سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کہاں تک پہنچے گی؟ بلآخر اسلام ہر گھر میں پہنچ جائے گا
ترقیم الباني: 2 ترقیم فقہی: -- 3678
-" إن الله زوى (أي جمع وضم) لي الأرض، فرأيت مشارقها ومغاربها وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها". الحديث.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھا۔ جتنی زمین میرے سامنے سکیڑ کر پیش کی گئی، وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3678]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2
ترقیم الباني: 3 ترقیم فقہی: -- 3679
-" ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين بعز عزيز أو بذل ذليل عزا يعز الله به الإسلام وذلا يذل به الكفر".
سیدنا مقداد، سیدنا ابوثعلبہ، سیدنا تمیم داری اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی شہری اور دیہاتی گھر نہیں چھوڑے گا، مگر اس میں عزیز کی عزت و آبرو کے ساتھ یا ذلیل کی توہین و ذلالت کے ساتھ دین کو پہنچا دیں گے، عزت وہ ہے جو اسلام کے ساتھ ملے اور ذلت وہ ہے جو کفرکے ساتھ ملے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3679]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3
نیک لوگوں کا سفارش کرنا
ترقیم الباني: 2505 ترقیم فقہی: -- 3680
-" إن الرجل يشفع للرجلين وللثلاثة والرجل للرجل".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض آدمی دو دو اور تین تین افراد کے حق میں اور بعض صرف ایک آدمی کے حق میں سفارش کریں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3680]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2505
قسطنطنیہ پہلے فتح ہوا یا رومیہ
ترقیم الباني: 4 ترقیم فقہی: -- 3681
- عن أبى قبيل قال: كنا عند عبد الله بن عمرو بن العاصي وسئل أي المدينتين تفتح أولا القسطنطينية أو رومية؟ فدعا عبد الله بصندوق له حلق، قال: فأخرج منه كتابا قال: فقال عبد الله: بينما نحن حول رسول الله صلى الله عليه وسلم نكتب، إذ سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي المدينتين تفتح أولا أقسطنطينية أو رومية؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" مدينة هرقل تفتح أولا. يعني قسطنطينية"..
ابوقبیل کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان سے یہ سوال کیا گیا: کون سا شہر پہلے فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا روم؟ سیدنا عبداللہ نے صندوق منگوایا، اس کے ساتھ کڑے لگے ہوئے تھے۔ اس سے ایک کتاب نکالی۔ پھر انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارداگرد بیٹھے لکھ رہے تھے، اچانک آپ سے سوال کیا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر قل والا شہر (قسطنطنیہ) پہلے فتح ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3681]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4
کلمہ شہادت، گناہوں کے ننانوے دفاتر پر بھاری
ترقیم الباني: 135 ترقیم فقہی: -- 3682
-" إن الله سيخلص رجلا من أمتي على رءوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا، كل سجل مثل مد البصر ثم يقول: أتنكر من هذا شيئا؟ أظلمك كتبتي الحافظون؟ فيقول: لا يا رب، فيقول أفلك عذر؟ فيقول: لا يا رب. فيقول: بلى إن لك عندنا حسنة فإنه لا ظلم عليك اليوم. فتخرج بطاقة فيها: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله. فيقول: هاحضر وزنك، فيقول: ما هذه البطاقة مع هذه السجلات؟! فقال: إنك لا تظلم، قال: فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة، فطاشت السجلات وثقلت البطاقة، فلا يثقل مع اسم الله شيء".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ روز قیامت میری امت میں سے ایک آدمی کو تمام مخلوقات کے سامنے لائے گا۔ اس کے سا منے ننانوے رجسڑ پھیلا دیے جائیں گے (جن میں اس کے گناہوں کا اندراج ہو گا)، ہر رجسٹر تاحد نگاہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تو ان (گناہوں میں سے) کسی گناہ کا انکار کر سکتا ہے ( کہ وہ تو نے نہ کیا ہو)؟ کیا میرے کاتب اور محافظ فرشتوں نے تجھ پر کوئی ظلم کیا؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ پوچھے: آیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں، ہمارے ہاں تیری ایک نیکی محفوظ ہے، آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کے لیے ایک پرچہ نکالا جائے گا، جس پر «اشهد ان لا اله الا الله وان محمد عبده ورسوله» لکھا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے کہے گا: میزان والی جگہ پر پہنچ۔ وہ کہے گا: ان رجسٹروں کے سامنے یہ پرچہ کیا کر سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کہے گا! آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ پھر ترازو کے ایک پلڑے میں (ننانوے) رجسٹر رکھے جائیں گے اور دوسرے میں وہ پرچہ ( نتیجتاً) وہ رجسٹر (کم وزن ہونے کی وجہ سے) اوپر کو اٹھ جائیں گے اور پرچے (والا پلڑا) بھاری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کے نام کے، مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3682]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 135
مومن کو اس کی نیکی کا صلہ دنیا و آخرت میں ملتا ہے
ترقیم الباني: 53 ترقیم فقہی: -- 3683
-" إن الله لا يظلم مؤمنا حسنته يعطى بها (وفي رواية: يثاب عليها الرزق في الدينا) ويجزى بها في الآخرة وأما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل بها لله في الدنيا حتى إذا أفضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يجزى بها".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ مومن پر اس کی نیکی کے سلسلے میں ظلم نہیں کرتا، اسے اس کی نیکی کی وجہ سے دنیا میں بھی رزق عطا کیا جاتا ہے اور آخرت میں اجر و ثواب سے بھی نوازا جاتا ہے۔ رہا مسئلہ کافر کا تو اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں چکا دیا جاتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی کہ اسے جزا دی جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3683]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 53
کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں مل جاتا ہے
ترقیم الباني: 53 ترقیم فقہی: -- 3684
-" إن الله لا يظلم مؤمنا حسنته يعطى بها (وفي رواية: يثاب عليها الرزق في الدينا) ويجزى بها في الآخرة وأما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل بها لله في الدنيا حتى إذا أفضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يجزى بها".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ مومن پر اس کی نیکی کے سلسلے میں ظلم نہیں کرتا، اسے اس کی نیکی کی وجہ سے دنیا میں بھی رزق عطا کیا جاتا ہے اور آخرت میں اجر و ثواب سے بھی نوازا جاتا ہے۔ رہا مسئلہ کافر کا تو اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں چکا دیا جاتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی کہ اسے جزا دی جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3684]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 53
قیامت سے پہلے تمام مومن ایک ہوا سے مر جائیں گے
ترقیم الباني: 1659 ترقیم فقہی: -- 3685
-" إن الله يبعث ريحا من اليمن، ألين من الحرير، فلا تدع أحدا في قلبه مثقال حبة من إيمان إلا قبضته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گا، جو ریشم سے نرم ہو گی، وہ ہر اس بندے کو فوت کر دے گی جس کے دل میں ایک دانے کے بقدر ایمان ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3685]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1659
ترقیم الباني: 1780 ترقیم فقہی: -- 3686
-" تجيء ريح بين يدي الساعة، تقبض فيها أرواح كل مؤمن".
سیدنا عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی اور وہ ہر مومن کی روح قبض کر لے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3686]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1780
ترقیم الباني: 1108 ترقیم فقہی: -- 3687
-" لا تزال عصابة من أمتي يقاتلون على أمر الله قاهرين لعدوهم لا يضرهم من خالفهم حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك".
عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری کہتے ہیں: میں مسلمہ بن مخلد کے پاس تھا، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔ عبداللہ نے کہا: قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی، وہ جاہلیت والے لوگوں سے بھی بدتر ہوں گے، وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی پکار کو مردود قرار دے گا۔ اتنے میں ان کے پاس سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آ گئے، مسلمہ نے ان سے کہا: عقبہ! عبداللہ کی بات پر غور کرو، وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ اﷲ کے حکم کے مطابق قتال کرتا رہے گا، وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہے گا اور اس کے مخالفین اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہو گا۔“ یہ سن کر سیدنا عبداللہ نے کہا: جی ہاں، (لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ کستوری کی خوشبو کی حامل ہوا بھیجے گا، وہ ریشم کی طرح (نرم نرم) محسوس ہو گی، جس نفس کے دل میں ایک دانے کے برابر ایمان ہو گا، وہ اسے فوت کر دے گی، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان پر قیامت قائم ہو گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3687]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1108