سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: خَلِيطِ الْبَلَحِ وَالزَّهْوِ
باب: پکی اور گدر کھجور کے مخلوط مشروب کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5552
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور اور پکی کھجور، انگور اور کھجور (کی نبیذ) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5552]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پکنے کے قریب اور خشک کھجور، نیز منقی اور خشک کھجور کی مشترکہ نبیذ کے استعمال“ سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4410)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 5 (1987)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1877)، مسند احمد (3/3، 9، 34، 49، 59، 62، 71، 90)، سنن الدارمی/الأشربة 14 (1257) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
6. بَابُ: خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ
باب: تازہ اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5553
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ التَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَلَا بَيْنَ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوکھی کھجور اور انگور کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ ہی کچی اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بناؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5553]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور اور منقیٰ اسی طرح پکنے کے قریب اور تازہ کھجور کو (نبیذ بنانے کے لیے) اکٹھا نہ کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الَٔشربة 11 (5602)، صحیح مسلم/الٔرشربة 5 (1988)، سنن ابی داود/الأشربة 8 (3704) (موقوفا ومرفوعا)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11(3397)، موطا امام مالک/الأشربة 3 (8)، مسند احمد (295، 307، 309، 310)، سنن الدارمی/الأشربة: 15 (2159)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5563، 5569، 5570) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ملانے سے ان دونوں میں تیزی سے نشہ پیدا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5554
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی اور تازہ کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ انگور اور تازہ کھجور ملا کر نبیذ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5554]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی اور تازہ کھجور کی مشترکہ نبیذ نہ بناؤ۔ اسی طرح منقیٰ اور تازہ کھجور کی مشترکہ نبیذ نہ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12137) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
7. بَابُ: خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالْبُسْرِ
باب: کچی اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5555
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ، وَأَنْ يُخْلَطَ الزَّهْوُ وَالتَّمْرُ، وَالزَّهْوُ وَالْبُسْرُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سوکھی کھجور اور انگور کو ملانے، کچی اور سوکھی کھجور کو اور کچی اور ادھ کچی کھجوروں کو ملانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5555]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور اور منقی، یا پکنے کے قریب اور خشک کھجور، یا کچی اور گدر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5552 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
8. بَابُ: خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالرُّطَبِ
باب: ادھ کچی اور تازہ کھجوروں سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5556
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَالْبُسْرِ وَالرُّطَبِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور انگور، ادھ کچی اور تازہ کھجور سے بنے مشروب سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5556]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور اور منقیٰ، نیز گدر اور تازہ کھجور کی مشترکہ نبیذ“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 11 (5601)، صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، (تحفة الأشراف: 2451)، مسند احمد (3/294، 300، 302، 317) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ان چیزوں سے بنائے گئے مشروب میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اسی طرح ان ہر دو تین چیزوں کو ملا کر مشروب بنانے کا معاملہ ہے جن کے آمیزے سے اگلی حدیثوں میں منع کیا گیا ہے، دیکھئیے باب نمبر ۱۳ اور اس میں مذکور حدیثیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5557
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ، وَلَا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگور اور سوکھی کھجور کو نہ ملاؤ اور نہ ہی ادھ کچی اور خشک کھجور کو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5557]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منقیٰ اور کھجور، اسی طرح گدر اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النساء (تحفة الٔاشراف: 2480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بطور «حصر» کے نہیں ہے کہ ”شراب صرف وہی مشروب ہے جو صرف انہی دونوں درختوں کے پھلوں سے بنے“، یہ صرف اس مشروب کا بیان ہے جو اہل مدینہ اس وقت بناتے تھے، کیونکہ ارشاد نبوی ہے «کل مسکر حرام» اور عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ و تابعین کی یہ تصریحات موجود ہیں کہ «الخمر ما خامر العقل» (دیکھئیے ابواب رقم ۲۲و ۲۳)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
9. بَابُ: خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
باب: ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5558
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور اور سوکھی کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا نیز ادھ کچی اور سوکھی کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5558]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ اسی طرح گدر اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔمشربة 5 (1986)، سنن ابی داود/الَٔشربة 8 (3703)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1876)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3395)، (تحفة الأشراف: 2478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5559
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ، وَعَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا , وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ هَجَرَ: أَنْ لَا تَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، مٹکے، تارکول ملے ہوئے برتن اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا۔ اسی طرح گدر اور خشک کھجور کو ملا کر یا منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاقہ ہجر کے لوگوں کو لکھ بھیجا تھا کہ ”منقیٰ اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الَٔشربة 5 (1990)، (تحفة الأشراف: 5478)، مسند احمد (1/33636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5560
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْبُسْرُ وَحْدَهُ حَرَامٌ وَمَعَ التَّمْرِ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ادھ کچی کھجور تنہا بھی حرام اور سوکھی کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5560]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «بُسْر» یعنی گدر کھجور اکیلی کی نبیذ بھی حرام ہے اور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6046) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا نبیذ بنانا جائز اور صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حميد الطويل مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365
10. بَابُ: خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ
باب: سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5561
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ , وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور انگور سے اور سوکھی اور ادھ کچی کھجور سے بنے مشروب سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5561]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور و منقیٰ اور خشک و گدر کھجور کی مشترکہ نبیذ“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5491) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح