سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک
ترقیم الباني: 3983 ترقیم فقہی: -- 3638
- (أَراني اللّيلةَ عند الكعبةِ، فرأيتُ رجُلاً آدمَ، كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من أُدمِ الرِّجالِ، له لِمَّةٌ كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من اللِّمَم، قد رجَّلَها فهي تقطُر ماءً، متكئاً على رجُلين أو على عواتق رجلينِ، يطوفُ بالكعبةِ، فسألتُ: من هذا؟ قيل: هذا المسيحُ ابنُ مريمَ. ثمّ إذا أنا برجلٍ جَعدٍ قطَطٍ، أعور العينِ اليمنَى، كأنّها عِنّبةٌ طافية، فسألتُ: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيحُ الدّجالُ) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آج رات اپنے آپ کو خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا، میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا تھا، اس رنگ میں وہ انتہائی خوبصورت آدمی تھا، اس کی بہت خوبصورت زلفیں تھیں، اس نے کنگھی کر رکھی تھی اور ان سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، اس نے دو آدمیوں یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ٹیک لگا رکھی تھی اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ کہا گیا کہ یہ مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک اور آدمی دیکھا جو چھوٹے گھونگھریالے بالوں والا تھا، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی اور وہ خوشئہ انگور میں ابھرے ہوئے دانے کی طرح لگتی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مجھے کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3638]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3983
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صفات
ترقیم الباني: 2733 ترقیم فقہی: -- 3639
-" والذي نفس أبي القاسم بيده لينزلن عيسى ابن مريم إماما مقسطا وحكما عدلا، فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليصلحن ذات البين وليذهبن الشحناء وليعرضن عليه المال فلا يقبله، ثم لئن قام على قبري فقال: يا محمد لأجبته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے! عیسیٰ بن مریم علیہ السلام انصاف پسند امام اور عدل پسند حکمران بن کر ضرور نازل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، تعلقات میں صلح صفائی کریں گے، عداوت ختم ہو جائے گی، ان پر مال پیش کیا جائے گا لیکن وہ قبول نہیں کریں گے، اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہوئے اور کہا: اے محمد! تو میں ان کو جواب دوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3639]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2733
ترقیم الباني: 1926 ترقیم فقہی: -- 3640
-" طوبى لعيش بعد المسيح، طوبى لعيش بعد المسيح يؤذن للسماء في القطر ويؤذن للأرض في النبات، فلو بذرت حبك على الصفا لنبت، ولا تشاح ولا تحاسد ولا تباغض، حتى يمر الرجل على الأسد ولا يضره، ويطأ على الحية فلا تضره ولا تشاح ولا تحاسد ولا تباغض".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ علیہ السلام کے بعد والی زندگی کے لیے خوشخبری ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے بعد والی زندگی کے لیے خوشخبری ہے، آسمان کو برسنے کی اور زمین کو کھیتیاں اگانے کی (کھلی) اجازت دی جائے گی۔ اگر تم اس وقت صفا پہاڑی پر بھی بیج کاشت کرو گے تو وہ اگ آئے گا۔ (لوگوں میں) ایک دوسرے سے فوقیت و برتری لے جانے کی کوئی تمنا نہیں ہو گی، حسد و بغض ختم ہو جائے گا اور (اتنا امن ہو گا کہ) آدمی شیر کے پاس سے گزر جائے گا، وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور آدمی سانپ کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اسے کوئی تکلیف نہیں دے گا۔ لوگوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوئی تڑپ باقی نہیں رہے گی اور نہ کوئی حسد و بغض ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3640]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1926
ترقیم الباني: 2236 ترقیم فقہی: -- 3641
-" ينزل عيسى بن مريم، فيقول أميرهم المهدي: تعال صل بنا، فيقول: لا إن بعضهم أمير بعض، تكرمة الله لهذه الأمة".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے تو مسلمانوں کے امیر مہدی انہیں کہیں گے: آئیں اور نماز پڑھائیں۔ وہ کہیں گے: نہیں، تم ہی ایک دوسرے کے امام و امیر بن سکتے ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت و آبرو ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3641]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2236
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عیسیٰ علیہ السلام کو سلام بھیجنا
ترقیم الباني: 2308 ترقیم فقہی: -- 3642
-" من أدرك منكم عيسى ابن مريم، فليقرئه مني السلام".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو پا لے، تو انہیں میرا سلام پہنچائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3642]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2308
دجال اور اس کی شکل اور صفات
ترقیم الباني: 3983 ترقیم فقہی: -- 3643
- (أَراني اللّيلةَ عند الكعبةِ، فرأيتُ رجُلاً آدمَ، كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من أُدمِ الرِّجالِ، له لِمَّةٌ كأحسنِ ما أنتَ راءٍ من اللِّمَم، قد رجَّلَها فهي تقطُر ماءً، متكئاً على رجُلين أو على عواتق رجلينِ، يطوفُ بالكعبةِ، فسألتُ: من هذا؟ قيل: هذا المسيحُ ابنُ مريمَ. ثمّ إذا أنا برجلٍ جَعدٍ قطَطٍ، أعور العينِ اليمنَى، كأنّها عِنّبةٌ طافية، فسألتُ: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيحُ الدّجالُ) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آج رات اپنے آپ کو خواب میں کعبہ کے پاس دیکھا، میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا تھا، اس رنگ میں وہ انتہائی خوبصورت آدمی تھا، اس کی بہت خوبصورت زلفیں تھیں، اس نے کنگھی کر رکھی تھی اور ان سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، اس نے دو آدمیوں یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ٹیک لگا رکھی تھی اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ آدمی کون ہے؟ کہا گیا کہ یہ مسیح بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک اور آدمی دیکھا جو چھوٹے گھونگھریالے بالوں والا تھا، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی اور وہ خو شئہ انگور میں ابھرے ہوئے دا نے کی طرح لگتی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مجھے کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3643]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3983
ترقیم الباني: 1193 ترقیم فقہی: -- 3644
-" الدجال الأعور هجان أزهر (وفي رواية أقمر) كأن رأسه أصلة أشبه الناس بعبد العزى بن قطن، فإما هلك الهلك، فإن ربكم تعالى ليس بأعور".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کانا ہو گا، اس کا رنگ سفید ہو گا، ایسے لگتا ہے کہ اس کا سر چھوٹے مہلک سانپ (کے سر) کی طرح (یعنی اس کا سر بہت چھوٹا) ہو گا، لوگوں میں عبدالعزی بن قطن اس کے زیادہ مشابہ ہے، (ذہن نشین کر لو کہ مشابہت میں پڑ کر) ہلاک ہونے والے ہلاک ہوتے رہیں، بیثک تمہارا رب کانا نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3644]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1193
ترقیم الباني: 3079 ترقیم فقہی: -- 3645
- (يا عائشةُ! العربُ يومئذٍ قليلٌ. (يعني: بين يدي الدجال) . فقلت: ما يُجْزِي المؤمنين يومئذٍ من الطعامِ؟ قال: ما يُجْزِي الملائكة؛ التسبيحُ والتكبيرُ والتحميدُ والتهليلُ) .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے زمانے کی شدید مزاحمتوں کا ذکر کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔“ میں نے کہا: تو پھر کون سی چیز مومنوں کو کھانے سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فرشتوں کو کفایت کرتی ہے تسبیح، تکبیر، تحمید اور تہلیل۔“ میں نے کہا: ان دنوں میں کون سا مال بہتر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا خادم جو اپنے آقاؤں کو پانی پلا دے گا، رہا مسئلہ کھانے کا تو وہ تو (سرے سے) نہیں ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3645]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3079
ترقیم الباني: 1863 ترقیم فقہی: -- 3646
-" الدجال عينه خضراء كالزجاجة، ونعوذ بالله من عذاب القبر".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی آنکھ شیشے کی طرح سبز ہو گی اور ہم عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3646]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1863
ترقیم الباني: 3542 ترقیم فقہی: -- 3647
- (إنّ معَ الدّجال إذا خرج ماءً وناراً، فأما الذي يرى الناسُ أنها النار؛ فماءٌ باردٌ، وأما الذي يرى الناسُ أنه ماءٌ باردٌ؛ فنار تحرق، فمن أدرك منكم؛ فليقع في الذي يرى أنها نار؛ فإنه عذبٌ باردٌ) .
ربعی بن حراش کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آیا آپ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بیشک جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوں گے، جو چیز لوگوں کو آگ کی صورت میں نظر آئے گی وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہو گی اور لوگ جس چیز کو ٹھنڈا پانی تصور کریں گے وہ حقیقت میں جلانے والی آگ ہو گی اگر تم لوگ دجال کو پا لو تو اس میں گرنا، جو تمہیں آگ کی شکل میں نظر آئے گی، کیونکہ وہ دراصل میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہو گا۔“ سیدنا عقبہ نے سیدنا حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: میں نے بھی یہ حدیث سنی تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3647]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3542