🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
باب: شراب کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5542
أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ , فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43 , فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقَامَ الصَّلَاةَ نَادَى:" لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى". فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ، فَدُعِيَ عُمَرُ , فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا.
ابومیسرہ کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل (ہونے کو) ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے (دعا میں) کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ البقرہ کی آیت نازل ہوئی ۱؎ عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں تو نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء: ۴۳)، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہتا تو زور سے پکارتا: نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں پڑھ کر یہ آیت سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اللہ! شراب کے بارے میں ہمیں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ المائدہ کی آیت نازل ہوئی ۲؎، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں سنائی گئی، جب «فهل أنتم منتهون» پر پہنچے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آئے، ہم باز آئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5542]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب کی حرمت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا» اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں واضح حکم بیان فرما۔ تو وہ آیت اتری جو سورہ بقرہ ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ [سورة البقرة: 219] میں ہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور انہیں وہ آیت سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا» اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں (مزید) واضح بیان فرما۔ پھر وہ آیت اتری جو سورہ نساء میں ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ [سورة النساء: 43] اے ایمان والو! تم نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن نماز کے قیام کے وقت یہ اعلان کرتا تھا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا» اے اللہ! شراب کے بارے میں مزید واضح حکم فرما۔ پھر وہ مائدہ والی آیت اتری (جو باب میں درج ہے) تو عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان پر پڑھی گئی۔ جب ان الفاظ تک پہنچے ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾ [سورة المائدة: 91] تو کیا تم باز آؤ گے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا» ہم رک گئے۔ ہم رک گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الًٔشربة 1 (3670)، سنن الترمذی/تفسیر سورة المائدة (3049)، (تحفة الأشراف: 10614) مسند احمد (1/53) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ارشاد باری تعالیٰ «قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهمآ أكبر من نفعهما» اے نبی! کہہ دیجئیے کہ ان دونوں (شراب اور جوا) میں بہت بڑا گناہ ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فوائد سے بڑھ کر ہے (البقرة: 219) ۲؎: یعنی: ارشاد باری تعالیٰ «إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضائ في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون» شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوا کے ذریعہ تمہارے آپس میں بغض و عداوت پیدا کر دے، اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز سے روک دے، تو کیا تم (اب بھی ان دونوں سے) باز آ جاؤ گے؟ (المائدہ: ۹۱)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3670) ترمذي (3049) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365 أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ السُّنِّيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ قَالَ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: ذِكْرِ الشَّرَابِ الَّذِي أُهْرِيقَ بِتَحْرِيمِ الْخَمْرِ
باب: شراب کی حرمت نازل ہونے پر بہائی جانے والی شراب کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5543
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ" , وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اكْفَأْهَا فَكَفَأْتُهَا، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ، قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے قبیلے میں چچا لوگوں کے پاس کھڑا ہوا تھا، میں عمر میں ان سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا: شراب حرام کر دی گئی، میں (اس وقت) کھڑے ہو کر لوگوں کو فضیخ شراب ۱؎ پلا رہا تھا، لوگوں نے کہا: اسے الٹ دو، میں نے اسے الٹ دیا۔ (سلیمان کہتے ہیں) میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ شراب کس چیز کی تھی؟ کہا: «گدر» (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کی، ابوبکر بن انس نے کہا: اس وقت یہی ان کی شراب ہوتی تھی، اس پر انس رضی اللہ عنہ نے انکار نہیں کیا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5543]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ میں اپنے قبیلے کے لوگوں کو جو میرے چچا لگتے تھے، کھڑا گدر کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ میں ان سب میں سے چھوٹا تھا۔ اتنے میں ایک آدمی نے آکر کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے بہا دے۔ میں نے وہ سب کی سب بہا دی۔ میں (سلیمان تیمی) نے حضرت انس سے پوچھا: وہ شراب کس چیز کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: وہ کچی کھجوروں (گدر) اور خشک کھجوروں کو ملا کر بنائی گئی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت ابوبکر نے کہا کہ ان دنوں لوگ کھجوروں کی شراب ہی پیتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کی تردید نہیں فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 21 (2464)، تفسیر سورة المائدة 10 (4617)، 11 (4620)، الأشربة 2، 3، 11، 21 (5580، 5582، 5584)، أخبار الآحاد 1 (7253)، صحیح مسلم/الأشربة 1 (1980)، (تحفة الأشراف: 84)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 1 (3673)، موطا امام مالک/الأشربة 5 (13)، مسند احمد (3/283، 189) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «گدر» (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کی بنی ہوئی شراب۔ ۲؎: گویا «خمر» کا اطلاق کھجور کی شراب پر بھی ہوتا ہے، اور چاہے جس چیز سے بھی بنی ہو اگر اس میں نشہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہے تو وہ «خمر» ہے کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ شراب کی تعریف یوں کرتے ہیں «الخمر ما خامر العقل» یعنی شراب ہر وہ مشروب ہے جو عقل کو ماؤوف کر دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «كل مسكر حرام» یعنی ہر نشہ پیدا کرنے والا مشروب حرام ہے، یہ سب نصوص آگے آ رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5544
