سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5742
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ , وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ , أَهْرَاقَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد کے (تیسرے) دن پیتے، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے (کسی کو) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5742]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منقیٰ کی نبیذ رات کو بنائی جاتی، آپ اسے مشکیزے میں بناتے، پھر اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن تک پیتے رہتے، جب تیسری رات ہوتی تو اسے پی لیتے یا کسی کو پلا دیتے اور اگر صبح تک کچھ بچی رہتی تو اسے بہا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5740 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5743
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً , وَكَانَ يَغْسِلُ الْأَسْقِيَةَ وَلَا يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلَا شَيْئًا" , قَالَ نَافِعٌ: فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں: ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5743]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعلق روایت ہے کہ ان کے لیے صبح کے وقت مشکیزے میں منقی بھگویا جاتا تو رات کو پی لیتے اور شام کے وقت بھگویا جاتا تو دن کو پی لیتے۔ آپ مشکیزوں کو اچھی طرح دھویا کرتے تھے اور تلچھٹ وغیرہ کوئی چیز اس میں نہیں ڈالتے تھے۔ حضرت نافع (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مولیٰ اور شاگرد) نے فرمایا کہ ہم اس کو «نَبِيذ» ”نبیذ“ پیتے تھے تو وہ شہد جیسی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7938) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5744
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ بَسَّامٍ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّبِيذِ؟ قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَيُنْبَذُ لَهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ".
بسام کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے نبیذ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: علی بن حسین کے لیے رات کو نبیذ تیار کی جاتی تو وہ صبح کو پیتے، اور صبح کو تیار کی جاتی تو رات کو پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5744]
حضرت بسام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو جعفر (باقر) رحمہ اللہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: والد (محترم) حضرت علی بن حسین (زین العابدین) رحمہ اللہ کے لیے رات کے وقت نبیذ بنائی جاتی تو اسے دن کو پی لیتے اور دن کے وقت بنائی جاتی تو اسے رات کو پی لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19135) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5745
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ؟ , قَالَ:" انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً".
عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے سنا: ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا؟ انہوں نے کہا: شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5745]
حضرت عبداللہ (بن مبارک) رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت سفیان (ثوری) رحمہ اللہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے انہیں فرماتے سنا کہ رات کو نبیذ بنا اور صبح پی لے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18773) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5746
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ , أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَرْسَلَتْ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ , فَحَدَّثَهَا , عَنْ النَّضْرِ ابْنِهِ:" أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ فِي جَرٍّ يُنْبَذُ غَدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً".
ابوعثمان (جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں) سے روایت ہے کہ ام الفضل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5746]
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے اپنے بیٹے نضر کے بارے میں بیان فرمایا کہ وہ مٹکے میں نبیذ بناتا ہے، صبح نبیذ بناتا ہے تو شام کو پی لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1722) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”ابو عثمان‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو عثمان: مجهول (التحرير: 8240) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5747
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5747]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ سابقہ نبیذ کی تلچھٹ کو نئی نبیذ میں شامل کیا جائے تاکہ اس میں تیزی پیدا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18724) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5748
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّهُ قَالَ:" فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا: نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: نبیذ میں تلچھٹ شامل کی جائے تو وہ شراب بن جاتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18702) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
حدیث نمبر: 5749
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا , وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہو جاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5749]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: شراب کو شراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسے رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب صاف صاف (جوس) ختم ہو جاتا ہے اور نیچے میل کچیل اور تلچھٹ باقی رہ جاتی ہے (تو اسے استعمال کیا جاتا ہے، اسی لیے) وہ ہر اس نبیذ کو ناپسند فرماتے تھے جس میں تلچھٹ شامل کی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18723) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
57. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي النَّبِيذِ
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5750
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: سلف کا مسلک یہ تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اسے نشہ محسوس ہو تو اس کے لیے اسے دوبارہ پینا جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5751
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ پختہ نبیذ (شیرے) میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18426) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري و مغيرة عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369