سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سحری کا کھانا کھانے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 1654 ترقیم فقہی: -- 865M
-" إن الله وملائكته يصلون على المتسحرين".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پررحمت بھیجتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 865M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1654
کھجور، سحری کا بہترین کھانا ہے
ترقیم الباني: 562 ترقیم فقہی: -- 866
-" نعم سحور المؤمن التمر".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا سحری کا بہترین کھانا کھجور ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 866]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 562
بامر مجبوری طلوع فجر کے بعد سحری کھانا
ترقیم الباني: 1394 ترقیم فقہی: -- 867
-" إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اس حال میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس کو نہ رکھے، حتی کہ اپنی حاجت پوری کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 867]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1394
سحری آخری وقت میں اور افطار پہلے وقت میں کرنا
ترقیم الباني: 1773 ترقیم فقہی: -- 868
-" بكروا بالإفطار وأخروا السحور".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افطاری میں جلدی کرو لیکن سحری میں تاخیر کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 868]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1773
افطاری کا وقت
ترقیم الباني: 2081 ترقیم فقہی: -- 869
-" كان إذا كان صائما أمر رجلا فأوفى على نشز، فإذا قال: قد غابت الشمس أفطر".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ روزے دار ہوتے تو ایک آدمی کو حکم دیتے، وہ اونچی جگہ پر چڑھ جاتا، جب وہ کہتا کہ سورج غروب ہو گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 869]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2081
ترقیم الباني: 2110 ترقیم فقہی: -- 870
-" كان لا يصلي المغرب وهو صائم حتى يفطر، ولو على شربة من ماء".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے دار ہوتے تو نماز مغرب پڑھنے سے پہلے افطاری کرتے، اگرچہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہوتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 870]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2110
کس چیز کے ساتھ افطاری کی جائے؟
ترقیم الباني: 2117 ترقیم فقہی: -- 871
-" كان يبدأ إذا أفطر بالتمر".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطاری کرتے تو کھجور سے ابتدا کرتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 871]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2117
ترقیم الباني: 2840 ترقیم فقہی: -- 872
-" كان يفطر على رطبات قبل أن يصلي فإن لم يكن رطبات فعلى تمرات فإن لم يكن حسا حسوات من ماء".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 872]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2840
روزے اور روزے دار کی فضیلت
ترقیم الباني: 3516 ترقیم فقہی: -- 873
- (إن الله- عز وجل- يقول: إن الصوم لي، وأنا أجزي به. إن للصّائم فرحتين: إذا أفطر فرح، وإذا لقي الله فجزاهُ فرح. والذي نفس محمد بيده! لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك) .
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یقینا روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بلاشبہ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب وہ افطار کرتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اور وہ اس کو بدلہ دے گا، تو وہ خوش ہو جائے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 873]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3516
روزے دار کا بیوی کا بوسہ لینا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 329 ترقیم فقہی: -- 874
-" أنا أتقاكم لله، وأعلمكم بحدود الله".
عطا بن یسار، ایک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا انس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا، پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کرے؟ اس نے آپ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی مضائقہ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایسا کرتے ہیں۔“ اس نے اپنے خاوند پر صورتحال کو واضح کیا، لیکن اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بعض مخصوص چیزوں کی رخصت دی جاتی ہے (جو عام مومنوں کے لیے نہیں ہوتی) لہٰذا تو دوبارہ جا اور آپ کے سامنے میرا یہ اشکال پیش کر۔ وہ دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میرا خاوند کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بطور اختصاص بعض چیزوں کی اجازت دے دی جاتی ہے (لیکن ہم)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 874]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 329