سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ترک نماز کے بعد دین کی تمام علامات منہدم ہو جاتی ہیں
ترقیم الباني: 1739 ترقیم فقہی: -- 551
-" أول ما تفقدون من دينكم الأمانة، وآخره الصلاة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سب سے پہلے اپنے دین سے امانت کو اور سب سے آخر میں نماز کو مفقود پاؤ گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 551]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1739
دوران جماعت امام کو لقمہ دینا
ترقیم الباني: 2579 ترقیم فقہی: -- 552
-" أفي القوم أبي؟".
ابن ابزی اپنے باپ ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک روز) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت کو نظر انداز کر دیا، نماز سے فراغت کے بعد پوچھا: ”آیا لوگوں میں ابی موجود ہے؟“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 552]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2579
نماز کا انتظار بھی نماز ہے
ترقیم الباني: 2368 ترقیم فقہی: -- 553
-" المرء في صلاة ما انتظرها".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک آدمی نماز کا انتظار کرتا رہے، وہ نماز کے حکم میں رہتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 553]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2368
مساجد کو آباد کرنے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 2728 ترقیم فقہی: -- 554
-" إن الله لينادي يوم القيامة: أين جيراني، أين جيراني؟ قال: فتقول الملائكة: ربنا! ومن ينبغي أن يجاورك؟ فيقول: أين عمار المساجد؟".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان کریں گے: میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ فرشتے پوچھیں گے: اے ہمارے رب! بھلا تیرے پڑوس میں آنا کسے زیب دیتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مساجد کو آباد کرنے والے کہاں ہیں؟“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 554]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2728
مسجد میں بیٹھنے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 3401 ترقیم فقہی: -- 555
- (إنّ للمساجدِ أوتاداً، الملائكةُ جلساؤُهم، إن غابُوا يفتقدُونهم، وإن مرضُوا عادُوهم، وإن كانُوا في حاجة أعانُوهم. وقال: جليسُ المسجدِ على ثلاثِ خصالٍ: أخٍ مستفادٍ، أو كلمةِ حكمةٍ، أو رحمةٍ مُنتَظرةٍ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بعض لوگ مسجد نشیں ہوتے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشیں ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو وہ انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار پڑھ جائیں تو وہ ان کی تیمار داری کرتے ہیں اور اگر انہیں کوئی ضرورت ہو تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھنے والے کو کوئی ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے: کوئی اس سے استفادہ کرتا ہے یا وہ حکمت والی بات کرتا ہے یا اسے رحمت کا انتظار ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 555]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3401
متقی لوگوں کا گھر مسجد ہے
ترقیم الباني: 716 ترقیم فقہی: -- 556
-" المسجد بيت كل تقي".
ابوعثمان کہتے ہیں کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے ابوداردا رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: اے میرے بھائی! مسجد سے وابستہ رہ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مسجد ہر پرہیزگار آدمی کا گھر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 556]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 716
مسجد کی طرف چلنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 1063 ترقیم فقہی: -- 557
-" إذا خرج المسلم إلى المسجد كتب الله له بكل خطوة خطاها حسنة ومحى عنه بها سيئة حتى يأتي مقامه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتے ہیں اور ایک برائی معاف کرتے ہیں، حتی کہ وہ اپنے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 557]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1063
ترقیم الباني: 3500 ترقیم فقہی: -- 558
- (إنّ آثارَكم تُكْتَبُ) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ کے لوگ مدینہ کے ایک کونے میں (مسجد سے دور) فروکش تھے، انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: «إنا نحن نحيي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا، وہ اور ان کے نشانات ہم لکھ رہے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارے نشانات قدم لکھے جا رہے ہیں۔“ پھر وہ منتقل نہ ہوئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 558]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3500
ترقیم الباني: 598 ترقیم فقہی: -- 559
-" ثلاثة في ضمان الله عز وجل: رجل خرج إلى مسجد من مساجد الله عز وجل ورجل خرج غازيا في سبيل الله ورجل خرج حاجا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کی حفاظت و ضمانت میں ہوتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی کسی مسجد کی طرف نکلنے والا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلنے والا اور حج کی ادائیگی کے لیے نکلنے والا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 559]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 598
نماز کے لیے مسجد کی طرف جاتے ہوئے فوت ہو جانے کی فضیلت
ترقیم الباني: 3384 ترقیم فقہی: -- 560
- (خصال ست؛ ما من مُسلم يموتُ في واحدة منْهن؛ إلا كانت ضامناً على الله أن يدْخِلََه الجنّة: 1- رجل خرج مجاهداً، فإن مات في وجْهه؛ كان ضامناً على الله. 2- ورجل تبع جنازة، فإن مات في وجهه؛ كان ضامناً على الله. 3- ورجل عاد مريضاً، فإن مات في وجهه؛ كان ضامناً على الله. 4- ورجل توضأ فأحسن الوضوء، ثم خرج إلى المسجد لصلاته، فإن مات في وجهه؛ كان ضامناً على الله. 5- ورجل أتى إماماً، لا يأتيه إلا ليعزِّره ويوقره، فإن مات في وجهه ذلك؛ كان ضامناً على الله. 6- ورجل في بيته، لا يغتاب مسلماً، ولا يجرُّ إليهم سخطاً ولا نقمة، فإن مات؛ كان ضامناً على الله) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ خصائل ایسی ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی ایک کو اپنا کر فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی اس کے بارے میں ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا: (۱) وہ آدمی جو جہاد کرنے کے لیے نکلا اور اسی سمت میں فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی (کی جنت) کا ضامن ہے، (۲) ایسا آدمی جو کسی جنازہ کے پیچھے چلا، اگر اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار بھی اللہ تعالیٰ ہوگا، (۳) وہ آدمی جو کسی مریض کی تیمارداری کرنے کے لیے گیا، اگر اسی طرف ہی فوت ہو گیا تو اس کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہوگا، (۴) وہ آدمی جس نے وضو کیا، پھر ادائیگی نماز کے لیے مسجد کی طرف نکلا، اگر اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہو گا، (۵) وہ آدمی جو کسی (اسلامی) خلیفہ کے پاس آیا تاکہ اس کی پشت پناہی اور تعظیم و تکریم کرے، اگر وہ اسی سمت میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہو گا اور (۶) وہ آدمی جو گھر میں رہتا ہے، نہ وہ کسی مسلمان کی غیبت کرتا ہے اور نہ کسی کے لیے غصے یا سزا کا باعث بنتا ہے، اگر وہ اسی حالت میں فوت ہو گیا تو اس (کی جنت) کا ضامن بھی اللہ تعالیٰ ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 560]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3384