سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے نکل کر وضو کرتے
ترقیم الباني: 3481 ترقیم فقہی: -- 458
ـ (كانَ إذا خرجَ من الخَلاء؛ توضَّأ).
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے نکلتے تو وضو کرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 458]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3481
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو استعمال کرتے تھے
ترقیم الباني: 2137 ترقیم فقہی: -- 459
-" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف بريح الطيب إذا أقبل".
ابراہیم سے مرسلاً روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہوتے تو عمدہ (اور پاکیزہ) خوشبو سے پتہ چل جاتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 459]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2137
ترقیم الباني: 2136 ترقیم فقہی: -- 460
-" كان يعجبه الريح الطيبة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کالے رنگ کا اونی جبہ تیار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن کیا، لیکن جب پسینہ آیا تو اس سے اون کی بو آنے لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا، کیونکہ پاکیزہ (اور عمدہ) خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی لگتی تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 460]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2136
جنابت والے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا
ترقیم الباني: 2185 ترقیم فقہی: -- 461
-" ليس على الماء جنابة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت والے ہو گئے، میں نے ایک ٹب میں غسل کیا، کچھ پانی بچ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس پانی سے غسل کیا۔ میں نے کہا: اس پانی سے تو میں نے بھی غسل کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جنبی فرد کے غسل کی وجہ سے) پانی پر جنابت کا حکم عائد نہیں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 461]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2185
مسجد کی طرف آنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اور . . .
ترقیم الباني: 1169 ترقیم فقہی: -- 462
-" من توضأ وجاء إلى المسجد فهو زائر الله عز وجل وحق على المزور أن يكرم الزائر".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرتا ہے اور مسجد کی طرف آتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوتا ہے اور میزبان پر یہ بات حق ہے کہ مہمان کی تکریم کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 462]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1169
کیا بیٹھ کر پیشاپ کرنا ضروری ہے؟
ترقیم الباني: 201 ترقیم فقہی: -- 463
-" من حدثكم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قائما فلا تصدقوه، ما كان يبول إلا قاعدا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس آدمی کی تصدیق مت کرو، جو یہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاپ کرتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بیٹھ کر ہی پیشاپ کرتے تھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 463]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 201
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کرنے لگ جائیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں، پس کیا ہم (سمندر) کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 464]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 0
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کرنے لگ جائیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں، پس کیا ہم (سمندر) کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 465]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 0
سمندر کا پانی طاہر اور مطہر ہے
ترقیم الباني: 480 ترقیم فقہی: -- 466
-" هو الطهور ماؤه، الحل ميتته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کرنے لگ جائیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں، پس کیا ہم (سمندر) کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 466]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 480
عورت غسل جنابت میں سر پر پانی کے تین چلو ڈالے
ترقیم الباني: 189 ترقیم فقہی: -- 467
-" لا إنما يكفيك إن تحثي على رأسك ثلاث حثيات ثم تفيضين عليك فتطهرين".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بالوں کو مضبوطی کے ساتھ گوندھتی ہوں، تو کیا جنابت کے غسل کے لیے ان کو کھول دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تجھے سر پر تین چلو ڈالنا ہی کافی ہیں، اس کے بعد (بقیہ جسم) پر پانی بہا دیا کر، اس طرح تو پاک ہو جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 467]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 189