سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: خَلِيطِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ
باب: سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5562
أَخْبَرَنَا قُرَيْشُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمَنِ الْبَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَنَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور انگور سے منع فرمایا ہے اور سوکھی اور ادھ کچی کھجور سے منع فرمایا کہ ان کی ایک ساتھ نبیذ بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5562]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور اور منقیٰ کو ملا کر اور خشک اور گدر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2510) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
11. بَابُ: خَلِيطِ الرُّطَبِ وَالزَّبِيبِ
باب: تازہ کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5563
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ، وَلَا تَنْبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ نہ بناؤ، اور نہ ہی تازہ کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ بناؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5563]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکنے کے قریب اور تازہ کھجور کی مشترکہ نبیذ نہ بناؤ، اور تازہ کھجور اور منقیٰ کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
12. بَابُ: خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ
باب: ادھ کچی کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5564
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا".
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کشمش اور ادھ کچی کھجور ملا کر نبیذ بنائی جائے، نیز منع فرمایا کہ ادھ کچی اور تازہ کھجور ملا کر نبیذ بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5564]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”منقیٰ اور گدر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے“ سے منع فرمایا، اسی طرح ”گدر کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے“ سے بھی منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الْٔشربة 5 (1986)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3395)، (تحفة الأشراف: 2916)، مسند احمد (3/389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
13. بَابُ: ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا نَهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ
باب: دو چیزوں سے بنی نبیذ کے ممنوع ہونے کے سبب کا بیان اس طرح کہ ایک چیز دوسری کو نشہ آور بنانے میں تقویت پہنچاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5565
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ وِقَاءِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْمَعَ شَيْئَيْنِ نَبِيذًا يَبْغِي أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ"، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفَضِيخِ؟ فَنَهَانِي عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ يَكْرَهُ الْمُذَنِّبَ مِنَ الْبُسْرِ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَا شَيْئَيْنِ فَكُنَّا نَقْطَعُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ کے لیے ایسی دو چیزوں کو ملانے سے منع فرمایا کہ ان میں سے کوئی ایک دوسری کو تیزی سے نشہ آور بناتی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فضیخ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس سے منع فرمایا۔ آپ اس ادھ کچی کھجور کو بھی ناپسند فرماتے تھے جو ایک طرف سے پکنا شروع ہو رہی ہو، اس ڈر سے کہ وہ بھی گویا دو چیزیں ہیں۔ چنانچہ ہم اسے کاٹ کر پھینک دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5565]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نبیذ میں دو چیزیں اکٹھی کرنے سے منع فرمایا ہے: ”ایک دوسری کو تیز کرے گی۔“ میں نے ان سے فضیخ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔ وہ اس گدر کھجور کی نبیذ کو ناپسند کرتے تھے جو ایک طرف سے پک چکی ہو، اس خطرے سے کہ وہ دو قسم کا پھل ہے، تو ہم اس کی ایک جانب کاٹ دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1583) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جتنا حصہ پک جاتا اس کو نکال کر پھینک دیتے اور باقی حصے کی نبیذ بنا لیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5566
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ:" أُتِيَ بِبُسْرٍ مُذَنِّبٍ فَجَعَلَ يَقْطَعُهُ مِنْهُ".
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا ان کے پاس ایسی ادھ کچی کھجور لائی گئی جو ایک طرف سے پک رہی تھی، وہ اس میں سے اسے (پکے ہوئے حصے کو) کاٹ کر پھینکنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5566]
حضرت ابو ادریس سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گدر کھجور لائی گئی جو ایک طرف سے پک چکی تھی۔ آپ اس کے پکے ہوئے سرے کو کاٹنے لگے (تاکہ ایک حصے سے نبیذ بنائی جائے نہ دونوں سے)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1711) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5567
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ أَنَسٌ:" يَأْمُرُ بِالتَّذْنُوبِ فَيُقْرَضُ".
قتادہ کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمیں ایک طرف سے پکی ہوئی کھجور کے بارے میں کاٹ کر پھینکنے کا حکم دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5567]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں ایک طرف سے پکی ہوئی گدر کھجور لانے کا حکم دیتے، پھر اس کا وہ سرا کاٹ دیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سعيد بن أبى عروبة مدلس و لم يصرح بالسماع،وقتادة أيضًا لم يصرح بالسماع. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365
حدیث نمبر: 5568
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ شَيْئًا قَدْ أَرْطَبَ إِلَّا عَزَلَهُ عَنْ فَضِيخِهِ".
حمید سے روایت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جس قدر کھجور کا حصہ پک چکا ہوتا اسے فضیخ سے نکال پھینکتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5568]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کھجور کے پکے ہوئے حصے کو نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ (نبیذ بنانے کے لیے) گدر حصے سے الگ کر دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 715) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: فضیخ ادھ کچی کھجور کے نبیذ کو بھی بولتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
14. بَابُ: التَّرَخُّصِ فِي انْتِبَاذِ الْبُسْرِ وَحْدَهُ وَشُرْبِهِ قَبْلَ تَغَيُّرِهِ فِي فَضِيخِهِ
باب: صرف ادھ کچی کھجور کو بھگونے اور جب تک اس میں تبدیلی نہ ہو اس کی نبیذ پینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5569
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا الْبُسْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچی کھجور اور پکی کھجور کی ایک ساتھ نبیذ نہ بناؤ اور نہ ہی ادھ کچی کھجور اور انگور کی ایک ساتھ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بھگوؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5569]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکنے کے قریب اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ، (اسی طرح) گدر کھجور اور منقیٰ کو بھی نہ ملاؤ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5553 (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
15. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الاِنْتِبَاذِ فِي الأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا
باب: دھاگے سے منہ بند مشکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5570
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ، وَخَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ"، وَقَالَ:" لِتَنْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور سوکھی کھجور سے اور ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”تم ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بھگویا کرو ان مشکوں میں جن کے منہ دھاگے سے بندھے ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5570]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے کے قریب اور خشک کھجور کی مشترکہ نبیذ اور (اسی طرح) گدر اور خشک کھجور کی مشترکہ نبیذ سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ ان مشکیزوں میں بناؤ جن کا منہ باندھا جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
16. بَابُ: التَّرَخُّصِ فِي انْتِبَاذِ التَّمْرِ وَحْدَهُ
باب: صرف سوکھی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5571
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْلَطَ بُسْرٌ بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٌ بِتَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٌ بِبُسْرٍ" , وَقَالَ:" مَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُ فَرْدًا تَمْرًا فَرْدًا، أَوْ بُسْرًا فَرْدًا، أَوْ زَبِيبًا فَرْدًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھ کچی کھجور کو سوکھی کھجور میں ملانے، یا کشمش (خشک انگور) کو سوکھی کھجور میں، یا کشمش کو ادھ کچی کھجور میں ملانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”جو شخص تم میں سے پینا چاہے تو ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پیے، سوکھی کھجور الگ یا ادھ کچی کھجور الگ یا کشمش (خشک انگور) الگ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5571]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدر (نیم پختہ) کھجور کو خشک کھجور کے ساتھ ملا کر یا منقیٰ کو خشک کھجور کے ساتھ ملا کر یا منقیٰ کو گدر کھجور سے ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے نبیذ پینا چاہے، وہ ان میں سے ایک چیز کی نبیذ پیے: صرف خشک کھجور کی یا صرف گدر کھجور کی یا صرف منقیٰ کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، (تحفة الأشراف: 4254) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم