سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
طواف وداع، اقسام طواف، نماز طواف کا محل، سوار ہو کر طواف کرنا
ترقیم الباني: 1259 ترقیم فقہی: -- 1000
-" إذا أقيمت الصلاة فطوفي على بعيرك من وراء الناس".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے (تو ابھی تک) طواف نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز فجر پڑھی جانے لگے تو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لینا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1000]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1259
ترقیم الباني: 2992 ترقیم فقہی: -- 1001
-" إذا أقيمت صلاة الصبح فطوفي على بعيرك والناس يصلون. قاله لأم سلمة".
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، وہاں سے روانہ ہونے کا سوچ رہے تھے، جبکہ میں نے طواف نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں فرمایا: ”جب نماز فجر کھڑی کر دی جائئے اور لوگ نماز ادا کر رہے ہوں تو تم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کر لینا ہے۔“ انہوں ایسے ہی کیا، لیکن نماز نہ پڑھی، حتی کہ (مکہ سے) نکل گئی تھیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1001]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2992
جمروں کو کنکریاں مارنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 2515 ترقیم فقہی: -- 1002
-" إذا رميت الجمار كان لك نورا يوم القيامة".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تو جمروں کو کنکریاں مارے گا تو یہ (عمل) تیرے لیے قیامت کے روز نور ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1002]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2515
جمروں کو کنکریاں مارنے کے لیے پیدل آنا جانا چاہیے
ترقیم الباني: 2072 ترقیم فقہی: -- 1003
-" كان إذا رمى الجمار مشى إليها ذاهبا وراجعا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ کو کنکریاں مارتے تو پیدل آتے جاتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1003]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2072
رمی کا اصل وقت اور مجبور لوگوں کے لیے رخصت
ترقیم الباني: 3046 ترقیم فقہی: -- 1004
- (الراعي يَرْمِي بالليلِ، ويَرْعَى بالنهارِ).
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چرواہا رات کو کنکریاں مار لیا کرے اور دن کو جانور چرا لیا کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1004]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3046
ترقیم الباني: 2477 ترقیم فقہی: -- 1005
-" الراعي يرمي بالليل، ويرعى بالنهار".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چرواہا رات کو کنکریاں مار لیا کرے اور دن کو جانور چرا لیا کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1005]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2477
جمروں کے لیے کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں؟
ترقیم الباني: 2144 ترقیم فقہی: -- 1006
-" عليكم بحصى الخذف الذي ترمى به الجمرة".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فرمایا: ” سکینت کو اختیار کرو۔“ اس حال میں آپ خود اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روک رہے تھے، حتی کہ منیٰ میں داخل ہو گئے اور وادی محسر میں اتر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو، جن سے جمرے کو مارا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1006]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2144
دس ذوالحجہ کو جمرہ کی رمی کے بعد محرم پر عورتوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جاتی ہے
ترقیم الباني: 239 ترقیم فقہی: -- 1007
-" إذا رميتم الجمرة فقد حل لكم كل شيء إلا النساء".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لو تو (احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں) حلال ہو جائیں گی، سوائے عورتوں کے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1007]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 239
تکمیل حج کے بعد گھروں کے لیے فورا رخت سفر باندھنا
ترقیم الباني: 1379 ترقیم فقہی: -- 1008
-" إذا قضى أحدكم حجه فليعجل الرحلة إلى أهله، فإنه أعظم لأجره".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنا حج پورا کر لے تو وہ اپنے گھر کی طرف لوٹنے میں جلدی کرے، کیونکہ یہ چیز زیادہ اجر کا باعث ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1008]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1379
حج کے ساتھ عمرہ کرنا
ترقیم الباني: 2469 ترقیم فقہی: -- 1009
-" يا آل محمد! من حج منكم فليهل بعمرة في حجة".
ابوعمران جونی کہتے ہیں: میں نے اپنے آقاؤں کے ساتھ حج کیا، ایک دن میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: ام المؤمنین! میں نے (اس موقع سے پہلے) کبھی حج نہیں کیا، اب میں حج سے ابتدا کروں یا عمرے سے؟ انہوں نے کہا: تیری مرضی ہے، حج سے پہلے عمرہ کر لے یا حج کے بعد۔ پھر میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلا گیا، انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا، پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آیا اور ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی بات سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے آل محمد! تم میں سے جو شخص حج کرے، وہ عمرہ سمیت حج کا احرام باندھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحج والعمرة/حدیث: 1009]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2469