سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الْعَصِيرِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سا رس (شیرہ) پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
حدیث نمبر: 5732
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ؟ , فَقَالَ:" اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا" , قَالَ: إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ , قَالَ:" أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ".
ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا: میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5732]
حضرت ابو ثابت ثعلبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب تک وہ تازہ ہو، تم پی سکتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے ایک مشروب کو آگ پر پکایا ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں اطمینان نہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیا اس کو پکانے سے پہلے تو اسے پی سکتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: پھر آگ تو کسی حرام چیز کو حلال نہیں کر سکتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5369) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5733
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ:" وَاللَّهِ , مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ" , قَالَ: ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ: لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ.
عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اللہ کی قسم! آگ کسی (حرام) چیز کو حلال نہیں کرتی، اور نہ ہی کسی (حلال) چیز کو حرام کرتی ہے“ پھر آپ نے اپنے اس قول ”آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرتی“ کی شرح میں یہ کہا کہ یہ رد ہے طلاء کے سلسلے میں بعض لوگوں کے قول کا ۱؎ کہ ”آگ جس کو چھولے اس سے وضو واجب ہو جاتا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5733]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: اللہ کی قسم! آگ نہ کسی چیز کو حلال کر سکتی ہے نہ حرام۔ پھر حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس قول کی تفسیر بیان کی کہ لوگ کہتے ہیں نشہ آور مشروب کو آگ پر پکا کر طلاء بنا لیا جائے تو وہ حلال ہو جاتا ہے (حالانکہ یہ ممکن نہیں)۔ آگ کسی چیز کو حلال نہیں کر سکتی ہے۔ جس طرح آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا مسئلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5932) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: وہ قول یہ ہے ”آگ سے طلاء حلال ہو جاتا ہے“ یعنی: طلاء کا دد تہائی جب جل جائے اور ایک ثلث باقی رہ جائے تو یہ آخری تہائی حلال ہے۔ ۲؎: یہ تردید اس طرح ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ آگ سے پکنے سے پہلے کوئی چیز حلال تھی اور پکنے کے بعد وہ حرام ہو گئی، تو یہ ماننا پڑے گا کہ آگ بھی کسی چیز کو حلال اور حرام کرتی ہے، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اس تشریح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ «الوضوء مما مست النار» کا جملہ حدیث نمبر ۵۷۳۳ کا «تتمہ» ہے، نہ کہ کوئی مستقل باب کا عنوان، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے (سندھی اور حاشیہ نظامیہ میں اس پر انتباہ موجود ہے، نیز: اگر اس جملے کو ایک مستقل باب مانتے ہیں تو اس میں مذکور آثار (نمبر ۵۷۳۴ تا ۵۷۳۷) کا اس باب سے کوئی تعلق بھی نظر نہیں آتا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5734
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ:" اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شیرہ (رس) پیو، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5734]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انگوروں کا جوس اس وقت تک پی سکتے ہو جب تک اس میں جھاگ پیدا نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18744) (صحیح الٕاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن شهاب الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5735
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عَائِذٍ الْأَسَدِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْعَصِيرِ , قَالَ:" اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ".
ہشام بن عائذ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے شیرے (رس) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے پیو، جب تک کہ ابل کر بدل جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5735]
حضرت ہشام بن عائذ اسدی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ سے انگوروں کے جوس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب تک اس میں جوش اور تغیر رونما نہ ہو تو اسے پی سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18424) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5736
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَصِيرِ , قَالَ:" اشْرَبْهُ حَتَّى يَغْلِيَ".
عطا سے شیرے (رس) کے بارے میں کہتے ہیں: پیو، جب تک اس میں جھاگ نہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5736]
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے انگوروں کے جوس کے بارے میں فرمایا: جوش اور جھاگ پیدا ہونے سے پہلے اسے پی سکتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 19055) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5737
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ:" اشْرَبْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا أَنْ يَغْلِيَ".
شعبی کہتے ہیں کہ اسے (رس) تین دن تک پیو سوائے اس کے کہ اس میں جھاگ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5737]
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جوس کو تین دن تک بھی پیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں جوش اور جھاگ پیدا نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18858) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
56. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5738
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ فَيْرُوزَ , قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَصْحَابُ كَرْمٍ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ , فَمَاذَا نَصْنَعُ؟ قَالَ:" تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا" , قُلْتُ: فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا؟ قَالَ:" تُنْقِعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ , وَتُنْقِعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ" , قُلْتُ: أَفَلَا نُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ؟ قَالَ:" لَا تَجْعَلُوهُ فِي الْقُلَلِ وَاجْعَلُوهُ فِي الشِّنَانِ , فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا".
عبداللہ دیلمی کے والد فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم انگور والے لوگ ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرما دی ہے، اب ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے سکھا کر منقیٰ بنا لو“۔ میں نے کہا: تب ہم منقیٰ کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے صبح کے وقت بھگوؤ دو اور شام کو پیو، اور شام کو بھگوؤ صبح کو پیو“۔ میں نے کہا: دیر تک نہ رہنے دیں یہاں تک کہ اس میں تیزی آ جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے گھڑوں میں مت رکھو بلکہ چمڑے کی مشک میں رکھو اس لیے کہ اگر اس میں زیادہ دیر تک رہا تو وہ (مشروب) سرکہ بن جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5738]
حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاقے میں انگور بہت ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کا حکم نازل فرما دیا ہے، ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے منقیٰ بنا لو۔“ میں نے عرض کی: منقیٰ کو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کے وقت پی لیا کرو۔“ میں نے کہا: ہم اس کو زیادہ دیر تک نہ پڑا رہنے دیں کہ وہ گاڑھا ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹکوں میں ڈال کر نہ رکھو بلکہ چمڑے کے مشکیزوں میں رکھو کیونکہ ان میں زیادہ دیر بھی پڑا رہا تو سرکہ بن جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔلشربة 10(3710)، (تحفة الٔاشراف: 11062)، مسند احمد (4/232) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس باب میں (بشمول باب ۵۷) جو احادیث و آثار مذکور ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کچھ مشروبات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کسی مرحلہ میں ان میں نشہ نہیں ہوتا اور کسی مرحلہ میں ہو جاتا ہے، تو جب مرحلہ میں نشہ نہیں ہوتا اس کا پینا حلال ہے، اور جب نشہ پیدا ہو جائے تو خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں کم مقدار میں پینے سے خواہ نشہ آئے یا نہ آئے اس کا پینا حرام ہے۔ «الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5739
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرِ بْنِ النَّحَّاسِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا فَمَاذَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ:" زَبِّبُوهَا" , قُلْنَا: فَمَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ:" انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ , وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقِلَالِ فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلًّا".
فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے انگور کے باغات ہیں ہم ان کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کا منقیٰ اور کشمش بنا لو“، ہم نے عرض کیا: پھر منقے اور کشمش کا کیا کریں، آپ نے فرمایا: ”صبح کو بھگاؤ اور شام کو پی لو، اور شام کو بھگاؤ صبح کو پی لو، اور اسے مشکیزوں میں بھگاؤ، گھڑوں میں نہ بھگانا، اس لیے کہ اگر اس میں وہ (مشروب) دیر تک رہ گیا تو سرکہ بن جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5739]
حضرت دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں انگور بہت ہوتے ہیں، ہم ان کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو منقیٰ بنا لو۔“ ہم نے کہا: پھر منقیٰ کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کے وقت نبیذ بنا لیا کرو اور شام کے کھانے کے ساتھ پی لیا کرو، لیکن نبیذ چمڑے کے مشکیزوں میں بناؤ، مٹکوں میں نہ بناؤ کیونکہ مشکیزوں میں اگر دیر تک بھی پڑا رہا تو وہ سرکہ بن جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5740
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ , فَإِنْ بَقِيَ فِي الْإِنَاءِ شَيْءٌ لَمْ يَشْرَبُوهُ أُهَرِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تھی، آپ اسے دوسرے دن اور تیسرے دن پیتے ۱؎، جب تیسرے دن کی شام ہوتی اور اگر اس میں سے کچھ برتن میں بچ گئی ہوتی تو اسے نہیں پیتے بلکہ بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5740]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنایا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اگلے دن یا اس سے اگلے دن پی لیتے تھے۔ جب تیسری رات کی شام ہو جاتی تو اگر برتن میں کچھ رہتا جو ابھی تک پیا نہ جا سکا ہوتا تو اسے بہا دیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 12 (3399)، (تحفة الأشراف: 11062)، مسند احمد (1/232، 240، 287) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہم نبیذ تیار کرتے جسے آپ ایک دن اور رات تک پیتے، تو یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے معارض نہیں ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں اس سے زیادہ مدت تک پینے کی نفی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5741
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن تک پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5741]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقیٰ پانی میں بھگویا جاتا تو آپ اسے اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن پی لیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن