🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ: ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5692
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ , وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ , وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ , وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ , اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ , أَوْ زَبِيبٍ , أَوْ غَيْرِهِ".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی «قسی» میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید «قسی» میں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ (ابن عباس) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا: تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو جائے اس سے بچو (خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5692]
حضرت عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں علاقہ خراسان سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہمارا علاقہ سخت ٹھنڈا ہے۔ (سردی کا توڑ کرنے کے لیے) ہم منقیٰ اور انگور وغیرہ سے مشروب تیار کرتے ہیں جسے ہم پیتے ہیں۔ مجھے اس کی (حلت و حرمت) کے بارے میں اشکال ہے۔ پھر اس نے اور کئی قسم کے مشروب بھی ذکر کیے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں نہیں سمجھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو نے بڑی لمبی چوڑی باتیں کی ہیں، (ضابطے کی بات یاد رکھ کہ) ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کر خواہ وہ کھجور سے تیار ہو یا منقیٰ سے یا کسی اور پھل سے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5815) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" نَبِيذُ الْبُسْرِ بَحْتٌ لَا يَحِلُّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5693]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گدر کھجور کی نبیذ حرام ہے، قطعاً حلال نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5442) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ , قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , فَنَهَى عَنْهُ , قُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ , إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا , فَأَشْرَبُ مِنْهُ , فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي , قَالَ:" لَا تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ".
ابوجمرہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عربی سے ناواقف لوگوں کے درمیان ترجمہ کر رہا تھا، اتنے میں ان کے پاس ایک عورت لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھنے آئی تو انہوں نے اس سے منع کیا، میں نے عرض کیا: ابوعباس! میں ایک سبز لاکھی میں میٹھی نبیذ تیار کرتا اور اسے پیتا ہوں، اس سے میرے پیٹ میں ریاح بنتی ہے، انہوں نے کہا: اسے مت پیو اگرچہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5694]
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں (سائلین) کے درمیان ترجمانی کا فریضہ انجام دیا کرتا تھا۔ ایک عورت ان کے پاس آئی اور مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھنے لگی۔ انہوں نے اسے اس سے منع فرمایا۔ میں نے کہا: اے ابو عباس! میں سبز روغنی مٹکے میں میٹھی نبیذ بناتا ہوں، پھر اس میں سے پیتا ہوں تو میرے پیٹ میں گڑگڑ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نبیذ مت پیو، اگرچہ وہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6534) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ”ابوعباس“ یعنی آپ کے سب سے بڑے لڑکے کا نام ”عباس“ تھا، انہی کے نام سے آپ کی کنیت ”ابوعباس“ تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5695
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ , قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا , إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ , فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا , وَلَا النَّادِمِينَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ , وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ , فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ , دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا , قَالَ:" آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ , وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟" , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَإِقَامُ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ , وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ , وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ , وَالْحَنْتَمِ , وَالْمُزَفَّتِ".
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ (گھروں پر) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ وہ لوگ بولے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
حضرت ابو جمرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میری دادی میرے لیے ایک مٹکے میں نبیذ بناتی ہیں، میں اسے پیتا ہوں تو وہ بالکل میٹھی ہوتی ہے لیکن اگر میں اسے زیادہ مقدار میں پی لوں، پھر لوگوں میں جا بیٹھوں تو مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ میں (کوئی نامناسب بات کر کے) کہیں رسوا نہ ہو جاؤں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: قبیلہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش آمدید اس وفد کو جو نہ رسوا ہوئے اور نہ نادم۔“ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان مشرکین حائل ہیں، ہم حرمت کے مہینوں کے علاوہ آپ تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا ہمیں کوئی ایسی جامع بات بتائیں جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اس کی طرف لوگوں کو بھی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟“ انہوں نے کہا: «اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ» ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور یہ کہ تم غنیمت سے خمس (پانچواں حصہ) حکومت کو دو، اور میں تمہیں چار چیزوں سے منع کرتا ہوں: اس نبیذ سے جو «الدُّبَّاءِ» ”کدو کے برتن“، «النَّقِيرِ» ”کھجور کی جڑ کے برتن“، «الْحَنْتَمِ» ”روغنی مٹکے“ اور «الْمُزَفَّتِ» ”تارکول لگے ہوئے برتن“ میں بنائی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5034 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5696
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْنانَ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , قُلْتُ: إِنَّ لِي جُرَيْرَةً أَنْتَبِذُ فِيهَا حَتَّى إِذَا غَلَى وَسَكَنَ شَرِبْتُهُ , قَالَ:" مُذْ كَمْ هَذَا شَرَابُكَ؟" , قُلْتُ: مُذْ عِشْرُونَ سَنَةً , أَوْ قَالَ: مُذْ أَرْبَعُونَ سَنَةً , قَالَ:" طَالَمَا تَرَوَّتْ عُرُوقُكَ مِنَ الْخَبَثِ وَمِمَّا اعْتَلُّوا بِهِ". حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میرے پاس ایک گھڑا ہے، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں، انہوں نے کہا: تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو؟ میں نے کہا: بیس سال سے، یا کہا: چالیس سال سے، بولے: عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں۔ «ومما اعتلوا به حديث عبد الملك بن نافع عن عبداللہ بن عمر» تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5696]
(تھوڑی شراب کو جائز کہنے والے) ان لوگوں نے عبدالملک بن نافع کی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی روایت (5697) سے بھی استدلال کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6334) (ضعیف) (اس کے راوی ”قیس“ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا معنی صحیح احادیث سے ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قيس بن وهبان (هبار): مجهول (التحرير: 5595) وثقه ابن حبان وحده. وسليمان التيمي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا , فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَقَالَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ" , فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ , فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ".
عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی۔ آپ رکن (حجر اسود) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے، آپ نے اسے لوٹا دیا، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بلاؤ اس شخص کو“، اس کو بلایا گیا، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا۔ پھر فرمایا: ”جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5697]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے دیکھا: کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیالہ لے کر آیا، اس میں نبیذ تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکن کے پاس تھے، اس نے پیالہ آپ کو پکڑا دیا، آپ نے اسے اپنے منہ مبارک کی طرف بڑھایا تو آپ نے اسے تلخ محسوس کیا اور اسے واپس کر دیا، لوگوں میں سے ایک آدمی نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس (پیالے والے) آدمی کو میرے پاس لاؤ۔“ اسے لایا گیا تو آپ نے اس سے پیالہ پکڑا، پھر کچھ پانی منگوا کر اس میں ڈالا، پھر اسے اپنے دہن مبارک کی طرف بڑھایا لیکن پھر تیوری سی چڑھائی، پھر اور پانی منگوایا اور اس میں ڈالا، پھر فرمایا: ”جب ان برتنوں کی نبیذ میں نشہ اور تلخی پیدا ہونے لگے تو اس کی تیزی کو پانی سے توڑ لیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7303) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن نافع: مجهول (تقريب: 4224) وضعفه ابن معين وغيره وضعفه راجح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَر , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ , وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5698]
(ایک دوسری سند سے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت نقل فرمائی ہے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ اس روایت کا راوی عبدالملک بن نافع مشہور نہیں اور نہ اس کی حدیث قابل احتجاج ہے، جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول مشہور روایات اس روایت کے خلاف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن نافع: مجهول (تقريب: 4224) وضعفه ابن معين وغيره وضعفه راجح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5699
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ؟ , فَقَالَ:" اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5699]
حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چند مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہر جوش والے مشروب سے پرہیز کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6742) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ؟ , فَقَالَ:" اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ".
زید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5700]
حضرت زید بن جبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چند مشروبات کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ہر نشہ آور مشروب سے دور رہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5701
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" الْمُسْكِرُ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نشہ لانے والی چیز خواہ کم ہو (جو نشہ نہ لائے) یا زیادہ حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5701]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نشہ آور چیز تھوڑی بھی حرام ہے اور زیادہ بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7437) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان التيمي عنعن. والحديث الآتي (الأصل: 5702) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں