سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلاَءِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
حدیث نمبر: 5722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدًا: مَا الشَّرَابُ الَّذِي أَحَلَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ , قَالَ:" الَّذِي يُطْبَخُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ".
داود کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے پوچھا: وہ کون سا مشروب ہے جسے عمر رضی اللہ عنہ نے حلال قرار دیا؟ وہ بولے: جو اس قدر پکایا جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہو جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5722]
حضرت داود رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ وہ کون سا مشروب تھا جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حلال قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ جسے اتنا پکایا جائے کہ وہ دو تہائی خشک ہو جائے اور ایک تہائی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18701) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5723
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ" كَانَ يَشْرَبُ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ایسا مشروب پیتے جو دو تہائی جل کر ختم ہو گیا ہو اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5723]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ وہ طلاء پیتے تھے جس میں سے دو تہائی خشک ہو چکا ہوتا اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 10936) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5724
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هُشَيْمٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ:" أَنَّهُ كَانَ يَشْرَبُ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایسا طلاء پیتے تھے جس کا دو تہائی جل کر ختم ہو گیا ہو اور ایک تہائی باقی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5724]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ایسا طلاء پیتے تھے جس میں سے دو تہائی خشک ہو چکا ہوتا اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 9027) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إسماعيل بن أبى خالد مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5725
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , وَسَأَلَهُ أَعْرَابِيٌّ عَنْ شَرَابٍ يُطْبَخُ عَلَى النِّصْفِ؟ , فَقَالَ:" لَا , حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى الثُّلُثُ".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو پکا کر آدھا رہ گیا ہو، انہوں نے کہا: نہیں، جب تک دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5725]
حضرت یعلیٰ بن عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جو نصف خشک ہوچکا ہو؟ تو میں نے ان کو فرماتے سنا: نہیں، حتیٰ کہ دو تہائی خشک ہوجائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18758) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. والحديث الآتي (الأصل: 5726) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5726
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مَعْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ:" إِذَا طُبِخَ الطِّلَاءُ عَلَى الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِهِ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جب طلاء جل کر ایک تہائی رہ جائے تو اسے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5726]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جب «الطِّلَاءُ» اس طرح پکایا گیا ہو کہ ایک تہائی رہ جائے تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18754) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5727
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ , قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ الطِّلَاءِ الْمُنَصَّفِ؟ , فَقَالَ:" لَا تَشْرَبْهُ".
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے اس طلاء کے بارے میں پوچھا جو جل کر نصف رہ گیا ہو، تو انہوں نے کہا: اسے مت پیو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5727]
حضرت ابورجاء رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے اس طلاء کے بارے میں پوچھا جس میں سے نصف خشک ہو چکا ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: اسے مت پی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5728
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ: عَمَّا يُطْبَخُ مِنَ الْعَصِيرِ؟ قَالَ:" مَا تَطْبُخُهُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّلُثَانِ وَيَبْقَى الثُّلُثُ".
بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے پوچھا: شیرہ (رس) کس قدر پکایا جائے۔ انہوں نے کہا: اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5728]
بشیر بن مہاجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے انگوروں کے پکے ہوئے جوس کے بارے میں پوچھا کہ کون سا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: جسے اتنا پکایا جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18503) (حسن الإسناد مقطوع)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5729
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ:" إِنَّ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازَعَهُ الشَّيْطَانُ فِي عُودِ الْكَرْمِ , فَقَالَ: هَذَا لِي , وَقَالَ: هَذَا لِي , فَاصْطَلَحَا عَلَى أَنَّ لِنُوحٍ ثُلُثَهَا , وَلِلشَّيْطَانِ ثُلُثَيْهَا".
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نوح علیہ السلام سے شیطان نے انگور کے پودے کے بارے میں جھگڑا کیا، اس نے کہا: یہ میرا ہے، انہوں نے کہا: یہ میرا ہے، پھر دونوں میں صلح ہوئی اس پر کہ نوح علیہ السلام کا ایک تہائی ہے اور شیطان کا دو تہائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5729]
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے شیطان نے انگور کی بیل کے بارے میں جھگڑا کیا۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ میری ہے۔“ شیطان نے کہا: ”یہ میری ہے۔“ آخر دونوں نے اس بات پر صلح کر لی کہ ایک تہائی حضرت نوح علیہ السلام کی ہو گی اور دو تہائی شیطان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 237) (حسن الإسناد) (یہ اثر اسرائیلیات سے قریب ہے)»
وضاحت: ۱؎: اسی طرف عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ تھا۔ (دیکھئیے نمبر ۵۷۲۰)
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد موقوف وهو بالإسرائيليات أشبه
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5730
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ طُفَيْلٍ الْجَزَرِيِّ , قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" أَنْ لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ , وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5730]
عبدالملک بن طفیل جزری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ہمیں لکھا کہ طلاء نہ پیو حتیٰ کہ اس میں دو تہائی خشک ہو جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ اور (یاد رکھو) ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ (خواہ وہ طلاء ہی ہو)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5603 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں، لیکن اس معنی کی پچھلی اگلی روایات صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، تقدم (5603) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
حدیث نمبر: 5731
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ بُرْدٍ , عَنْ مَكْحُولٍ , قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
مکحول کہتے ہیں: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5731]
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 19460) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع غير أن المتن صحيح موصولا
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح