سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب مِنْهُ
باب: کچھ اور پیشین گوئیاں۔
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (دشمنوں پر) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2257]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 9359) (ویأتي الجزء الأخیر منہ برقم: 2659) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1383) ، وانظر الحديث (2809)
71. باب مِنْهُ
باب: سمندر کی موج کی طرح کے فتنے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَمَّادٍ، وَعَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، سمعوا أبا وائل، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، قَالَ حُذَيْفَةُ: " فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ عُمَرُ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، وَلَكِنْ عَنِ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ عُمَرُ: أَيُفْتَحُ أَمْ يُكْسَرُ؟ قَالَ: بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: إِذًا لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: فَقُلْتُ لِمَسْرُوقٍ: سَلْ حُذَيْفَةَ عَنِ الْبَابِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حذیفہ رضی الله عنہ نے بیان کیا: ”آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہو گا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں“ ۱؎، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر رضی الله عنہ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2258]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 4 (525)، والزکاة 23 (1435)، والصوم 3 (1895)، والمناقب 25 (3586)، والفتن 17 (7096)، صحیح مسلم/الإیمان 65 (144)، والفتن 7 (144/26)، سنن ابن ماجہ/الفتن 9 (3555) (تحفة الأشراف: 3337)، و مسند احمد (5/386 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ گھر کی ذمہ داری سنبھالنے والے سے اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلہ میں ادائے حقوق کے ناحیہ سے جو کوتاہیاں ہو جاتی ہیں تو نماز، روزہ، صدقہ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر وغیرہ یہ سب کے سب ان کے لیے کفارہ بنتے ہیں۔ ۲؎: حذیفہ رضی الله عنہ نے جو کچھ بیان کیا عمر رضی الله عنہ کی شہادت کے بعد حقیقت میں اسی طرح پیش آیا، یعنی فتنوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا، اور امن وامان نام کی کوئی چیز دنیا میں باقی نہیں رہی، چنانچہ ہر کوئی سکون و اطمینان کا متلاشی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3555)
72. باب مِنْهُ
باب: خراب حاکم سے متعلق پیش گوئی۔
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ، وَأَرْبَعَةٌ، أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: اسْمَعُوا، " هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے،
۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259]
۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے،
۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیعة 35 (4212)، و 36 (4213) (تحفة الأشراف: 11110)، و مسند احمد (4/243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)
حدیث نمبر: 2259M
قَالَ هَارُونُ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ہارون کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبدالوہاب نے «عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن كعب بن عجرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)
حدیث نمبر: 2259M
قَالَ هَارُونُ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْسَ بِالنَّخَعِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مِسْعَرٍ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَابْنِ عُمَرَ.
ہارون کہتے ہیں کہ ہم ہم سے محمد نے «عن سفيان عن زبيد عن إبراهيم وليس بالنخعي عن كعب بن عجرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مسعر کی حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے، اور ابراہیم سے مراد ابراہیم نخعی نہیں ہیں۔ اس باب میں حذیفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2259M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 11106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مضى بزيادة فى متنه (617)
73. باب مِنْهُ
باب: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر جمے رہنا ہاتھ میں چنگاری رکھنے کی طرح ہو گا۔
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ الْكُوفِيِّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعُمَرُ بْنُ شَاكِرٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، قَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2260]
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1107) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہاتھ پر آگ کا انگارہ رکھنے والا بے انتہا مشقت و تکلیف برداشت کرتا ہے اسی طرح اس زمانے میں اپنے دین کی حفاظت اسی وقت ممکن ہو گی جب ثبات قدمی اور صبر عظیم سے کام لیا جائے گا، کیونکہ دین پر قائم رہنے والا ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا جیسے چنگاری کو ہاتھ پر رکھنے والا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (957)
قال الشيخ زبير على زئي:(2260) إسناده ضعيف
عمر بن شاكر ضعيف ( تق: 4917) والحديث الآتي (الأصل :3058) يغني عنه
عمر بن شاكر ضعيف ( تق: 4917) والحديث الآتي (الأصل :3058) يغني عنه
74. باب مِنْهُ
باب: برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطِيَاءِ وَخَدَمَهَا أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ سُلِّطَ شِرَارُهَا عَلَى خِيَارِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2261]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7252) (صحیح) (سند میں موسی بن عبیدہ، ضعیف ہیں اگلی سند کی متابعت سے یہ حدیث بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (957)
قال الشيخ زبير على زئي:(2261) إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة ضعيف (تقدم: 1122) وروي ابن حبان فى صحيحه (الإحسان : 6716/6681) عن خولة بنت قيس بن قهد أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا مشت أمتي المطيطاء و خدمتهم فارس والروم سلّط بعضهم على بعض“ وسنده حسن لذاته وهو يغني عن هذا الحديث
موسي بن عبيدة ضعيف (تقدم: 1122) وروي ابن حبان فى صحيحه (الإحسان : 6716/6681) عن خولة بنت قيس بن قهد أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا مشت أمتي المطيطاء و خدمتهم فارس والروم سلّط بعضهم على بعض“ وسنده حسن لذاته وهو يغني عن هذا الحديث
حدیث نمبر: 2261M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَا يُعْرَفُ لِحَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصْلٌ، إِنَّمَا الْمَعْرُوفُ حَدِيثُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ ابومعاویہ کی حدیث جس کی سند یوں ہے «عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اس کی کوئی اصل نہیں ہے، موسیٰ بن عبیدہ کی حدیث (روایت) ہی معروف ہے،
۲- مالک بن انس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے اور اس کی سند میں «عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2261M]
۲- مالک بن انس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے اور اس کی سند میں «عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2261M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 7260) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (957)
75. باب مِنْهُ
باب: جس قوم کی حکمراں عورت ہو گی وہ کامیابی سے ہرگز ہم کنار نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ: مَنِ اسْتَخْلَفُوا؟ قَالُوا: ابْنَتَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً "، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ، يَعْنِي الْبَصْرَةَ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا“، جب عائشہ رضی الله عنہا آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2262]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 82 (4425)، والتفن 18 (7099)، سنن النسائی/آداب القضاة 8 (5390) (تحفة الأشراف: 11660)، و مسند احمد (5/38، 378) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی، عثمان رضی الله عنہ جب شہید کر دیے گئے اور علی رضی الله عنہ کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کر لی، پھر طلحہ اور زبیر رضی الله عنہما مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ رضی الله عنہا سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں، پھر ان سب کی رائے متفق ہو گئی کہ عثمان رضی الله عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں، علی رضی الله عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2456)
76. باب مِنْهُ
باب: اچھے اور برے کی پہچان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟ " قَالَ: فَسَكَتُوا، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون (بےخوف) نہ رہا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2263]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14076)، وانظر مسند احمد (2/368، 378) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4993)