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَأَبَا دُجَانَةَ , فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ، فَقَالَ: حَدَثَ خَبْرٌ:" نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ" , فَكَفَأْنَا، قَالَ: وَمَا هِيَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْفَضِيخُ خَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، قَالَ: وَقَالَ أَنَسٌ:" لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ , وَإِنَّ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کے ایک قبیلے میں ابوطلحہ، ابی بن کعب اور ابودجانہ رضی اللہ عنہم کو شراب پلا رہا تھا، اتنے میں ہمارے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: خبر ہے! شراب کی حرمت نازل ہوئی ہے، یہ سن کر ہم لوگ باز آ گئے۔ اور اس وقت شراب فضیخ ہوتی تھی جو گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کا کو ملا کر بنتی تھی۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب شراب حرام ہوئی تو اس وقت وہ عام طور پر فضیخ کی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5544]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ابوطلحہ، ابی بن کعب، ابودجانہ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں کو گدر کھجور کی شراب پلا رہا تھا کہ ہمارے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: ایک نیا حکم جاری ہوا ہے کہ شراب کی حرمت کا حکم اتر آیا ہے۔ ہم نے وہ شراب انڈیل دی، حالانکہ وہ اس دن کچی کھجوروں اور خشک کھجوروں کو ملا کر تیار کی گئی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب شراب حرام کی گئی تو اس وقت لوگوں کی عام شراب کھجوروں ہی سے تیار کردہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔئشربة 1 (180)، (تحفة الأشراف: 1190) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5545
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ , وَإِنَّهُ لَشَرَابُهُمُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شراب حرام کی گئی تو اس وقت لوگوں کی شراب گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5545]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب شراب حرام قرار دی گئی تو ان لوگوں کی شراب کچی کھجوروں اور خشک کھجوروں کو ملا کر تیار ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 714) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: اسْتِحْقَاقِ الْخَمْرِ لِشَرَابِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
باب: گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کے مشروب پر خمر (شراب) کا اطلاق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5546
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ خَمْرٌ".
جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کا مشروب خمر (شراب) ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5546]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گدر (ادھ پکی) اور خشک کھجوروں سے تیار کردہ نشہ آور مشروب «الْخَمْرُ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2583)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5547، 5548) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اگر اس میں نشہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5547
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ خَمْرٌ". رَفَعَهُ الْأَعْمَشُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) اور سوکھی کھجور کا مشروب خمر (شراب) ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اعمش نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5547]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گدر اور خشک کھجوروں سے خمر تیار ہوتی ہے۔ اعمش نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5548
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ هُوَ الْخَمْرُ".
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگور اور کھجور کا مشروب خمر (شراب) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5548]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منقی اور کھجوروں سے تیار کردہ نشہ آور مشروب خمر (شراب) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5546 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: نَهْىِ الْبَيَانِ عَنْ شُرْبِ، نَبِيذِ الْخَلِيطَيْنِ الرَّاجِعَةِ إِلَى بَيَانِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ
باب: دو چیزوں ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے بنی نبیذ پینے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5549
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بلح» ادھ کچی اور سوکھی کھجور کی اور انگور اور سوکھی کھجور (کی نبیذ) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5549]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدر اور خشک کھجور کی مشترکہ نبیذ اور منقیٰ اور کھجور کی مشترکہ نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأشربة 8 (3705)، (تحفة الأشراف: 15623)، مسند احمد (4/314) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: خَلِيطِ الْبَلَحِ وَالزَّهْوِ
باب: پکی اور گدر کھجور کے مخلوط مشروب کے ممنوع ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5550
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھی، روغنی اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بھگو کر پینے سے منع فرمایا ۱؎، اور اس بات سے کہ پکی اور کچی کھجور ملا کر نبیذ بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5550]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، مٹکے، تارکول لگے ہوئے برتن اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا ہے، اسی طرح «بَلَح» اور «زَهْو» کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔمشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 5487)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 7 (3690)، مسند احمد (1/276، 233، -234، 341)، سنن الدارمی/الأشربة14(2157)، وفي ضمن قصة وفد عبد القیس أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان 40 (53)، العلم 25 (187)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1 (1398)، الخمس 2 (3095)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4369)، الأدب 98 (6176)، الآحاد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/الإیمان 6 (17)، سنن الترمذی/الإیمان 5 (2611)، مسند احمد (1/228) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شراب کی حرمت سے پہلے ان برتنوں میں شراب بنائی جاتی تھی، جب اس کی حرمت نازل ہوئی تو ان کے اندر نبیذ بنانے سے منع کر دیا گیا کہ ایسا نہ ہو کہ سابقہ اثرات کی وجہ سے نبیذ میں نشہ آ جائے، اور جب یہ برتن خوب سوکھ گئے اور شراب کے اثرات زائل ہو گئے اور لوگوں کی شراب پینے کی عادت بھی جاتی رہی تب ان برتنوں کے اندر نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی، (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۵۶۵، اور اس کے بعد کی حدیثیں)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5551
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَزَادَ مَرَّةً أُخْرَى وَالنَّقِيرِ، وَأَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ، وَالزَّهْوُ بِالتَّمْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن دوسری بار اتنا زیادہ کیا، لکڑی کے برتن سے، اور کھجور کو انگور کے ساتھ اور کچی کھجور کو پکی کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5551]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، تارکول لگے ہوئے برتن اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن سے منع فرمایا، نیز کھجور کو منقی سے ملا کر، پکنے کے قریب کھجور کو خشک کھجور سے ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں