سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بدشگونی لینا منع ہے
ترقیم الباني: 2161 ترقیم فقہی: -- 218
-" لن يلج الدرجات العلى من تكهن أو تكهن له، أو رجع من سفر تطيرا".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کہانت کی، یا جس کے لیے کی گئی یا جو بدشگونی لیتے ہوئے سفر سے واپس آ گیا وہ اعلی درجات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 218]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2161
ترقیم الباني: 787 ترقیم فقہی: -- 219
-" لا عدوى ولا طيرة وأحب الفأل الصالح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ فال بد کوئی چیز ہے البتہ مجھے نیک فال پسند ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 219]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 787
ترقیم الباني: 2195 ترقیم فقہی: -- 220
-" ليس منا من تطير أو تطير له، أو تكهن أو تكهن له، أو سحر أو سحر له".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل کا چھلہ دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کمزوری کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: اگر اس چھلے کو پہنے ہوئے تجھے موت آ گئی تو تجھے اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے برا شگون لیا یا اس کے لیے برا شگون لیا گیا یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 220]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2195
ترقیم الباني: 2650 ترقیم فقہی: -- 221
-" ليس منا من سحر (أو سحر له) أو تكهن أو تكهن له أو تطير أو تطير له".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے خود جادو کیا یا اس کے لیے جادو کیا گیا، یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے بدفال لی یا جس کے لیے بدفال لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 221]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2650
کوئی بیماری متعدی نہیں ہے «صفر» اور «غول» کی حقیقت
ترقیم الباني: 785 ترقیم فقہی: -- 222
-" لا عدوى ولا صفر ولا هامة".
سیدنا سائب بن یزید بن اخت نمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ ہی صفر کچھ ہے اور نہ الو (وغیرہ کی نفع و نقصان میں کوئی حقیقت ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 222]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 785
ترقیم الباني: 787 ترقیم فقہی: -- 223
-" لا عدوى ولا طيرة وأحب الفأل الصالح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ فال بد کوئی چیز ہے، البتہ مجھے نیک فال پسند ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 223]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 787
ترقیم الباني: 788 ترقیم فقہی: -- 224
-" لا عدوى ولا طيرة وإنما الشؤم في ثلاثة: المرأة والفرس والدار".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ فال بد کوئی چیز ہے اور تین چیزوں میں بدشگونی (یا نحوست) ہوتی ہے: بیوی، گھوڑا اور گھر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 224]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 788
ترقیم الباني: 781 ترقیم فقہی: -- 225
-" لا عدوى ولا طيرة والعين حق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ برے شگون کی کوئی حقیقت ہے اور نظر لگنا حق ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 225]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 781
ترقیم الباني: 782 ترقیم فقہی: -- 226
-" لا عدوى ولا طيرة ولا صفر ولا هامة، فقال أعرابي: ما بال الإبل تكون في الرمل كأنها الظباء فيخالطها بعير أجرب فيجربها؟ قال: فمن أعدى الأول؟".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں اور نہ ہی بدشگونی ہے اور صفر کا مہینہ منحوس ہے نہ ہی الو (کی کوئی حقیقت ہے)۔“ ایک بدو نے کہا: تو پھر ایک اونٹ جب ریت میں ہرن کی طرح چل رہا ہوتا ہے (یعنی صحت مند ہوتا ہے)، لیکن جب خارشی اونٹ اس سے خلط ملظ ہوتا ہے تو اسے بھی خارش لگ جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اچھا یہ بتلاؤ کہ) پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 226]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 782
ترقیم الباني: 784 ترقیم فقہی: -- 227
-" لا عدوى ولا طيرة ولا غول".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ فال بد کی کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی غول ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 227]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 784