🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ: ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5702
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر (شراب) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5702]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8397) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف وصح عنه مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5703
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کی ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5703]
حضرت عبداللہ (ابن عمر) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور (یاد رکھو) ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7019) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5704
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ , وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ , وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْكَالِهِ جَمَاعَةٌ , وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ لوگ ثقہ اور عادل ہیں اور روایت کی صحت میں مشہور ہیں۔ اور عبدالملک ان میں سے کسی ایک کے بھی برابر نہیں، گرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے کچھ اور لوگ بھی کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5704]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور مشروب شراب ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ لوگ (ان چھ روایات کے راوی) انتہائی قابل اعتبار اور ثقہ و عادل ہیں اور وہ صحیح روایات بیان کرنے میں مشہور ہیں جبکہ عبدالمالک بن نافع (جواز والی روایت کا راوی) کسی بھی لحاظ سے ان میں سے کسی ایک کا بھی ہم پلہ نہیں، خواہ اس جیسے کئی راوی ایک ساتھ مل کر جائیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5590 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5705
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ , قَالَتْ:" كُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ , فَكَانَ" يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ , فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ , ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ , وَيُلْقَى عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ , وَيُجْعَلُ فِيهِ مَاءٌ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ , حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ" , وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو.
رقیہ بنت عمرو بن سعید کہتی ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی پرورش میں تھی، ان کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، پھر وہ اسے صبح کو پیتے تھے، پھر کشمش لی جاتی اور اس میں کچھ اور کشمش ڈال دی جاتی اور اس میں پانی ملا دیا جاتا، پھر وہ اسے دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن وہ اسے پھینک دیتے۔ «واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو» ان لوگوں نے ابومسعود عقبہ بن عمرو کی حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5705]
حضرت رقیہ بنت عمرو بن سعید رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر پرورش پائی ہے۔ آپ کے لیے منقیٰ پانی میں ڈالا جاتا، آپ اگلی صبح اس پانی کو پی لیتے اور منقیٰ خشک کر لیا جاتا۔ پھر ان میں اور منقیٰ ملا کر مزید پانی ڈال دیا جاتا، اسے آپ اگلے دن پی لیتے۔ اس کے بعد اس منقیٰ کو پھینک دیتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی آئندہ روایات سے بھی استدلال کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8602) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، رقية بنت عمرو بن سعيد: مجهولة (التحرير: 8587) وعبيد اﷲ بن عمر السعيدي البصري مقبول (تقريب: 4326) أى مجهول الحال. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5706
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ , فَاسْتَسْقَى , فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ , فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ , فَقَالَ:" عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ" فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ , فَقَالَ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ:" لَا". وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ , لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ , وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے پاس پیاسے ہو گئے، تو آپ نے پانی طلب کیا۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا (ناپسندیدگی کا اظہار کیا) فرمایا: ”میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ“، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہ ضعیف ہے، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5706]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے پیاس لگ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشکیزے میں سے نبیذ لائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سونگھا تو تیوری چڑھائی اور فرمایا: ”میرے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی اس میں ڈالا اور نوش فرما لیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور (امام نسائی رحمہ اللہ نے) فرمایا: یہ حدیث بھی ضعیف ہے کیونکہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے صرف یحییٰ بن یمان ہی اس کو بیان کرتا ہے، لیکن اس کا حافظہ خراب تھا اور وہ بہت غلطیاں کرتا تھا، اس لیے اس کی بیان کردہ روایت قابلِ حجت نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9980) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کر دی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5707
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَ يَصُومُهَا , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ , فَلَمَّا كَانَ الْمَسَاءُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَكَ بِهَذَا النَّبِيذِ , فَقَالَ:" أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" , فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ , فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ , فَقَالَ:" خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ , فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ". وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
خالد بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تونبی میں نبیذ بنائی، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے قریب لاؤ“، چنانچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر“۔ «ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه» ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5707]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں روزے رکھا کرتے ہیں، اس لیے میں نے کدو کے برتن میں نبیذ بنا کر آپ کی افطاری کے لیے الگ رکھ چھوڑی۔ جب شام ہوئی تو میں اسے اٹھائے آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے علم تھا کہ آج آپ روزے سے ہیں تو میں نے یہ نبیذ آپ کی افطاری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! یہ میرے پاس لاؤ۔“ میں نے وہ آپ کو پیش کی تو وہ ابل رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے پکڑو اور دیوار پر دے مار۔ یہ تو ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔“ ان لوگوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے (آئندہ مذکور) فعل سے بھی استدلال کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5613 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5708
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ , فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ".
ابورافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تمہیں نبیذ میں تیزی آ جانے کا اندیشہ ہو، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو، عبداللہ (راوی) کہتے ہیں: اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5708]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تمہیں نبیذ میں تیزی اور جوش کا خطرہ ہو تو اس کی تیزی کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ (راوی حدیث) عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا (یعنی) اس کی تیزی سے پہلے (پانی ملاؤ۔ تیزی کے بعد نہیں کیونکہ پھر تو نشہ پیدا ہو چکا)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10660) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابو حفص مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو حفص: مجهول (تقريب: 8056) ومع ذلك حسنه ابن كثير فى مسند الفاروق (2/ 515،516)! انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5709
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , يَقُولُ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ , فَدَعَا بِهِ , فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ , فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ , فَقَالَ:" هَكَذَا فَافْعَلُوا".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ثقیف کے لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5709]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنو ثقیف نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مشروب پیش کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے منگوا کر جب اسے منہ کے قریب کیا تو اسے ناپسند فرمایا، پھر پانی ملا کر اس کی تیزی توڑی اور فرمایا: اس قسم کے مشروب کو ایسے کر لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10452) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سعید بن المسیب نے عمر رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ , قَالَ:" كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ" , وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ.
عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ نبیذ جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیا کرتے تھے، وہ سرکہ ہوتا تھا ۱؎۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5710]
حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جو نبیذ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نوش فرمایا کرتے تھے وہ سرکہ کی طرح ترش ہوتا تھا۔ اس روایت کی صحت پر حضرت سائب رضی اللہ عنہ کی آئندہ روایت بھی دلالت کرتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10603) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: پچھلی روایات میں عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ آپ نے اس مشروب کے پینے پر منہ بنایا تھا، پھر پانی کے ذریعہ اس کے نشہ کو ختم کر کے پی گئے، کیونکہ آپ نے تو نشہ نہ آنے پر بھی اپنے بیٹے عبیداللہ پر شراب پینے کی حد لگائی تو خود کیسے نشہ آور مشروب کا نشہ پانی سے ختم کر کے اس کو پی لیا؟
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إسماعيل بن أبى خالد عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5711
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ , وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ , فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ" , فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا.
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے اور بولے: مجھے فلاں سے کسی شراب کی بو آ رہی ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کا شراب ہے اور میں پوچھ رہا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے۔ اگر وہ کوئی نشہ لانے والی چیز ہے تو اسے کوڑے لگاؤں گا، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے پوری پوری حد لگائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5711]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے فلاں شخص سے شراب کی بو محسوس کی ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کی شراب ہے۔ میں اس کے بارے میں پوچھ گچھ کروں گا، اگر وہ طلاء نشہ آور ثابت ہوا تو میں اس پر حد لگاؤں گا۔ پھر (تحقیق کے بعد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر پوری حد لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 10443) (صحیح الٕاسناد)»
وضاحت: ۱؎: عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اگرچہ عبیداللہ کو نشہ نہیں آیا ہے، لیکن اگر اس نے کوئی نشہ لانے والی چیز پی ہو گی تو میں اس پر بھی اس کو حد کے کوڑے لگواؤں گا، اس لیے طحاوی وغیرہ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ نشہ لانے والی مشروب کی وہ حد حرام ہے جو نشہ لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں