🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب مَا جَاءَ أَنَّ الْخُلَفَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، يَقُولُ: كَانَ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَتَنْتَهِيَنَّ قُرَيْشٌ، أَوْ لَيَجْعَلَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنَ الْعَرَبِ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: كَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن ابی ہذیل کہتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے پاس تھے، قبیلہ بکر بن وائل کے ایک آدمی نے کہا: قریش باز رہیں ۱؎، ورنہ اللہ تعالیٰ خلافت کو ان کے علاوہ جمہور عرب میں کر دے گا، عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے کہا: تم جھوٹ اور غلط کہہ رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش قیامت تک خیر (اسلام) و شر (جاہلیت) میں لوگوں کے حاکم ہیں“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10736) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی فسق و فجور سے قریش باز رہیں۔
۲؎: یعنی زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں قریش حاکم و خلیفہ ہیں، اور قیامت تک خلافت انہیں میں باقی رہنی چاہیئے، یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم نہیں مانا، جیسے دوسرے فرمان رسول کو نہیں مان رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1155)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب
باب: جہجاہ نامی غلام کی حکمرانی کے بارے میں پیش گوئی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، يُقَالُ لَهُ: جَهْجَاهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے (یعنی قیامت نہیں آئے گی) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 18 (2911) (تحفة الأشراف: 14267)، و مسند احمد (2/329) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2441)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب مَا جَاءَ فِي الأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ " فَقَالَ عَلِيٌّ: هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں“ ۱؎، نیز فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی“ ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 1 (10) (تحفة الأشراف: 2102)، و مسند احمد (5/279) (کلہم بالشطر الثاني فحسب) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (4 / 110 و 1957)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب مَا جَاءَ فِي الْمَهْدِيِّ
باب: مہدی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ المھدي 1 (4282) (تحفة الأشراف: 9208) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، المشكاة (5452) ، فضائل الشام ص (16) ، الروض النضير (647)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَلِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي "، قَالَ عَاصِمٌ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَلِيَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا حکومت کرے گا“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کر لے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح انظر ما قبله (2230)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب مِنْهُ
باب: مہدی سے متعلق ایک اور باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ تِسْعًا "، زَيْدٌ الشَّاكُّ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: " سِنِينَ "، قَالَ: " فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ، أَعْطِنِي أَعْطِنِي، قَالَ: فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، (اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے“، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ اس آدمی کے کپڑے میں (دینار و درہم) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 24 (4083) (تحفة الأشراف: 3976) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (4083)
قال الشيخ زبير على زئي:(2232) إسناده ضعيف / جه 4083
زيد العمي: ضعيف (تقدم: 1442)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب مَا جَاءَ فِي نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 102 (2222)، والمظالم 31 (2476)، والأنبیاء 49 (3448)، صحیح مسلم/الأیمان 70 (155)، سنن ابن ماجہ/الفتن 33 (4078) (تحفة الأشراف: 13228)، و مسند احمد (2/230، 272، 394، 482، 538) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ دیگر انبیاء کو چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اس نزول سے یہود کے اس زعم کو کہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے، باطل کرنا مقصود ہے، چنانچہ نزول عیسیٰ سے ان کے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4078)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ
باب: دجال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ، إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ " فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ، قَالَ: " مِثْلُهَا "، يَعْنِي الْيَوْمَ أَوْ خَيْرٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جُزَيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، لَا أَعْرِفُهُ إِلا مِنْ حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَدَّادِ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عِبْدُ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ.
ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پا لیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”آج کی طرح یا اس سے بہتر“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ السنة 29 (4756) (تحفة الأشراف: 5046) (ضعیف) (سند میں ”عبد اللہ بن سراقہ“ کا سماع ”ابو عبیدہ رضی الله عنہ“ سے نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (5486 / التحقيق الثاني) //، ضعيف أبي داود (1019 / 4756) //

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ الدَّجَّالِ
باب: دجال کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ لِلنَّاسِ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ: " تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ، وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں“، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے (اس دن) آپ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ”ک، ف، ر“ لکھا ہو گا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 178 (3057)، وأحادیث الأنبیاء 3 (3337)، والمغازي 77 (4402)، والأدب 97 (6175)، والفتن 26 (7127)، صحیح مسلم/الفتن 19 (2931)، سنن ابی داود/ السنة 29 (4757) (تحفة الأشراف: 6932)، و مسند احمد (2/135، 149) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دجال دنیا میں ربوبیت کا دعویدار ہو گا اور ساتھ ہی کانا بھی ہو گا، جب کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ کو کوئی مرنے سے قبل دنیا میں نہیں دیکھ سکتا، وہ ہر عیب سے پاک ہے، دجال کے کفر سے وہی لوگ آگاہ ہوں گے جو اس کے عمل سے بےزار ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6961) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیگر احادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں