سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
روزے دار کا بیوی کا بوسہ لینا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 328 ترقیم فقہی: -- 875
-" ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے)کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا، لیکن انہوں نے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 875]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 328
ترقیم الباني: 220 ترقیم فقہی: -- 876
-" كان يقبل وهو صائم، ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لإربه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور ان کے ساتھ لیٹ بھی جایا کرتے تھے، لیکن وہ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 876]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 220
ترقیم الباني: 219 ترقیم فقہی: -- 877
-" كان يقبلني وهو صائم وأنا صائمة. يعني عائشة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، حالانکہ آپ بھی روزے دار ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 877]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 219
ترقیم الباني: 1606 ترقیم فقہی: -- 878
-" إن الشيخ يملك نفسه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ایک نوجوان آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس نے کہا: کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ہم (اس فرق کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بوڑھا آدمی اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 878]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1606
روزے دار کا بیوی کے ساتھ لیٹنا
ترقیم الباني: 221 ترقیم فقہی: -- 879
-" كان يباشر وهو صائم، ثم يجعل بينه وبينها ثوبا. يعني الفرج".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (ان کے ساتھ) لیٹ جاتے تھے اور اپنے اور اس کی (شرمگاہ) کے مابین کپڑے کی آڑ رکھ لیتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 879]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 221
ترقیم الباني: 220 ترقیم فقہی: -- 880
-" كان يقبل وهو صائم، ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لإربه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور ان کے ساتھ لیٹ بھی جایا کرتے تھے، لیکن وہ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 880]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 220
وصال کرنا منع ہے
ترقیم الباني: 2894 ترقیم فقہی: -- 881
-" لا وصال في الصيام".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے میں وصال نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 881]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2894
ترقیم الباني: 3604 ترقیم فقہی: -- 882
- (إيّاكم والوصال- مرتين-، قيل: إنك تواصل؟! قال: إنّي أبيت يُطعمُني ربّي وبسقيني؛ فاكلَفُوا من العمل ما تطيقون) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”وصال سے بچو۔“ کہا گیا: آپ خود تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میری حالت تو ہے کہ) میں رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، بس تم لوگ اپنی استطاعت کی مطابق اعمال کی تکلیف اٹھاؤ۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 882]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3604
وضح سے وضح تک روزے رکھو کا مفہوم
ترقیم الباني: 1918 ترقیم فقہی: -- 883
-" صوموا من وضح إلى وضح".
ابوملیح بن اسامہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ «وضح» سے «وضح» تک روزہ رکھو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 883]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1918
صرف جمعہ مبارک کا روزہ رکھنا منع ہے
ترقیم الباني: 1012 ترقیم فقہی: -- 884
-" نهى عن صيام يوم الجمعة إلا في أيام قبله أو بعده".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کے روزے سے منع فرمایا: الا یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھا جائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 884]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1012