سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
دوران سفر روزہ توڑدینا
ترقیم الباني: 2575 ترقیم فقہی: -- 836
-" اشربوا فإني أيسركم، قاله للصائمين في السفر".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی ایک نہر کے پاس سے گزرے، آپ خچر پر سوار تھے، لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور پیدل چلنے والے لوگ بہت زیادہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پی لو۔“ وہ آپ کی طرف دیکھنا شروع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پی لو میں تم سب سے زیادہ قوت والا ہوں۔“ انہوں نے پھر آپ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سرین پھیرا اور پانی پیا، پھر صحابہ نے بھی پی لیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 836]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2575
شعبان کے روزے رکھنا
ترقیم الباني: 1898 ترقیم فقہی: -- 837
-" شعبان بين رجب ورمضان يغفل الناس عنه ترفع فيه أعمال العباد، فأحب أن لا يرفع عملي إلا وأنا صائم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، امام نسائی نے ابوہریرہ کا نام ذکر نہیں کیا، سیدنا اسامہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سا مہینہ؟“ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے کئی لوگ غافل ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ سوموار اور جمعرات کا روزہ ترک نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں بھی بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 837]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1898
رمضان سے متصل پہلے شعبان کے روزے نہ رکھے جائیں، الایہ کہ . . .
ترقیم الباني: 565 ترقیم فقہی: -- 838
-" أحصوا هلال شعبان لرمضان ولا تخلطوا برمضان إلا أن يوافق ذلك صياما كان يصومه أحدكم وصوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فإنها ليست تغمى عليكم العدة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے لیے شعبان کے چاند (کی تاریخ کو شمار کر کے رکھو اور اس کو رمضان کے ساتھ نہ ملا دو، ہاں اگر کوئی آدمی (باقاعدہ کسی مخصوص) دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہ اس دن سے موافقت کر جائے (تو روزہ رکھا جا سکتا ہے)۔ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو، اگر (انتیس تاریخ کی شام کو) چاند بادلوں میں یا کہر میں چھپ جائے تو گنتی تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی (اس کا اعتبار کر کے تیس دن پورے کر لو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 838]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 565
ترقیم الباني: 1917 ترقیم فقہی: -- 839
-" صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن حال بينكم وبينه سحاب أو ظلمة أو هبوة، فأكملوا العدة، لا تستقبلوا الشهر استقبالا، ولا تصلوا رمضان بيوم من شعبان".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو۔ اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل، اندھیرا یا گردو غبار حائل ہو جائے تو پھر (شعبان کی تیس کی) گنتی پوری کر لو۔ مہینے کا استقبال نہ کرو اور نہ ہی رمضان کو شعبان کے دن کے ساتھ ملاؤ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 839]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1917
یوم عاشورا کا روزہ اگر یکم رمضان کے روزے کی اطلاع طلوع فجر کے بعد ملے تو، کیا طلوع فجر کے بعد فرضی روزے کی نیت کی جا سکتی ہے؟
ترقیم الباني: 2624 ترقیم فقہی: -- 840
-" أذن في قومك أو في الناس يوم عاشوراء: من [كان] أكل فليصم بقية يومه [إلى الليل] ، ومن لم يكن أكل فليصم".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عاشورا والے دن اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے کھانا کھا لیا ہے، وہ دن کا بقیہ حصے کا روزہ رکھ لے اور جس نے کھانا نہیں کھایا، وہ (مکمل دن) کا روزہ رکھے۔“ یہ حدیث سلمہ بن اکوع، ربیع بنت معوذ، محمد بن صیفی، ہند بن اسما، ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم“ سے مروہ ہے، اسلم قبیلے کے مبہم افراد سے، معبد قرشی سے اور محمد بن سیرین سے مرسلاً مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 840]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2624
ترقیم الباني: 3548 ترقیم فقہی: -- 841
- (إنّ هذا يومٌ كان يصومه أهل الجاهليّة، فمن أحب أن يصومه؛ فليصمه، ومن أحب أن يتركه؛ فليتركه) .
نافع سے رویت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو بیان کیا کہ انہوں نے یوم عاشورا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عہد جاہلیت والے لوگ اس دن کا روزہ رکھتے تھے، اب جو اس کا روزہ رکھنا پسند کرتا ہے، وہ رکھ لے اور جو چھوڑنا پسند کرتا ہے، وہ چھوڑ دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 841]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3548
ترقیم الباني: 3531 ترقیم فقہی: -- 842
- (إنّ عاشوراء يومٌ من أيام الله، فقن شاء صامه، ومن شاء تركه) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ یوم عاشورا (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان بھی روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان فرض ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن عاشورا ہے، جو چاہتا ہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہتا ہے نہ رکھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 842]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3531
یوم عاشورا کا روزہ کے نو محرم کا روزہ رکھنا چاہیے
ترقیم الباني: 350 ترقیم فقہی: -- 843
-" إن عشت إن شاء الله إلى قابل صمت التاسع مخافة أن يفوتني يوم عاشوراء".
سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ بھی رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 843]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 350
شب قدر
ترقیم الباني: 3985 ترقیم فقہی: -- 844
- (أُريتُ ليلةَ القدرِ، ثم أُنسيتُها، وأَراني صُبحَها أَسجدُ في ماءٍ وطينٍ) .
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس رات کی صبح کو میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں گا۔“ انہوں نے کہا: (رمضان کی) تئیس تاریخ کو بارش ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو (دیکھا گیا کہ) آپ کے چہرے اور ناک کو پانی اور مٹی کا نشان تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 844]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3985
ترقیم الباني: 3986 ترقیم فقہی: -- 845
- (أُريتُ ليلةَ القدرِ، ثم أيقظَني بعضُ أَهلي، فنُسِّيتُها؛ فالتمِسُوها في العشرِ الغَوابرِ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی، پھر مجھے میری کسی بیوی نے بیدار کر دیا، پس میں اس کو بھول گیا، تم اس کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 845]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3986