سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سوئے ظن کو طول دینا
ترقیم الباني: 3942 ترقیم فقہی: -- 2446
- (إذا ظننتُم فلا تُحَقِّقوا. وإذا حسدتُم فلا تبغُوا. وإذا تطيَّرتُم فامضوا؛ وعلى الله توكلوا. وإذا وُزنتُم فأرجحُوا) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کو (کسی کے بارے میں سوئے) ظن ہو جائے تو اس کی چھان بین مت کرو، جب تم کسی سے حسد کرنے لگو تو ظلم مت کرو اور جب تم کو (اپنے کسی کام کے بارے میں) بدشگونی ہو جائے تو (مت رکو اور) اپنے کام کو جاری رکھو اور اللہ پر بھروسہ کرو اور جب تم (لین دین کے وقت) وزن کرو تو ترازو کا پلڑا جھکا دیا کرو (یعنی چیز وزن سے کچھ زیادہ دے دیا کرو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2446]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3942
مصافحہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 2004 ترقیم فقہی: -- 2447
-" إذا لقي المسلم أخاه المسلم، فأخذ بيده فصافحه، تناثرت خطاياهما من بين أصابعهما كما يتناثر ورق الشجر بالشتاء".
عبدہ بن ابولبابہ، مجاہد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کو ملتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو ان کی انگلیوں کے بیچ سے اس طرح گناہ گرتے ہیں جس طرح موسم سرما میں درختوں کے پتے جھڑتے ہیں۔ عبدہ کہتے ہیں: میں نے مجاہد سے کہا: یہ عمل تو بہت معمولی ہے (اور اجر اتنا زیادہ)۔ مجاہد نے کہا: ایسا مت کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا: اے نبی! اگر تم وہ سارے کا سارا بھی خرچ کر دیتے جو زمین میں ہے تو پھر بھی ان کے دلوں کو نہ جوڑ سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان محبت پیدا کر دی۔ عبدہ کہتے ہیں: اس سے میں نے دوسرے (اہل علم) پر مجاہد کی فضیلت پہچان لی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2447]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2004
فوت شدہ والدین کی طرف سے حج کرنا
ترقیم الباني: 3047 ترقیم فقہی: -- 2448
- (أرأيتَ لو كانَ على أبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قاضِيَهُ؟ قال: نعم. قال: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس نے حج نہیں کیا، کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے بارے میں) تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرے باپ پر قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے اس کی ادائیگی کرتا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہی معاملہ حج کا ہے، اس لیے) اپنے باپ کی طرف سے حج ادا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2448]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3047
چھ اعمال کی ضمانت پر جنت کی ضمانت
ترقیم الباني: 1470 ترقیم فقہی: -- 2449
-" اضمنوا لى ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم وأوفوا إذا وعدتم وأدوا إذا ائتمنتم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وكفوا أيديكم".
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں (۱) جب بات کرو تو سچ بولو، (۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو، (٣) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو، (٤) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، (٥) اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو، (٦) اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2449]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1470
والدین کی عظمت
ترقیم الباني: 515 ترقیم فقہی: -- 2450
-" من أدرك والديه أو أحدهما ثم دخل النار من بعد ذلك فأبعده الله وأسحقه".
سیدنا ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر آگ میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو (اپنی رحمت سے) دور کر دے اور اسے ہلاک کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2450]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 515
ترقیم الباني: 914 ترقیم فقہی: -- 2451
-" الوالد أوسط أبواب الجنة".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازاہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2451]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 914
ترقیم الباني: 3223 ترقیم فقہی: -- 2452
- (لا، ولكن برَّ أباك، وأحسن صحبته) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا، وہ ایک جھاڑی کے سائے میں تھا، اس نے کہا: ابن ابی کبشہ ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر گرد و غبار اڑایا ہے۔ اس کے بیٹے عبدالله بن عبدالله نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی! اگر آپ کی چاہت ہو تو میں اس کا سر (قلم کر کے) آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تو اپنے باپ سے نیکی کر اور حسن صحبت سے پیش آ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2452]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3223
ترقیم الباني: 913 ترقیم فقہی: -- 2453
-" دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة، قلت: من هذا؟ فقالوا: حارثة بن النعمان، كذلكم البر كذلكم البر (وكان أبر الناس بأمه) ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں قراءت کی آواز سنی۔ میں نے پوچھا: (جس کی آواز آ رہی ہے) یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: حارثہ بن نعمان ہے۔ یہی نیکی اور (حسن سلوک) ہے، یہی نیکی اور (حسن سلوک) ہے، وہ (حارثہ) اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرنے والا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2453]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 913
والدین کے حکم پر بیوی کو طلاق
ترقیم الباني: 919 ترقیم فقہی: -- 2454
-" أطع أباك وطلقها".
حمزہ بن عبداللہ بن عمر اپنے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، جس سے میں محبت کرتا تھا اور (میرے باپ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے نفرت کرتے تھے۔ میرے باپ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کو طلاق دے دو۔ لیکن میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اپنے باپ کی فرمانبرداری کرو اور اس کو طلاق دے دو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2454]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 919
والدین کی رضامندی، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے معیار
ترقیم الباني: 516 ترقیم فقہی: -- 2455
-" رضى الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی رضا مندی باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2455]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 516