🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
طبعی حالت کے بارے میں سوال کا جواب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2952 ترقیم فقہی: -- 1158
-" كيف أصبحت يا فلان؟ قال: أحمد الله إليك يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا الذي أردت منك".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”اے فلاں! صبح کیسی ہوئی؟“ ا‏‏‏‏س نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بارے میں میرا یہی ارادہ تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1158]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2952

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق مہر کی رقم مقرر کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2173 ترقیم فقہی: -- 1159
-" لو كنتم تغرفون من بطحان ما زدتم".
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی بیوی کے مہر میں تعاون حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ا‏‏‏‏س کو کتنا مہر دیا۔“ میں نے کہا: دو سو درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم وادی بطحان سے چلو بھی بھرتے ہوتے تو زیادہ نہ دیتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1159]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2173

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مال کا سوال کرنے سے گریز کرنے کی نصیحت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2198 ترقیم فقہی: -- 1160
-" ليستغن أحدكم عن الناس ولو بقضيب من سواك".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کوئی لوگوں سے غنی (‏‏‏‏اور بے نیاز) ہو جائے، اگرچہ مسواک کی شاخ کے ساتھ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1160]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2198

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2787 ترقیم فقہی: -- 1161
-" من أصابته فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته، ومن أنزلها بالله، أوشك الله له بالغنى، إما بموت عاجل أو غنى عاجل".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ فاقہ میں مبتلا ہوا (‏‏‏‏اور اسے پورا کرنے کے لیے) اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا، تو اس کا فاقہ پورا نہیں ہو گا اور جس نے اپنی فقیری کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا، تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو غنی عطا کر دے: جلدی موت کی صورت میں یا جلدی امیری کی صورت میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1161]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2787

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دوسرے سے مال کب لیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2209 ترقیم فقہی: -- 1162
-" ما آتاك الله من أموال السلطان من غير مسألة ولا إشراف، فكله وتموله".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکمرانوں کے اموال کی بابت سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمرانوں کا جو مال تجھے سوال اور حرص کے بغیر مل جائے، اس کو کھا لے اور (‏‏‏‏اس کے ذریعے اپنے مال میں) اضافہ کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1162]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2209

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بلاوجہ سوال کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2231 ترقیم فقہی: -- 1163
-" يا أبا بكر! ثلاث كلهن حق: ما من عبد ظلم بمظلمة فيغضي عنها لله عز وجل إلا أعز الله بها نصره، وما فتح رجل باب عطية يريد بها صلة إلا زاده الله بها كثرة، وما فتح رجل باب مسألة يريد بها كثرة إلا زاده الله بها قلة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس تشریف فرما تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ جب ا‏‏‏‏س شخص نے زیادہ گالیاں دیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعض گالیوں کا جواب دیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور چلے گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور کہا: اے اللہ کے رسول! وہ مجھ پر سب و شتم کرتا رہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کی بعض گالیوں کا جواب دیا تو آپ غصے میں آ گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دراصل تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا، جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے خود جوابی کاروائی شروع کی تو شیطان گھس آیا، اب میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے اس کی کچھ گالیوں کا جواب لوٹایا تو شیطان آ گیا اور میرے لائق نہیں کہ میں شیطان کے ساتھ بیٹھوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! تین چیزیں برحق ہیں: ?? جس آدمی پر ظلم کیا جائے اور وہ آگے سے چشم پوشی کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی زبردست مدد کرتے ہیں، ② جو آدمی تعلقات جوڑنے کے لیے عطیے دینا شروع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کثرت سے عطا کرتے ہیں اور ③ جو آدمی اپنے مال کو بڑھانے کے لیے (‏‏‏‏لوگوں سے) سوال کرنا شروع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ (‏‏‏‏اس کے مال کی) کمی میں اضافہ کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1163]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2231

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 499 ترقیم فقہی: -- 1164
-" من سأل وله ما يغنيه جاءت مسألته يوم القيامة خدوشا أو خموشا أو كدوحا في وجهه. قيل: يا رسول الله وما يغنيه؟ قال: خمسون درهما، أو قيمتها من الذهب".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سوال کیا، حالانکہ اس کے پاس موجود مال اس کو کفایت کرتا تھا، تو روز قیامت اس کا سوال اس کے چہرے پر خراش اور زخم کی صورت میں اور نوچے ہوئے چہرے کی کیفیت میں ظاہر ہو گا۔“ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتنی مقدار اسے کفایت کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس درہم اور ان کی قیمت کے برابر کا سونا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1164]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 499

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہبہ شدہ چیز واپس لینے پر وعید
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2282 ترقیم فقہی: -- 1165
-" مثل الذي يسترد ما وهب، كمثل الكلب يقيء فيأكل قيئه، فإذا استرد الواهب فليوقف، فليعرف بما استرد، ثم ليدفع إليه ما وهب".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کی مثال اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہبہ کرنے والا ہبہ کی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے کھڑا کر دیا جائے اور (‏‏‏‏ہبہ واپس لینے کے سبب کی) وضاحت کروائی جائے، پھر اس نے جو ہبہ دیا تھا، اسے لوٹا دیا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1165]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2282

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قرض امن کا دشمن ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2420 ترقیم فقہی: -- 1166
-" لا تخيفوا أنفسكم بعد أمنها، قالوا: وما ذاك يا رسول الله؟ قال: الدين".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امن کے بعد اپنے آپ کو خوفزدہ مت کرو۔ ”‏‏‏‏ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ارشاد کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏قرض۔ “ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1166]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2420

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ادائیگی کے عزم سے قرضہ لینے پر اللہ تعالیٰ کی معاونت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1029 ترقیم فقہی: -- 1167
-" من أخذ دينا وهو يريد أن يؤديه أعانه الله عز وجل".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرضہ لیا۔ کسی نے ان سے کہا: ام المؤمنین! آپ قرضہ تو لے رہی ہیں، لیکن اس کی ادائیگی کی (آپ میں طاقت ہی نہیں ہے)۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو بندہ قرضہ لیتا ہے اور اس کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1167]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1029

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں