🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
خلوت میں ادا کی گئی نماز کا اجر و اور اس کی وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3475 ترقیم فقہی: -- 591
ـ (صلاةُ الرّجلِ في جماعةٍ تزيدُ على صَلاتِهِ وحدَه خمْساً وعشرينَ دَرجَةً، وإنْ صلاها بأرضِ فلاةٍ، فأتمّ وُضوءها وركوعَها وسجودَها؛ بلغتْ صلاتُه خمسينَ درجةٍ) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ ہے، اور اگر وہ ویران جنگل میں ہو اور وضو اور رکوع و سجود مکمل انداز میں ادا کرتا ہے تو اس کی نماز پچ درجوں تک پہنچ جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 591]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3475

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 41 ترقیم فقہی: -- 592
-" يعجب ربكم من راعي غنم في رأس شظية بجبل يؤذن بالصلاة ويصلي فيقول الله عز وجل: انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة يخاف مني، فقد غفرت لعبدي وأدخلته الجنة".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تمہارا رب اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے، جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر بکریوں چرا رہا ہو، وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہو اور نماز پڑھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، وہ مجھ سے ڈرتا، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 592]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 41

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسجد بنانے کا صلہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3445 ترقیم فقہی: -- 593
- (من بنَى للهِ مسجداَ بنَى اللهُ له بَيتاً في الجنّة أوسعَ منْه) .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے مسجد تعمیر کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 593]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3445

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3399 ترقیم فقہی: -- 594
- (مَن بنَى مسجداً لا يريد به رِياءً ولا سُمعةً؛ بنى اللهُ له بيتاً في الجنة) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسجد تعمیر کی اور اس کا ارادہ نہ ریاکاری کا ہو اور نہ شہرت کا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 594]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسجد کی عمارت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 616 ترقیم فقہی: -- 595
-" ابنوه عريشا كعريش موسى. يعني مسجد المدينة".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسی علیہ السلام کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔“ یہ حدیث حسن بصری، سالم بن عطیہ، زہری اور راشد بن سعد سے مرسلاً اور اور سیدنا ابودردا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے موصولاً روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 595]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 616

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1351 ترقیم فقہی: -- 596
-" إذا زوقتم مساجدكم وحليتم مصاحفكم، فالدمار عليكم".
سعید بن ابوسعید مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگ مساجد کو مزین کرنے لگو اور مصاحف کو خوبصورت بناؤ گے تو تم پر ہلاکت و بربادی ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 596]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
محلوں میں تعمیر مساجد کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2724 ترقیم فقہی: -- 597
-" كان يأمرنا أن نصنع المساجد في دورنا وأن نصلح صنعتها ونطهرها".
عروہ بن زبیر، ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے محلوں میں اچھے انداز میں مساجد تعمیر کریں اور انہیں پاک صاف رکھیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 597]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2724

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مساجد کے آداب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1001 ترقیم فقہی: -- 598
-" لا تتخذوا المساجد طرقا إلا لذكر أو صلاة".
سالم اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مساجد کو راستے نہ بناؤ، یہ تو صرف اللہ کے ذکر یا نماز کے لیے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 598]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1001

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مساجد کے دروازوں کے ارد گرد پیشاب کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2723 ترقیم فقہی: -- 599
-" نهى أن يبال بأبواب المساجد".
مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کے دروازوں کے آس پاس پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 599]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2723

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2582 ترقیم فقہی: -- 600
-" اخرجوا فإذا أتيتم أرضكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها بهذا الماء واتخذوها مسجدا. قالوا: إن البلد بعيد والحر شديد والماء ينشف؟ فقال: مدوه من الماء، فإنه لا يزيده إلا طيبا".
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم وفد کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہماری زمین میں ہمارا ایک گرجا ہے، (ہم وہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس لیے) ہم نے آپ سے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، وضو کیا، کلی کی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیا اور ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”چلے جاؤ، جب اپنے علاقے میں پہنچو تو گرجا گھر گرا دینا، وہاں یہ پانی چھڑکنا اور وہاں مسجد تعمیر کر لینا۔“ انہوں نے کہا: ہمارا علاقہ بہت دور ہے اور شدید گرمی پڑ رہی، یہ پانی تو خشک ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(راستے میں) اس میں مزید پانی ملاتے جانا، وہ اس کی پاکیزگی میں اور اضافہ کرے گا۔“ ہم نکل پڑے، حتی کہ اپنے علاقے میں پہنچ گئے، ہم نے گرجا گھر گرا دیا، وہاں پانی چھڑکا اور اسے مسجد کا روپ دے دیا، پھر ہم نے وہاں اذان دی۔ قبیلہ بنوطی کے ایک پادری نے اذان سنی اور کہا: یہ تو دعوت حق ہے۔ پھر وہ ایک ٹیلے کی طرف نکل گیا اور اس واقعہ کے بعد ہم اسے نہ دیکھ پائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 600]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2582

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں