🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ: تَحْرِيمِ كُلِّ شَرَابٍ أَسْكَرَ
باب: نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5602
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5602]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے (مشروب ہو یا مطعوم)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19307) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5603
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثَهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کے دو حصے (جل کر) ختم نہ ہو جائیں اور ایک حصہ باقی رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5603]
حضرت عبدالملک بن طفیل جزری سے منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (خلیفہ راشد) نے ہمیں لکھا کہ طلاء نہ پیو حتیٰ کہ دو تہائی خشک ہو کر ایک تہائی رہ جائے ”اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19152)، ویأتي عند المؤلف: 5730) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”عبدالملک“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: طلاء: وہ شراب ہے، جسے آگ پر رکھ کر جوش دیا جائے یہاں تک کہ وہ گاڑھی ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث الآتي (5730) عبدالملك بن الطفيل الجزري: مجهول (التحرير: 4188) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5604
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5604]
حضرت صعق بن حزن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ کو لکھا کہ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5605
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5605]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5600 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: تَفْسِيرِ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ
باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5606
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ:" وَمَا هِيَ؟" قُلْتُ: الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ؟"، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ , وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا , فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا کیا ہیں؟“ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر»، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کر دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف (مبلغ اور امیر بنا کر) بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کئی قسم کے مشروب استعمال ہوتے ہیں، میں ان میں سے کون سا پیوں، کون سا ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثلاً: ”وہ کون کون سے ہیں؟“ میں نے کہا: «الْبِتْعُ» ”بتع“ اور «الْمِزْرُ» ”مزر“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہوتے ہیں؟“ میں نے کہا: «الْبِتْعُ» ”بتع“ تو شہد کی نبیذ ہوتی ہے اور «الْمِزْرُ» ”مزر“ مکئی کی نبیذ ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نشہ آور مشروب نہ پینا کیونکہ میں ہر نشہ آور مشروب کو حرام قرار دے چکا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9142) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5607
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ؟"، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
حضرت ابو بردہ کے والد محترم (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یمن میں کئی قسم کے مشروب ہیں جنہیں بتع اور مزر کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتع اور مزر کیا ہیں؟“ میں نے عرض کیا: بتع تو ایسا مشروب ہے جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے اور مزر جو سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، (تحفة الأشراف: 9095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5608
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ آيَةَ الْخَمْرِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الْمِزْرَ؟، قَالَ:" وَمَا الْمِزْرُ؟"، قَالَ: حَبَّةٌ تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ:" تُسْكِرُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو خمر (شراب) والی آیت کا ذکر کیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «مزر» نامی مشروب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «مزر» کیا ہوتا ہے؟“ وہ بولا: جَو کی شراب جو یمن میں بنائی جاتی ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟“ جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5608]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو شراب (کی حرمت) والی آیت پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! «الْمِزْرُ» ”مزر“ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْمِزْرُ» کیا ہوتا ہے؟“ اس نے کہا: یمن میں غلے کی کسی قسم سے تیار کیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں نشہ ہوتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 7107) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5609
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ؟ فَقَالَ:" سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ".
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا: ہمیں بادہ ۱؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5609]
حضرت ابو الجویریہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: باذق کے بارے میں فتویٰ دیجیے، انہوں نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق سے پہلے تشریف لے گئے اور (یاد رکھو) ”جو چیز نشہ آور ہے، حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔبشربة 10(5598)، (تحفة الأشراف: 5410)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5690 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «باذق» فارسی کے لفظ «بادہ» کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے: ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: تَحْرِيمِ كُلِّ شَرَابٍ أَسْكَرَ كَثِيرُهُ
باب: جس مشروب کو زیادہ پینے سے نشہ آ جائے اس کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5610
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ , فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آ جائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مشروب کا زیادہ پینا نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا پینا بھی حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الٔجشربة 10 (3394)، (تحفة الأشراف: 8760)، مسند احمد (2/167، 179) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5611
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکتا ہوں، جس کے زیادہ پی لینے سے نشہ آ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5611]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھیں وہ چیز معمولی سی پینے سے بھی روکتا ہوں جسے زیادہ پینے سے نشہ آتا ہے (اور کم پینے سے نشہ نہیں ہوتا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 3871) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں