سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
غیبت کے جواز کی صورتیں
ترقیم الباني: 1049 ترقیم فقہی: -- 2824
-" يا عائشة إن من شر الناس من تركه الناس، أو ودعه الناس اتقاء فحشه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) فرمانے لگے: ”یہ آدمی اپنے خاندان کا برا فرد ہے۔“ پھر اسے اجازت دے دی اور اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا، ( ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے شر سے بچنے کے لیے ان سے لا تعلق ہو جائیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2824]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1049
غیبت اور بہتان میں فرق
ترقیم الباني: 1419 ترقیم فقہی: -- 2825
-" من ذكر رجلا بما فيه فقد اغتابه ومن ذكره بغير ما فيه فقد بهته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (پیٹھ پیچھے) کسی آدمی میں پائی جانے والی برائیوں، کا ذکر کیا تو اس نے اس کی غیبت کی اور جس نے کسی آدمی کی ایسی برائیوں کا ذکر کیا جو اس میں نہیں ہیں تو اس نے اس پر جھوٹا الزام لگایا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2825]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1419
مومن پر سب و شتم کرنا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 1878 ترقیم فقہی: -- 2826
-" سباب المؤمن كالمشرف على هلكة".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو گالی دینا ہلاکت میں پڑنے والی بات ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2826]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1878
عورتوں کو راستوں کے کناروں پر چلنا چاہیے
ترقیم الباني: 856 ترقیم فقہی: -- 2827
-" ليس للنساء وسط الطريق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے لیے راستے کے درمیان میں چلنا درست نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2827]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 856
پڑوسی کے حقوق
ترقیم الباني: 149 ترقیم فقہی: -- 2828
-" ليس المؤمن الذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ نہیں ہوتا جو خود تو سیر ہو جائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2828]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 149
ترقیم الباني: 190 ترقیم فقہی: -- 2829
-" لا خير فيها، هي من أهل النار. يعني امرأة تؤذي جيرانها بلسانها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے، دن کو روزہ رکھتی ہے، صدقہ و خیرات کرتی ہے اور دیگر امور خیر کرتی ہے، لیکن ہمسائیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے، (ایسی عورت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورت میں تو کوئی خیر نہیں، یہ تو جہنمی ہے۔“ اس کے بعد اس نے کہا: فلاں عورت صرف فرض نمازیں ادا کرتی ہے اور پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، لیکن کسی کو تکلیف نہیں دیتی، (اس کے بارے میں کیا ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنتی عورت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2829]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 190
بہترین پڑوسی اور بہترین دوست کا انجام
ترقیم الباني: 103 ترقیم فقہی: -- 2830
-" خير الأصحاب عند الله خيرهم لصحابه، وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں، ساتھیوں میں سب سے بہتر ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو اور پڑوسیوں میں سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2830]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 103
مومن قبیح خصائل سے پاک ہوتا ہے
ترقیم الباني: 320 ترقیم فقہی: -- 2831
-" ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا بالفاحش ولا بالبذي".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ فضول گوئی اور زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2831]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 320
مہمان کی میزبانی فرض ہے
ترقیم الباني: 2204 ترقیم فقہی: -- 2832
-" ليلة الضيف حق على كل مسلم، فمن أصبح بفنائه فهو عليه دين إن شاء اقتضى وإن شاء ترك".
سیدنا ابوکریمہ شامی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہمان کی پہلے دن کی ضیافت ہر (میزبان) مسلمان پر حق ہے، کسی کے گھر آنے والے مہمان (کا حق) اس پر قرض ہوتا ہے، یہ مہمان کی مرضی ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کرے یا نہ کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2832]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2204
میزبانی میں زیادہ تکلف نہ کیا جائے
ترقیم الباني: 2440 ترقیم فقہی: -- 2833
-" لا يتكلفن أحد لضيفه ما لا يقدر عليه".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر تکلف نہ کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2833]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2440