🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
والدین کے نافرمان، شرابی، احسان جتلانے والے اور دیوث کی مذمت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3099 ترقیم فقہی: -- 2456
- (ثلاثةٌ لا يَنظرُ اللهُ إليهم يومَ القيامةِ: العاقُّ لوالديهِ، ومُدْمِنُ الخَمرِ، والمنانُ عطاءهُ. وثلاثةٌ لا يدخلون الجنة: العاقُّ لوالديه، والدَّيُّوثُ، والرَّجُلَةُ) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے روز تین آدمیوں کی طرف نظر (‏‏‏‏رحمت) سے نہیں دیکھے گا: (۱) ‏‏‏‏والدین کا نافرمان (۲) شراب کا عادی اور (‏‏‏‏۳) اپنے دئیے پر احسان جتلانے والا۔ جبکہ تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے: (‏‏‏‏۱) والدین کا نافرمان (‏‏‏‏۲) دیوث اور (‏۳) مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورت۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2456]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3099

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
برائی کا اثر زائل کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1228 ترقیم فقہی: -- 2457
-" اعبد الله ولا تشرك به شيئا. قال: يا نبي الله زدني. قال: إذا أسأت فأحسن. قال: يا نبي الله زدني. قال: استقم ولتحسن خلقك".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ‏‏‏‏وصیت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔“ انہوں نے کہا، اے اللہ کے نبی! مزید وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو برائی کرے تو فوراً نیکی کر۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اور کوئی وصیت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثابت قدم رہ، نیز تیرا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2457]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1228

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سلام عام کرنا، کھانا کھلانا اور اللہ تعالیٰ سے شرمانا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3559 ترقیم فقہی: -- 2458
- (أفشِ السَّلام وابذلِ الطعامَ. واستحي من الله استحياءك رجُلاً من أهلك. وإذا أسأت فأحسن، ولتُحسن خُلقك ما استطعت) .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک قوم کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، اللہ تعالیٰ سے اتنا حیاء کرو جتنا کہ تم اپنے گھر کے آدمی سے کرتے ہو، جب گناہ ہو جائے تو (اس کا اثر ختم کرنے کے لیے) فوراً نیکی کرو اور حسب استطاعت اپنے اخلاق کو اچھا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2458]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3559

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سلام میں پہل کرنے والا افضل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3382 ترقیم فقہی: -- 2459
- (إن أولى الناس بالله؛ من بدأهم بالسّلام) .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نزدیک وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2459]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3382

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سلام نہ کرنے والا انتہائی بخیل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3383 ترقیم فقہی: -- 2460
- (ما رأيت الذي هو أبخل منك؛ إلا الذي يبخل بالسلام) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: فلاں آدمی کا میرے باغ میں کھجور کا درخت ہے اور اس نے مجھے بڑی تکلیف دے رکھی اور اس کے کھجور کے درخت کا وجود میرے لیے باعث تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”فلاں کے باغ میں جو تیرا درخت ہے وہ مجھے فروخت کر دے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جنت میں کھجور کے درخت کے عوض مجھے دے دے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھ سے بڑھ کر بخیل نہیں دیکھا، بجز اس شخص کے جو سلام (‏‏‏‏کے معاملہ) میں بخل کرتا ہے (‏‏‏‏وہ سب سے بڑا بخیل ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2460]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3383

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بچوں کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2950 ترقیم فقہی: -- 2461
-" السلام عليكم يا صبيان!".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بچو! «السلام عليكم» ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2461]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2950

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مؤمن کو خوش کرنا عظیم عمل ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1494 ترقیم فقہی: -- 2462
-" أفضل الأعمال أن تدخل على أخيك المؤمن سرورا أو تقضي عنه دينا أو تطعمه خبزا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افضل اعمال یہ ہیں کہ تو اپنے مومن بھائی کو خوش کرے یا ا‏‏‏‏س کا قرضہ ادا کر دے یا ا‏‏‏‏س کو روٹی کھلا دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2462]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1494

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2291 ترقیم فقہی: -- 2463
-" من أفضل الأعمال إدخال السرور على المؤمن، تقضي عنه دينا، تقضي له حاجة، تنفس له كربة".
سفیان بن عیینہ، ابن منکدر سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو خوش کرنا، ا‏‏‏‏س کا قرضہ چکانا، ا‏‏‏‏س کی ضرورت پوری کرنا اور اس سے کسی مصیبت کو دور کرنا افضل اعمال میں سے ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں: ابن منکدر سے کہا گیا کہ اب کوئی چیز ایسی بھی باقی رہ گئی ہے، جو لذیذ ہو؟ انہوں نے کہا: بھائیوں سے حسن سلوک کرنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2463]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2291

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صلح کروانا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2639 ترقیم فقہی: -- 2464
-" أفضل الصدقة إصلاح ذات البين".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں صلح کروانا نہایت افضل صدقہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2464]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2639

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2644 ترقیم فقہی: -- 2465
-" ألا أدلك على صدقة يحب الله موضعها؟ تصلح بين الناس، فإنها صدقة يحب الله موضعها".
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں ایسے صدقے کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں کہ اللہ تعالیٰ جس کے مصرف کو بہت پسند کرتے ہیں؟ تم لوگوں کے مابین صلح کروایا کرو۔ یہ ایسا صدقہ ہے کہ اللہ اس کے مصرف کو پسند کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2465]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2644

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں