🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ایک نماز کی ادائیگی کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 661 ترقیم فقہی: -- 561
-" أبشروا هذا ربكم قد فتح بابا من أبواب السماء يباهي بكم الملائكة، يقول: انظروا إلى عبادي قد قضوا فريضة وهم ينتظرون أخرى".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کی، لوٹنے والے لوٹ گئے اور بیٹھنے والے بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا اور اپنے گھٹنوں سے کپڑا اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا اور فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرمایا: میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 561]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 661

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3965 ترقیم فقہی: -- 562
- (إذا أمَمتَ قوماً؛ فأخِفَّ بهم الصلاة) .
سیدنا عثمان بن ابوعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری بات یہ ارشاد فرمائی: ”جب تو کسی قوم کی امامت کرائے تو نماز میں تخفیف کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 562]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3965

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2056 ترقیم فقہی: -- 563
-" كان أخف الناس صلاة على الناس، وأدومه على نفسه (وفي رواية: وأطول الناس صلاة لنفسه) ".
نافع بن سرجس کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے حق میں نماز کے معاملہ میں سب سے زیادہ تخفیف کرتے تھے، لیکن اپنی انفرادی نماز سب سے زیادہ لمبی پڑھنے والے تھے . [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 563]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2056

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام کی تخفیف سے نماز پڑھانے کی حد ظہر و عصر کی نمازوں میں سورہ اعلیٰ اور سورہ غاشیہ کی تلاوت کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1160 ترقیم فقہی: -- 564
-" كان يقرأ في الظهر والعصر بـ * (سبح اسم ربك الأعلى) * و * (هل أتاك حديث الغاشية) *".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ اعلی «سبح اسم ربك الاعلى» اور سورہ غاشیہ «هل اتاك حديث الغاشية» کی تلاوت کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 564]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3171 ترقیم فقہی: -- 565
- (أتريدُ أن تكون فتّاناً يا معاذُ؟! إذا أمَمتَ الناس فاقرأ ب (والشمسِ وضُحاها) و (سبِّحِ اسمَ ربِّك الأعلى) و (والليلِ إذا يغشى) و (اقرأ باسمِ ربِّك) ) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشا کی نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا۔ ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا، علیحدہ نماز پڑھ لی (اور چلا گیا)۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: ایسا کرنے والا منافق ہو سکتا ہے۔ جب اس آدمی کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ معاذ نے میرے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فرمایا: ”معاذ! کیا تو فتنہ باز بننا چاہتا ہے؟ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو «و الشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الاعلى»، «و الليل إذا يغشى» اور «قرا باسم ربك» جیسی سورتیں پڑھا کر۔“ یہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ان سے روایت کرنے والے مختلف راویوں کے مختلف الفاظ ہیں، جو طویل اور مختصر روایات پر مشتمل ہیں۔ یہ الفاظ ابوزبیر کے ہیں، جو ان سے لیث بن سعد نے بیان کئے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 565]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3171

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2919 ترقیم فقہی: -- 566
-" خفف الصلاة على الناس، حتى وقت * (سبح اسم ربك الأعلى) * و * (اقرأ باسم ربك الذي خلق) *، وأشباهها من القرآن".
سیدنا عثمان بن ابوعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف پر عامل بنا کر بھیجا تو آخری بات، جو مجھ سے فرمائی، یہ تھی: ”لوگوں کو خفیف نماز پڑھانا۔“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود «سبح اسم ربك الاعلى» یعنی سورہ اعلی اور «قرا باسم ربك» یعنی سورہ علق اور اس قسم کی سورتوں کی تلاوت کرنے کا تعین کر دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 566]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2919

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام ہر دلعزیز شخصیت کا حامل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2325 ترقیم فقہی: -- 567
-" من أم قوما وهم له كارهون، فإن صلاته لا تجاوز ترقوته".
ابوعبداللہ صنابحی کہتے ہیں: جنادہ بن ابوامیہ لوگوں کو جماعت کروانے لگے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو دائیں طرف متوجہ ہو کر پوچھا: کیا تم لوگ (میرے امام بننے پر) راضی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر اسی طرح بائیں سمت میں کھڑے نمازیوں سے پوچھا، پھر کہا: میں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے لوگوں کو امامت کروائی اور وہ اس امام کو (کسی شرعی عذر کی بنا پر) ناپسند کرتے ہوں تو اس (امام) کی نماز اس کے گلے سے اوپر تجاوز نہیں کرے گی (یعنی قبول نہیں ہو گی)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 567]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2325

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام پرہیزگار ہونا چاہئے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3376 ترقیم فقہی: -- 568
- (لا، ولكنك تفلت بين يديك وأنت تؤمّ الناس فآذيت الله وملائكته) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز ظہر پڑھائے، اس نے نماز پڑھانے کی حالت میں جہت قبلہ میں تھوکا۔ جب نماز عصر کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کو (امامت کے لیے) بھیجا، پہلا شخص ڈر گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، (کوئی حکم نازل نہیں ہوا، بات یہ ہے کہ) جب تو لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا تو تو نے اپنے سامنے تھوکا اور اس طرح اللہ اور فرشتوں کو تکلیف دی (یہ وجہ بنی، تجھے پیچھے کر دینے کی)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 568]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3376

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دوران جماعت صف بندی کی اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 31 ترقیم فقہی: -- 569
-" أقيموا صفوفكم وتراصوا، فإني أراكم من وراء ظهري".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کرو اور مل کر کھڑے ہو جاؤ، میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 569]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 31

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 32 ترقیم فقہی: -- 570
-" أقيموا صفوفكم ثلاثا، والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن بين قلوبكم".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تین دفعہ فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کرو۔ اللہ کی قسم! تم لوگ ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو، یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالف ڈال دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 570]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں