سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
کوئی بیماری متعدی نہیں ہے «صفر» اور «غول» کی حقیقت
ترقیم الباني: 789 ترقیم فقہی: -- 228
-" لا عدوى ولا طيرة ولا هام إن تكن الطيرة في شيء ففي الفرس والمرأة والدار، وإذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تهبطوا، وإذا كان بأرض وأنتم بها فلا تفروا منه".
سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے بارے میں پوچھا: انہوں نے مجھے جھڑک دیا اور کہا: تجھے یہ کس نے بیان کیا؟ میں نے ناپسند کیا کہ بیان کرنے والے کا نام بتاؤں۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ کوئی بدفال ہے اور نہ الو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے، اگر بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، بیوی اور گھر میں ہوتی۔ جب تم سنو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم اسی علاقہ میں ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 228]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 789
ترقیم الباني: 783 ترقیم فقہی: -- 229
-" لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر وفر من المجذوم كما تفر من الأسد".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ کوئی فال بد ہے، نہ الو کے بولنے کا اثر ہے اور نہ کوئی صفر ہے اور کوڑھی سے اس طرح بھاگ جس طرح شیر (سے بچنے کے لیے) بھاگتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 229]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 783
ترقیم الباني: 786 ترقیم فقہی: -- 230
-" لا عدوى ولا طيرة ويعجبني الفأل الصالح، الكلمة الحسنة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ کوئی بدفال کی حقیقت ہے، البتہ مجھے نیک فال یعنی (حوصلہ دلانے والی) اچھی بات پسند ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 230]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 786
ترقیم الباني: 780 ترقیم فقہی: -- 231
-" لا عدوى ولا هامة ولا صفر، واتقوا المجذوم كما يتقى الأسد".
ابوزناد کہتے ہیں: مجھے صحابہ کرام کے پسندیدہ، قناعت پسند بیٹوں، جو اعلیٰ و اولی لوگ تھے، نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کے بولنے کا کوئی اثر ہے، نہ کوئی صفر ہے اور کوڑھی سے ایسے بچو جیسے شیر سے بچا جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 231]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 780
ترقیم الباني: 971 ترقیم فقہی: -- 232
-" لا يورد الممرض على المصح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کو صحت مند پر پیش نہ کیا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 232]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 971
کہانت
ترقیم الباني: 2161 ترقیم فقہی: -- 233
-" لن يلج الدرجات العلى من تكهن أو تكهن له، أو رجع من سفر تطيرا".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کی گئی یا جو بدشگونی لیتے ہوئے سفر سے واپس آ گیا وہ اعلیٰ درجات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 233]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2161
ترقیم الباني: 3387 ترقیم فقہی: -- 234
- (من أتى كاهناً، فصدَّقه بما يقول؛ فقد كفر بما أنزل على محمد) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہونے والی شریعت کے ساتھ کفر کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 234]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3387
ترقیم الباني: 2195 ترقیم فقہی: -- 235
-" ليس منا من تطير أو تطير له، أو تكهن أو تكهن له، أو سحر أو سحر له".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل کا چھلہ دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کمزوری کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: اگر اس چھلے کو پہنے ہوئے تجھے موت آ گئی تو تجھے اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے برا شگون لیا یا اس کے لیے برا شگون لیا گیا یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 235]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2195
ترقیم الباني: 2650 ترقیم فقہی: -- 236
-" ليس منا من سحر (أو سحر له) أو تكهن أو تكهن له أو تطير أو تطير له".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے خود جادو کیا یا اس کے لیے جادو کیا گیا، یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے بدفال لی یا جس کے لیے بدفال لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 236]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2650
جادو کرنا منع ہے
ترقیم الباني: 2195 ترقیم فقہی: -- 237
-" ليس منا من تطير أو تطير له، أو تكهن أو تكهن له، أو سحر أو سحر له".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل کا چھلہ دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کمزروی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا: اگر اس چھلہ کو پہنے ہوئے تجھے موت آ گئی تو تجھے اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے برا شگون لیا یا اس کے لئے برا شگون لیا گیا یا جس نے کہانت کی یا اس کے لئے کہانت کی گئی یا جس نے جادو کیا یا جس کے لئے جادو کیا گیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 237]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2195