Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب مَا جَاءَ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ
باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220M
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا، فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ قَتِيلٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.
اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچی تھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2220M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19508) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ نَحْوَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ، يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے۔ شریک نے اپنے استاذ کا نام عبداللہ بن عصم بیان کیا ہے، جب کہ اسرائیل نے عبداللہ بن عصمہ بیان کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2220M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 2220 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح

45. باب مَا جَاءَ فِي الْقَرْنِ الثَّالِثِ
باب: خیر کے تین عہد اور زمانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ، يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَلِيَّ بْنَ مُدْرِكٍ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشھادات 9 (2651)، و فضائل الصحابة 1 (3650)، والرقاق 7 (6428)، والأیمان 7 (6695)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2535)، سنن ابی داود/ السنة 10 (4657)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 29 (2302) (تحفة الأشراف: 10866)، و مسند احمد (4/426، 427، 436، 440) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ لوگ دین و ایمان کی فکر سے خالی ہوں گے، کسی کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف ان کے دلوں میں باقی نہیں رہے گا، اور عیش و آرام کی زندگی کی مستیاں لے رہے ہوں گے، اس لیے موٹاپا ان میں عام ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1840)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221M
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے بھی عمران بن حصین سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ میرے نزدیک محمد بن فضیل کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2221M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1840)

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ "، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ ذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، " ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے، عمران بن حصین کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں، پھر اس کے بعدا یسے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 10824) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1840)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب مَا جَاءَ فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا "، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي، فَقَالَ: " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ امیر (خلیفہ) ہوں گے، پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جسے میں نہیں سمجھ سکا، لہٰذا میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا: یہ بارہ کے بارہ (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1075)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223M
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
اس سند سے بھی جابر بن سمرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر بن سمرہ سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے،
۲- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، جابر بن سمرہ سے ابوبکر بن ابوموسیٰ کی روایت کی وجہ سے غریب ہے،
۳- اس باب میں ابن مسعود اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2223M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج (م): انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 2209) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1075)

47. باب مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ
باب: حاکم کی توہین اللہ کی اہانت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَقَالَ أَبُو بِلَالٍ: انْظُرُوا إِلَى أَمِيرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ رضی الله عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ رضی الله عنہ نے کہا: خاموش رہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان (حاکم) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11674) (حسن) (سند میں ”زیاد بن کسیب“ لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابو بکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے: الصحیحة رقم: 2297، تراجع الالبانی 223)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2296)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. باب مَا جَاءَ فِي الْخِلاَفَةِ
باب: خلافت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ، قَالَ: " إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ، وَإِنْ لَمْ أَسْتَخْلِفْ لَمْ يَسْتَخْلِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا گیا: کاش! آپ کسی کو خلیفہ نامزد کر دیتے، انہوں نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر رضی الله عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور اگر کسی کو خلیفہ نہ مقرر کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ نہیں مقرر کیا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ۲؎،
۲- یہ حدیث صحیح ہے، اور کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 51 (7218)، صحیح مسلم/الإمارة 2 (1823)، سنن ابی داود/ الخراج الإمارة 8 (2939) (تحفة الأشراف: 10521)، و مسند احمد (1/43) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر میں کسی کو خلافت کے لیے نامزد کر دوں تو اپنے پیش رو کی اقتداء میں ایسا ہو سکتا ہے، اور اگر نہ مقرر کروں تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا۔
۲؎: یہ قصہ صحیح مسلم میں کتاب الإمارہ کے شروع میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (2605)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: وَخِلَافَةَ عُمَرَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ، قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، قَالَا: لَمْ يَعْهَدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ.
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ السنة 9 (4646، 4647) (تحفة الأشراف: 4480)، و مسند احمد (5/221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسند احمد میں سفینہ رضی الله عنہ سے ہر خلیفہ کے دور کی تصریح موجود ہے، اس تصریح کے مطابق ابوبکر رضی الله عنہ کی مدت خلافت دو سال، عمر رضی الله عنہ کی دس سال، عثمان رضی الله عنہ کی بارہ سال اور علی رضی الله عنہ کی چھ سال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں