🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
پہلوان کون؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3406 ترقیم فقہی: -- 2417
- (ما تَعُدُّون الرَّقُوب فيكم؟ قال: قلنا: الذي لا يولدُ له. قالَ: ليسَ ذاكَ بالرّقُوبِ، ولكنّه الرّجلُ الذي لم يقدِّم من ولده شيئاً. قال: فما تعدُّون الصُّرَعةَ فيكُم؟ قال: قلنا: الذي لا يصرَعُه الرجِال. قال: ليسَ بذلكَ، ولكنّه الذي يملِكُ نفسهُ عند الغَضَبِ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏تم اپنے مابین کس کو ” «رقوب» ‏‏‏‏“ یعنی لاولد شمار کرتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے آدمی کو «رقوب» نہیں کہتے، بلکہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے اپنی اولاد میں سے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏کوئی بچہ) آگے نہ بھیجا ہو۔ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یعنی اس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو)“ پھر فرمایا: ”تم کس کو زبردست پہلوان شمار کرتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: جسے کوئی آدمی پچھاڑ نہ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص تو پہلوان نہیں ہوتا، بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کی وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2417]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3406

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اگر کسی سے کسی کی حق تلفی ہو جائے تو دونوں کا انداز کیا ہونا چاہیے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3258 ترقیم فقہی: -- 2418
- (أجل، فلا ترُدَّ عليهِ، ولكن قل: غفر اللهُ لك يا أبا بكرٍ! غفر الله لك يا أبا بكرٍ!) .
سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زمین دی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی زمین دی۔ ہم پر دنیا غالب آ گئی، کھجور کے ایک درخت کے بارے میں ہمارا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری زمین کی حد میں ہے۔ میں نے کہا: یہ میری حد میں ہے۔ میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان سخت کلامی ہوئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا کلمہ کہا جس کو میں نے ناپسند کیا اور وہ خود بھی شرمندہ ہوئے۔ (‏‏‏‏بالآخر) انہوں نے مجھے کہا: اے ربیعہ! مجھے یہی کلمہ کہو تاکہ بدلہ ہو جائے۔ لیکن میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے ضرور کہنا پڑے گا، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کروں گا۔ میں نے کہا: میں ایسا (‏‏‏‏جملہ) نہیں کہوں گا۔ ربیعہ کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ زمین چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیے، میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔ بنو اسلم قبیلہ کے چند لوگ آئے اور انہوں نے کہا: اللہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، بھلا وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز کے متعلق تیرے خلاف فریاد کریں گے۔ حالانکہ انہوں نے جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ چکے۔ میں نے کہا: تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، (‏‏‏‏غار ثور) کے دونوں میں سے دوسرے وہ تھے اور وہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں۔ پس تم بچو (‏‏‏‏کہیں ایسا نہ ہو) کہ وہ تم کو اپنے خلاف میری مدد کرتے ہوئے دیکھ کر غصے ہو جائیں، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور آپ اس کے غصے کی وجہ سے ناراض ہو جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے اور ربیعہ ہلاک ہو جائے۔ انہوں نے کہا: تو (‏‏‏‏پھر ایسے میں) تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: تم چلے جاؤ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور میں بھی اکیلا ہی ان کے پیچھے چل پڑا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جیسی بات تھی ویسے ہی بیان کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر میری طرف اٹھایا اور فرمایا: ”اے ربیعہ تیرے اور صدیق کے مابین کیا معاملہ ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! معاملہ تو ایسے ایسے تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسا کلمہ کہا جس کو میں نے ناپسند کیا، پھر انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں بھی ان کو وہی بات کہہ دوں تاکہ لے پلے ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، تم نے اب (‏‏‏‏قصاصًا) وہ بات دوہرانی نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا ہے کہ اے ابوبکر! اللہ تجھے معاف کر دے۔ اے ابوبکر! اللہ تجھے معاف کر دے۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے تو وہ رو رہے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2418]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3258

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خاموشی بہترین عمل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1938 ترقیم فقہی: -- 2419
-" عليك بحسن الخلق وطول الصمت، فوالذي نفسي بيده ما عمل الخلائق بمثلهما".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”اے ابوذر! کیا میں تجھے دو خوبیوں سے آگاہ نہ کر دوں، جن کی ادائیگی آسان ہے، لیکن وہ ترازو میں دیگر تمام نیکیوں سے بھاری ہوں گی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حسن خلق اور طویل خاموشی کو لازم پکڑ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مخلوقات نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو (‏‏‏‏ان دو نیکیوں کے) برابر ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2419]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1938

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حفاظت زبان کی تلقین اور اس کے وبال کا تذکرہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1122 ترقیم فقہی: -- 2420
-" احفظ لسانك. ثكلتك أمك معاذ! وهل يكب الناس على وجوههم إلا ألسنتهم".
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مرسلاً مروی ہے: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، تو اپنی زبان کی حفاظت کیا کر، کیونکہ لوگوں کو جہنم میں ان کی زبانوں کی وجہ سے ہی پھینکا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2420]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1122

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1285 ترقیم فقہی: -- 2420M
-" إذا أتى أحدكم خادمه بطعام قد ولى حره ومشقته ومؤنته فليجلسه معه: فإن أبى فليناوله أكلة في يده".
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام تمہارا بھائی ہے، پس جب وہ تیرے لیے کھانا بنائے تو اسے اپنے پاس بٹھا لے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏تاکہ وہ بھی کھا لے)، اگر وہ انکار کر دے تو اسے کھانا کھلا دیا کر اور ان کے چہروں پر نہ مارا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2420M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1285

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
غلاموں اور خادموں کے حقوق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1285 ترقیم فقہی: -- 2421
-" إذا أتى أحدكم خادمه بطعام قد ولى حره ومشقته ومؤنته فليجلسه معه: فإن أبى فليناوله أكلة في يده".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏جب تم میں سے کسی کے لیے اس کا خادم کھانا لائے، چونکہ وہی کھانے کی حرارت اور محنت و مشقت برداشت کرتا ہے، اس لیے (‏‏‏‏مالک کو) چاہئے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے، اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرے تو اسے اس کے ہاتھ میں کھانا تھما دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2421]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1285

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1043 ترقیم فقہی: -- 2422
-" إذا جاء خادم أحدكم بطعامه قد كفاه حره وعمله، فإن لم يقعده معه ليأكل، فليناوله أكلة من طعامه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے، تو چونکہ اس نے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏کھانا پکانے کی) حرارت اور (‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏مزید) محنت و مشقت برداشت کی ہوتی ہے، (‏‏‏‏اس لیے مالک کو چاہئیے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے تاکہ وہ بھی کھانا تناول کر سکے) اگر وہ اسے کھانے کے لیے اپنے ساتھ نہ بٹھانا چاہے تو اسے کچھ کھانا تھما دیا کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2422]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1043

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 740 ترقیم فقہی: -- 2423
-" أرقاءكم، أرقاءكم، أطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تلبسون، فإن جاءوا بذنب لا تريدون أن تغفروه فبيعوا عباد الله ولا تعذبوهم".
سیدنا یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ”اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔ جیسا خود کھاتے ہو ویسا ا‏‏‏‏ن کو بھی کھلاؤ۔ جیسا خود پہنتے ہو ویسا ا‏‏‏‏ن کو بھی پہناؤ۔ اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھیں جو تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ا‏‏‏‏ن بندوں کو بیچ دو اور ا‏‏‏‏ن کو عذاب نہ دو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2423]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 740

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 488 ترقیم فقہی: -- 2424
-" اعفوا عنه (يعني الخادم) في كل يوم سبعين مرة".
عباس بن جلید حجری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کتنی دفعہ خادم سے درگزر کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے پھر یہی جملہ دہرایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے۔ جب اس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏روزانہ ستر بار درگزر کیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2424]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 488

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
محب کا محبوب کو اپنی محبت کی خبر دینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1199 ترقیم فقہی: -- 2425
-" إذا أحب أحدكم أخاه في الله فليبين له، فإنه خير في الإلفة وأبقى في المودة".
علی بن حسین سے مرسلاً روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے الله تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیونکہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2425]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1199

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں