سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے
ترقیم الباني: 115 ترقیم فقہی: -- 421
-" سددوا وقاربوا واعملوا وخيروا واعلموا أن خير أعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، عمل کرو اور (بہترین امور کو) ترجیح دو اور جان لو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور مومن ہی ہے، جو وضو پر محافظت کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 421]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 115
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے، وضو والے اعضاء کو مقررہ حد سے زیادہ دھونا کیسا ہے
ترقیم الباني: 3526 ترقیم فقہی: -- 422
- (إنّ حوضي لأبعدُ من أيلة إلى عدن، والذي نفسي بيده لآنيتهُ أكثر من عدد النجوم، ولهو أشد بياضاً من اللبن، وأحلى من العسل. والذي نفسي بيده! إني لأذود عنه الرجال كما يذود الرجل الإبل الغريبة عن حوضه. قيل: يا رسول الله! أتعرفنا؟ قال: نعم، تردون علي غراً محجلين؛ من أثر الوضوء، ليست لأحد غيركم) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””بیشک میرے حوض (کی وسعت) ایلہ سے عدن تک کی مسافت سے زیادہ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے پیالے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے یوں دھتکاروں گا، جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہم کو پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے اثر کی وجہ سے تمہاری پیشانی، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے، یہ علامت (ومنقبت) کسی اور کی نہیں ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 422]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3526
ترقیم الباني: 252 ترقیم فقہی: -- 423
-" تبلغ الحلية من المؤمن حيث يبلغ الوضوء".
ابوحازم کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، انہوں نے نماز کے لیے وضو کیا، (بازو دھوتے وقت) اپنے ہاتھ کو بغلوں تک کھینچا۔ میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے کہا: بنو فروخ! تم بھی ادھر موجود ہو؟ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا۔ میں نے تو اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کا زیور وہاں تک پہنچتا ہے، جہاں تک وضو (کا پانی) پہنچتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 423]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 252
ترقیم الباني: 2836 ترقیم فقہی: -- 424
-" ما من أمتي من أحد إلا وأنا أعرفه يوم القيامة. قالوا: وكيف تعرفهم يا رسول الله في كثرة الخلائق؟ قال: أرأيت لو دخلت صيرة فيها خيل دهم بهم وفيها فرس أغر محجل، أما كنت تعرفه منها؟ قال: بلى. قال: فإن أمتي يومئذ غر من السجود، محجلون من الوضوء".
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت کے ہر فرد کو قیامت والے دن پہچان لوں گا۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے، حالانکہ مخلوقات بکثرت ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو کسی اصطبل میں داخل ہو اور وہاں کالے سیاہ گھوڑے ہوں، لیکن ان میں ایک گھوڑے کی پیشانی اور ٹانگیں سفید ہوں تو آیا تو اس گھوڑے کو پہچان لے گا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر سجدہ کرنے کی وجہ سے میری امت کی پیشانی اور وضو کرنے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ (اس امتیازی علامت کی وجہ سے میں انہیں پہچان لوں گا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 424]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2836
تیمم کا دنوں کی مقدار کے ساتھ تعلق نہیں
ترقیم الباني: 3029 ترقیم فقہی: -- 424M
- (يا أبا ذر..! يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَوْ لَم تَجِدِ الماءَ عِشْرِينَ سَنَةً (وفي روايةٍ: عَشْرَ سِنِينَ) ؛ فإذا وَجَدْتَهُ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ربذہ مقام پر اپنی بکریوں میں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دیتے ہوئے فرمایا: ”ابوذر! لیکن وہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار آواز دی، لیکن وہ خاموش رہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تیری ماں تجھے گم پائے۔“ اب کی بار انہوں نے کہا: میں جنبی ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کو پانی لانے کا حکم دیا۔ جب وہ پانی لے کر آئی تو انہوں نے اپنی سواری کی اوٹ میں پردہ کر کے غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”(ایسی صورت میں) تجھے مٹی کافی ہے، اگرچہ بیس سال یا دس سال پانی نہ ملے، جب تو پانی پا لے تو اسے اپنے چمڑے کے ساتھ لگا، (یعنی غسل کرے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 424M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3029
تیمم کا طریقہ
ترقیم الباني: 694 ترقیم فقہی: -- 425
-" التيمم ضربة للوجه والكفين".
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے بارے میں فرمایا: ”چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ایک دفعہ ہاتھوں کو (مٹی پر مارا جائے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 425]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 694
پانی تک پہنچنے سے پہلے تیمم کرنا اور اس کی وجہ
ترقیم الباني: 2629 ترقیم فقہی: -- 426
-" كان يخرج يهريق الماء، فيتمسح بالتراب، فأقول: يا رسول الله! إن الماء منك قريب؟ فيقول: وما يدريني لعلي لا أبلغه".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کرتے اور مٹی سے استنجا کر لیتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک پانی آپ کے قریب ہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا علم، شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 426]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2629
مٹی سے تیمم کرنے یا اس پر سجدہ کرنے کا حکم اور وجہ
ترقیم الباني: 1792 ترقیم فقہی: -- 427
-" تمسحوا بالأرض فإنها بكم برة".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین کو چھوا کرو، کیونکہ یہ تمہارے ساتھ شفقت کرنے والی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 427]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1792
ترقیم الباني: 298 ترقیم فقہی: -- 427M
-" يكفيك الماء ولا يضرك أثره".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے، جس میں مجھے حیض بھی آ جاتا ہے، تو اس کے بارے میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو پاک ہو جائے تو اس کو دھو لیا کر اور اس میں نماز پڑھ لیا کر۔“ اس نے کہا: اگر اس میں سے خون نہ نکلے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تجھے پانی ہی کافی ہے اور اس کا نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 427M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 298
حیض والے کپڑے کو کیسے پاک کیا جائے؟
ترقیم الباني: 299 ترقیم فقہی: -- 428
-" إذا أصاب ثوب إحداكن الدم من الحيضة فلتقرصه ثم لتنضحه بالماء (وفي رواية: ثم اقرصيه بماء ثم انضحي في سائره) ثم لتصلي فيه".
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے، تو وہ (اس کو پاک کرنے کے لیے) کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے، تو وہ (پانی کے ساتھ) اس کو ملے، پھر اس پر پانی ڈال کر (اس کو دھو لے)۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اس کو پانی کے ساتھ مل، پھر باقی ماندہ پر پانی ڈال کر (اس کو دھو لے)، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 428]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 299