]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے، نارنگی کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی عمدہ۔ اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال کھجور جیسی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہے مگر اس میں خوشبو نہیں۔ جو منافق قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال نازبو کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے۔ اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال ایلوے کی طرح ہے؛ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہے اور خوشبو بھی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 17 (5020)، 36 (5059)، الأطعمة 30 (5427)، التوحید 57 (7560)، صحیح مسلم/المسافرین 37 (797)، سنن ابی داود/الأدب 19 (4829)، سنن الترمذی/الأمثال 4 (2865)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (214)، (تحفة الأشراف: مسند احمد (4/397، 403، 404، 408) سنن الدارمی/فضائل القرآن 8 (3406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: عَلامَةُ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کی پہچان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5042
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ"، قَالَ الْقَاضِي يَعْنِي ابْنَ الْكَسَّارِ: سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ الْبُخَارِيَّ، يَقُولُ: حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَا أَعْرِفُهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَقَطَ الْوَاوُ مِنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ الْمَشْهُورُ بِالرِّوَايَةِ، عَنْ الْبَصْرِيِّينَ وَهُوَ ثِقَةٌ، ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي حَدِيثِ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ فِي بَابِ صِفَةِ الْمُسْلِمِ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ رَوَى حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَرْفُوعَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ" بِزِيَادَةِ قَوْلِهِ:" وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا"، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ الْبَصْرِيَّ، وَهُوَ فِي هَذَا الْجُزْءِ فِي بَابِ مَا يُقَاتِلُ النَّاسَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں بن سکتا حتیٰ کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ کتاب الایمان اختتام پذیر ہوئی۔ قاضی ابن کسار کہتے ہیں کہ میں نے عبدالصمد بخاری سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ حفص بن عمر جو (حدیث: 5000 میں) عبدالرحمٰن بن مہدی سے بیان کرتے ہیں میں انہیں نہیں جانتا۔ ہاں اگر وہ حفص بن عمر الربالی ہوں جو عموماً بصریوں سے روایت کرتے ہیں تو وہ ثقہ راوی ہیں۔ قاضی کہتے ہیں کہ انہیں یہ کہتے ہوئے بھی سنا: میں نہیں جانتا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قتال کروں اور «وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا» اور انہوں نے ہمارے قبلہ کا رخ کیا کے اضافے کے ساتھ سوائے عبداللہ بن مبارک اور یحییٰ بن ایوب مصری کے کسی نے حمید الطویل سے بیان کی ہو۔ اور وہ اسی جز میں باب علی ما یقاتل الناس کے تحت گزر چکی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5019 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں