🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
عورتوں نے بال کٹوانے ہیں، منڈوانے نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 605 ترقیم فقہی: -- 1040
-" ليس على النساء حلق، إنما على النساء التقصير".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عورتوں کے لیے بال منڈوانا نہیں ہیں، ان پر صرف بال کٹوانا ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1040]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 605

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
یوم عرفہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2551 ترقیم فقہی: -- 1041
-" ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة وإنه ليدنو، ثم يباهي بهم الملائكة، فيقول: ما أراد هؤلاء؟".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن ایسا نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ باقی دنو ں کی بہ نسبت سب سے زیادہ لوگوں کو آگ آزاد کرتے ہوں، مگر عرفہ کا دن۔ اللہ تعالیٰ اس دن کو (اپنے بندوں کے) قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1041]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2551

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تکلیف دہ اور غلط نذر کو توڑ دینا چاہیے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2930 ترقیم فقہی: -- 1042
-" مروها فلتركب ولتختمر [ولتحج] ، [ولتهد هديا] ".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن نے نذر مانی کہ وہ کعبہ کی طرف ننگے پاؤں اور ننگے سر جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: اس کو کیا ہوا۔ لوگوں نے کہا: اس نے کعبہ کی طرف ننگے پاؤں اور ننگے سر جانے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے اور چادر اوڑھ لے اور حج ادا کرے اور ہدی پیش کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1042]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2930

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
وادی محصب میں قیام کرنا سنت ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2675 ترقیم فقہی: -- 1043
-" من السنة النزول بـ (الأبطح) عشية النفر".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (ادائے حج کے بعد) روانگی کی شام کو ابطح وادی میں قیام کرنا سنت ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1043]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2675

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صفا و مروہ کی سعی کے دوران دوڑنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2437 ترقیم فقہی: -- 1044
-" لا يقطع الأبطح إلا شدا".
سیدہ ام ولد شیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صفا اور مروہ کے (درمیانی ہمورا حصے) میں دوڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”وادی ابطح کو طے نہ کیا جائے، مگر دوڑ کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1044]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2437

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عورت محرم کے ہمراہ حج کرے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3065 ترقیم فقہی: -- 1045
- (لا تَحُجُّ امرأةٌ إلا ومعها مَحْرَمٌ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت محرم کے بغیر حج نہ کرے۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! فلاں غزوے میں میرے نام کا اندراج کیا جا چکا ہے، جبکہ میری بیوی حج کے لیے روانہ ہونے والی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم واپس چلے جاؤ اور اس کے ساتھ حج ادا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1045]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3065

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مزدلفہ کی صبح کو حاجیوں کے اجتماع پر رحمت الہی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1624 ترقیم فقہی: -- 1046
-" إن الله تطول عليكم في جمعكم هذا، فوهب مسيئكم لمحسنكم، وأعطى محسنكم ما سأل، ادفعوا باسم الله".
سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو فرمایا: ”بلال! لوگوں کو خاموش کراؤ۔“ پھر فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان (اور مہربانی) کی ہے اور تمہارے نیکوکاروں کی وجہ سے بروں کو بھی عطا کر دیا ہے اور نیکوکاروں نے جو کچھ مانگا ہے، انہیں دے دیا ہے۔ اب اللہ کے نام کے ساتھ واپس چلو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1046]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1624

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قریشیوں نے دور جاہلیت میں تعمیر کعبہ میں کیا کمی کوتا ہی کی؟ تعمیر کعبہ کے بارے میں نبوی اصلاحات، مصلحت سے پہلے مفسدت کو دور کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 43 ترقیم فقہی: -- 1047
-" يا عائشة لولا أن قومك حديثو عهد بشرك وليس عندي من النفقة ما يقوي على بنائه لأنفقت كنز الكعبة في سبيل الله ولهدمت الكعبة فألزقتها بالأرض ثم لبنيتها على أساس إبراهيم وجعلت لها بابين بابا شرقيا يدخل الناس منه وبابا غربيا يخرجون منه وألزقتها بالأرض وزدت فيها ستة أذرع من الحجر. (وفي رواية: ولأدخلت فيها الحجر) فإن قريشا اقتصرتها حيث بنت الكعبة، فإن بدا لقومك من بعدي أن يبنوه فهلمي لأريك ما تركوه منه، فأراها قريبا من سبعة أذرع".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اگر تیری قوم کا عہد، زمانہ شرک کے قریب قریب نہ ہوتا اور میرے پاس کعبہ کی عمارت (کو مکمل کرنے کے) اخراجات بھی نہیں ہیں، تو میں کعبہ کے خزانے کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دیتا، کعبہ کی عمارت کو گرا دیتا، اس کو زمین کے ساتھ ملا دیتا، پھر ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا، پھر اس کے دو دروازے رکھتا جو (‏‏‏‏بلند ہونے کی بجائے) زمین سے ملے ہوتے، ایک دروازہ مشرقی ہوتا، جس سے لوگ داخل ہوتے اور ایک مغربی ہوتا، جس سے لوگ نکل جاتے اور حطیم کی چھ ہاتھ چھوڑی ہوئی جگہ کو کعبہ کی عمارت میں داخل کر دیتا، کیونکہ قریشیوں نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی تو انہوں نے (اخراجات کی کمی کے باعث اصل عمارت) میں کمی کر دی تھی۔ (عائشہ!) اگر میرے بعد تیری قوم والے دوبارہ اس کی تعمیر کرنا چاہیں تو آؤ میں تمہارے لیے چھوڑی ہوئی جگہ کی نشاندہی کر دیتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سات ہاتھ کے لگ بھگ جگہ دکھائی۔ ایک روایت میں ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے (کعبہ کی ایک طرف کے) گھیرے یا حطیم کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آیا یہ بیت اللہ کا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: تو پھر (قریشیوں نے) اس کو (عمارت میں) داخل کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری قوم کے لیے اخراجات کم پڑ گئے تھے۔“ میں نے کہا: بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری قوم (قریش) نے (جان بوجھ کر) ایسے کیا، تاکہ اپنی مرضی کے مطابق بعض لوگوں کو داخل کریں اور مرضی کے مطابق بعض لوگوں کو روک لیں۔“ ایک روایت میں ہے: انہوں نے ایسا اپنی طاقت (اور فخر) کی بنا پر کیا تاکہ وہی داخل ہو سکے، جس کے بارے میں ان کا ارادہ ہو۔ (جس آدمی کے داخلے کے بارے میں اس کی مرضی نہیں ہوتی تھی تو) وہ اسے چھوڑ دیتے، وہ داخل ہونے کے لیے سیڑھیاں چڑھتا، لیکن جب داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا تھا۔ اگر تیری قوم کا عہد، زمانہ جاہلیت کے قریب قریب نہ ہونا، تو تو دیکھتی کہ میں حطیم کو بیت اللہ کی عمارت میں داخل کر دیتا اور دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دیتا، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ان لوگوں کے دل اس کو اجنبی اور عجیب سمجھنے لگیں گے۔“ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے کعبہ کی عمارت کو گرا دیا اور اس کے دو دروازے رکھ دیے۔ ایک روایت! میں ہے: یہی حدیث تھی، جس نے ابن زبیر کو کعبہ کی عمارت گرانے پر آمادہ کیا۔ یزید بن رومان کہتے ہیں: جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا نے عمارت کو گرا کر تعمیر کیا اور حطیم کو اس میں داخل کیا، تو میں بھی موجود تھا، میں نے ابراہیم علیہ السلام کی رکھی ہوئی بنیاد دیکھی، اونٹوں کی کوہانوں کی طرح کے (بڑے بڑے) پتھر تھے، جو باہم جڑے ہوئے، (مستحکم) اور ایک دوسرے میں پیوست تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1047]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 43

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں