🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ:
باب: بازاروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بازار میں تھے۔ کہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا۔ (کیونکہ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہی تھی) اس پر اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اس کو بلایا تھا۔ (یعنی ایک دوسرے شخص کو جو ابوالقاسم ہی کنیت رکھتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت تم اپنے لیے نہ رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2120]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بازار میں تھے تو ایک شخص نے «أَبُو الْقَاسِمِ» اے ابوالقاسم! کہہ کر آواز دی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا کہ میں نے تو اس شخص کو بلایا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، دَعَا رَجُلٌ بِالبَقِيعِ:" يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ، قَالَ: سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے بقیع میں (کسی کو) پکارا اے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا۔ اس دوسرے آدمی کو پکارا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2121]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نے بقیع میں «أَبَا الْقَاسِمِ» ابو القاسم کہہ کر پکارا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میرا مقصد آپ کو بلانا نہیں تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ، لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَجَلَسَ بِفِنَاءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ، أَثَمَّ لُكَعُ، فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تُلْبِسُهُ سِخَابًا أَوْ تُغَسِّلُهُ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ"، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن یزید نے ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصہ میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر (واپس ہوئے اور) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا، وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا (کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا، پھر فرمایا اے اللہ؟! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔ سفیان نے کہا کہ عبیداللہ نے مجھے خبر دی، انہوں نے نافع بن جبیر کو دیکھا کہ انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک ہی رکعت پڑھی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2122]
حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت ایک طرف نکلے مگر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے تھے اور نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتا تھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قینقاع کے بازار میں پہنچ گئے۔ (پھر واپس ہوئے) اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان کے صحن میں بیٹھ گئے تو فرمایا: کیا یہاں کوئی بچہ ہے؟ کیا ادھر کوئی ننھا ہے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے کچھ دیر کے لیے روکے رکھا۔ میں نے خیال کیا کہ وہ انہیں ہار وغیرہ پہنا رہی ہیں یا اسے نہلا رہی ہیں۔ پھر وہ (حضرت حسن رضی اللہ عنہ) دوڑتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گلے لگایا اور ان سے پیار کیا، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» اے اللہ! تو اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اسے بھی اپنا محبوب بنا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْهِمْ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَبِيعُوهُ، حَيْثُ اشْتَرَوْهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ، حَيْثُ يُبَاعُ الطَّعَامُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ قافلوں سے خریدتے تھے تو آپ ان کے پاس کوئی آدمی بھیج کر وہیں پر جہاں انہوں نے غلہ خریدا ہوتا۔ اس غلے کو بیچنے سے منع فرما دیتے اور اسے وہاں سے لا کر بیچنے کا حکم ہوتا جہاں عام طور پر غلہ بکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2123]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اہل قافلہ سے غلہ خرید لیتے، آپ اس کی روک تھام کے لیے کسی ایسے شخص کو ان کے پاس بھیج دیتے جو ان کو خریداری کی جگہ غلہ بیچنے سے منع کرتا یہاں تک کہ وہ اسے منڈی میں پہنچا دیں جہاں غلہ فروخت ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2124
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الطَّعَامُ إِذَا اشْتَرَاهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
کہا کہ ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری طرح اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2124]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کرتے تھے کہ غلہ جس وقت خریدا جائے اسی وقت وہیں فروخت کر دیا جائے، یہاں تک کہ اس پر پورا پورا قبضہ نہ کر لیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ كَرَاهِيَةِ السَّخَبِ فِي السُّوقِ:
باب: بازار میں شور و غل مچانا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ:" أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ؟ قَالَ: أَجَلْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ، يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ، إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا"، تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِلَالٍ، وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ، غُلْفٌ كُلُّ شَيْءٍ فِي غِلَافٍ سَيْفٌ أَغْلَفُ، وَقَوْسٌ غَلْفَاءُ، وَرَجُلٌ أَغْلَفُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُونًا.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ اے نبی! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخو ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، (اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ) وہ (میرا بندہ اور رسول) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرا لے، یعنی لوگ «لا إله إلا الله» نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ اس حدیث کی متابعت عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال سے کی ہے۔ اور سعید نے بیان کیا کہ ان سے ہلال نے، ان سے عطاء نے کہ «غلف» ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پردے میں ہو۔ «سيف أغلف،‏‏‏‏ وقوس غلفاء» اسی سے ہے اور «رجل أغلف» اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2125]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفت تورات میں ہے، مجھے اس سے مطلع کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ کی بعض صفات تورات میں وہی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ (قرآن کریم کی طرح تورات میں بھی اس قسم کا مضمون ہے) ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 45] اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یقیناً ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، ڈرانے والا اور «الْأُمِّيِّينَ» اُمیوں کی نگہبانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بدخلق ہے اور نہ سنگ دل، نہ تو بازاروں میں شور و شغب کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی ہی سے دیتا ہے بلکہ درگزر اور مہربانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک ہرگز موت سے دوچار نہیں کرے گا، جب تک کہ اس کے ذریعے سے ایک کج رو (ٹیڑھی) قوم کو سیدھا نہ کر دے بایں طور کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہنے لگیں اور اس کے ذریعے سے نابینا آنکھیں بینا ہو جائیں اور بہرے کان کھول دیے جائیں اور بستہ دل آگاہ کیے جائیں۔ عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے ہلال سے روایت کرنے میں فلیح کی متابعت کی ہے اور سعید نے ہلال سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ابن سلام سے اسے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ الْكَيْلِ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي:
باب: ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے (خریدار پر نہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2126
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ} يَعْنِي كَالُوا لَهُمْ وَوَزَنُوا لَهُمْ كَقَوْلِهِ: {يَسْمَعُونَكُمْ} يَسْمَعُونَ لَكُمْ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا» . وَيُذْكَرُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِذَا بِعْتَ فَكِلْ، وَإِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلْ» .
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وإذا كالوهم أو وزنوهم يخسرون‏» جب وہ انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم کر دیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بیچنے والے خریدنے والوں کے لیے ناپتے اور وزن کرتے ہیں۔ جیسے دوسری آیت میں کلمہ «يسمعونكم‏» سے مراد ہے «يسمعون لكم‏.‏» ہے۔ ویسے ہی اس آیت میں «كالوهم» سے مراد «كالوا لهم» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور ناپ لو اور اپنے اونٹ کی قیمت پوری بھر لو۔ اور عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جب تو کوئی چیز بیچا کرے تو ناپ کے دیا کر اور جب کوئی چیز خریدے تو اسے بھی نپوا لیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2126]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص کسی قسم کا غلہ خریدے تو جب تک اس پر پوری طرح قبضہ نہ کر لے، اسے نہ بیچے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2126]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اس وقت تک اسے فروخت نہ کرے جب تک اس کو پوری طرح قبضے میں نہ لے لے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ، فَطَلَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَفْعَلُوا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعَذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَيَّ، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ، أَوْ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ قَالَ: كِلْ لِلْقَوْمِ، فَكِلْتُهُمْ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمُ الَّذِي لَهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي، كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ"، وَقَالَ فِرَاسٌ: عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يَكِيلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّاهُ، وَقَالَ هِشَامٌ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جُذَّ لَهُ فَأَوْفِ لَهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ (میرے باپ) شہید ہو گئے تو ان کے ذمے (لوگوں کا) کچھ قرض باقی تھا۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوشش کی کہ قرض خواہ کچھ اپنے قرضوں کو معاف کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی چاہا، لیکن وہ نہیں مانے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اپنی تمام کھجور کی قسموں کو الگ الگ کر لو۔ عجوہ (ایک خاص قسم کی کھجور) کو الگ رکھ اور عذق زید (کھجور کی ایک قسم) کو الگ کر۔ پھر مجھے بلا بھیج۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا بیچ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اب ان قرض خواہوں کو ناپ کر دو۔ میں نے ناپنا شروع کیا۔ جتنا قرض لوگوں کا تھا۔ میں نے سب کو ادا کر دیا، پھر بھی تمام کھجور جوں کی توں تھی۔ اس میں سے ایک دانہ برابر کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ فراس نے بیان کیا کہ ان سے شعبی نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ برابر ان کے لیے تولتے رہے، یہاں تک کہ ان کا پورا قرض ادا ہو گیا۔ اور ہشام نے کہا، ان سے وہب نے، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھجور توڑ اور اپنا قرض پورا ادا کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2127]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (میرے والد) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما نے جب وفات پائی تو ان پر کچھ قرض تھا، لہٰذا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرائی کہ قرض خواہ کچھ معاف کر دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ان لوگوں سے سفارش کی لیکن انہوں نے اسے منظور نہ کیا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جاؤ اپنی کھجوروں کو چھانٹ کر ہر قسم علیحدہ علیحدہ کر لو۔ «عَجْوَة» اور «عَذْقُ ابْنِ زَيْدٍ» الگ الگ کر کے مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ میں نے یہی کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے (کسی کو) بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجوروں کے ڈھیر پر یا اس کے درمیان بیٹھ گئے۔ پھر مجھے فرمایا: قرض خواہوں کو ناپ ناپ کر دو۔ میں نے ناپ کر سب کے حصے پورے کر دیے، پھر بھی اس قدر کھجوریں باقی رہیں جیسے ان سے کچھ بھی کم نہ ہوا ہو۔ فراس نے امام شعبی رحمہ اللہ سے بیان کیا، انہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ) ان کے لیے کھجوریں ماپتے رہے یہاں تک کہ قرض ادا کر دیا۔ حضرت ہشام رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوریں توڑ کر ان کا قرض ادا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَيْلِ:
باب: اناج کا ناپ تول کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے غلے کو ناپ لیا کرو۔ اس میں تمہیں برکت ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2128]
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا غلہ ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت دی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں