سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
قضائے حاجت کے آداب
ترقیم الباني: 1071 ترقیم فقہی: -- 438
-" كان إذا أراد حاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہ اٹھاتے، جب تک زمین کے قریب نہ ہو جاتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 438]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1071
ترقیم الباني: 1159 ترقیم فقہی: -- 439
-" كان إذا ذهب المذهب أبعد".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلتے تو دور چلے جاتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 439]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1159
ترقیم الباني: 1072 ترقیم فقہی: -- 440
-" كان يذهب لحاجته إلى المغمس. قال نافع:" المغمس" ميلين أو ثلاثة من مكة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے مغمس مقام تک چلے تھے۔ نافع کہتے ہیں: مغمس، مکہ مکرمہ سے دو یا تین میلوں کے فاصلے پر واقع تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 440]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1072
قضائے حاجت کے دوران کعبہ کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرنا اور اس کی پابندی کا ثواب
ترقیم الباني: 1301 ترقیم فقہی: -- 441
-" إذا جلس أحدكم على حاجته فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو وہ قبلے کی طرف منہ کرے نہ پیٹھ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 441]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1301
ترقیم الباني: 1098 ترقیم فقہی: -- 442
-" من لم يستقبل القبلة ولم يستدبرها في الغائط كتب له حسنة ومحي عنه سيئة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کیا نہ پیٹھ، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور ایک برائی مٹا دی جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 442]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1098
پتھروں سے استنجا کرنے کے احکام
ترقیم الباني: 3316 ترقیم فقہی: -- 443
- (إذا تغوّط أحدكم؛ فليمسح ثلاث مرّات، (وفي رواية) : فليتمسَّح بثلاثة أحجار) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی قضائے حاجت کرے تو تین دفعہ (اور ایک روایت کے مطابق) تین پتھروں سے استنجا کرے۔“ یہ حدیث سیدنا جابر، سیدنا سائب بن خلاّد اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 443]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3316
ترقیم الباني: 2312 ترقیم فقہی: -- 444
-" من استجمر فليستجمر ثلاثا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پتھروں سے استنجا کرے، وہ تین دفعہ پتھر استعمال کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 444]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2312
ترقیم الباني: 1305 ترقیم فقہی: -- 445
-" إذا توضأت فانتثر وإذا استجمرت فأوتر".
سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو ناک جھاڑا کر اور جب پتھروں سے استنجا کرے، تو طاق (پتھر) استعمال کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 445]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1305
ترقیم الباني: 1295 ترقیم فقہی: -- 446
-" إذا استجمر أحدكم فليستجمر وترا وإذا استنثر فليستنثر وترا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو وہ طاق پتھر استعمال کرے اور جب وہ ناک جھاڑے تو بھی (تعداد میں) طاق جھاڑے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 446]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1295
قضائے حاجت کرنے والے کو سلام نہ کہا جائے
ترقیم الباني: 197 ترقیم فقہی: -- 447
-" إذا رأيتني على مثل هذه الحالة فلا تسلم علي، فإنك إذا فعلت ذلك لم أرد عليك".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، اس حال میں کہ آپ پیشاپ کر رہے تھے، اس نے آپ کو سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اس حالت میں پاؤ تو مجھے سلام نہ کہا کرو، اگر آئندہ تم نے ایسے کیا تو میں تمہارے سلام کا جواب نہیں دوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطهارة والوضوء/حدیث: 447]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 197