🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں تقدیری فیصلے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 49 ترقیم فقہی: -- 3853
-" خلق الله آدم حين خلقه فضرب كتفه اليمنى، فأخرج ذرية بيضاء كأنهم الذر، وضرب كتفه اليسرى، فأخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم، فقال للذي في يمينه: إلى الجنة ولا أبالي وقال للذي في كتفه اليسرى: إلى النار ولا أبالي".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، جو چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی۔ پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائی اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی۔ پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3853]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 49

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بادلوں کا بولنا اور ہنسنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1665 ترقیم فقہی: -- 3854
-" إن الله عز وجل ينشئ السحاب فينطق أحسن النطق، ويضحك أحسن الضحك".
ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ حمید بن عبدالرحمٰن کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں وہاں سے بنوغفار کے خوبصورت بزرگ، جو کچھ بہرے تھے، کا گزر ہوا۔ حمید نے انہیں بلوا بھیجا، جب وہ آئے تو حمید نے میرے باپ سے کہا: میرے اور اپنے درمیان اس بزرگ کے بیٹھنے کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ وہ آئے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ حمید نے ان سے کہا: وہ حدیث کون سی ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتے ہیں، پھر وہ بادل حسین انداز میں بولتے ہیں اور خوبصورت انداز میں ہنستے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3854]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1665

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سب سے پہلی مخلوق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3136 ترقیم فقہی: -- 3855
- (إنَّ أول شيءٍ خَلَقَهَ الله عزَّ وجلَّ: القلمُ، فأخذَهُ بيمينه- وكلتا يديهِ يمين- قال: فكتبَ الدنيا وما يكونُ فيها من عملٍ معمولٍ: بِرَّ أو فجورٍ، رطب أو يابس، فأحصاهُ عندَه في الذِّكر، ثم قال: اقرَأُوا إن شئتم: (هذا كتابُنا يَنْطِقُ عليكم بالحق إنا كنا نَسْتَنْسِخُ ما كنتم تعملون) ؛ فهل تكون النسخةُ إلا مِنْ أمرٍ قد فُرغَ منه) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، پھر اس نے دنیا کو، اور دنیا میں کی جانے والی ہر نیکی و بدی اور رطب و یابس کو لکھا اور سب چیزوں کو اپنے پاس لوح محفوظ میں شمار کر لیا۔ پھر فرمایا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: «هَـذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» ‏‏‏‏ ”یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ مچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے ہیں۔“ (45-الجاثية:29) لکھنا اور نقل کرنا اسی امر میں ہوتا ہے جس سے فارغ ہوا جا چکا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3855]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3136

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 133 ترقیم فقہی: -- 3856
-" إن أول شيء خلقه الله تعالى القلم وأمره أن يكتب كل شيء يكون".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے (‏‏‏‏مستقبل میں) ہونے والی ہر چیز کو لکھنے کا حکم دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3856]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 133

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بتوں کی عبادت کرنے والا پہلا شخص
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1677 ترقیم فقہی: -- 3857
-" إن أول من سيب السوائب وعبد الأصنام أبو خزاعة عمرو بن عامر وإني رأيته يجر أمعاءه في النار".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، جو خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3857]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1677

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنو اسرائیل کے خلیفے کا واقعہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2833 ترقیم فقہی: -- 3858
-" إن بني إسرائيل استخلفوا خليفة عليهم بعد موسى صلى الله عليه وسلم، فقام يصلي ليلة فوق بيت المقدس في القمر فذكر أمورا كان صنعها فخرج، فتدلى بسبب، فأصبح السبب معلقا في المسجد وقد ذهب. قال: فانطلق حتى أتى قوما على شط البحر فوجدهم يضربون لبنا أو يصنعون لبنا، فسألهم: كيف تأخذون على هذا اللبن؟ قال: فأخبروه، فلبن معهم، فكان يأكل من عمل يده، فإذا كان حين الصلاة قام يصلي، فرفع ذلك العمال إلى دهقانهم، أن فينا رجلا يفعل كذا وكذا، فأرسل إليه فأبى أن يأتيه، ثلاث مرات، ثم إنه جاء يسير على دابته فلما رآه فر فاتبعه فسبقه، فقال: أنظرني أكلمك، قال: فقام حتى كلمه، فأخبره خبره فلما أخبره أنه كان ملكا وأنه فر من رهبة ربه، قال: إني لأظنني لاحق بك، قال: فاتبعه، فعبدا الله حتى ماتا برميلة مصر، قال عبد الله: لو أني كنت ثم لاهتديت إلى قبرهما بصفة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي وصف لنا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد اپنے لیے ایک خلیفہ مقرر کیا، ایک دن وہ چاندنی رات کو بیت المقدس کے اوپر نماز پڑھنے لگ گیا اور وہ امور یاد کئے جو اس نے سر انجام دیے تھے۔ پھر وہ وہاں سے نکلا اور رسّی کے ساتھ لٹکا۔ مسجد میں رسی لٹکی رہی اور وہ وہاں سے چلا گیا اور سمندر کے کنارے پر ایسے لوگوں کے پاس پہنچ گیا جو کچی اینٹیں بنا رہے تھے۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ یہ اینٹیں بنانے کی کتنی اجرت لیتے ہو؟ انہوں نے (‏‏‏‏ساری صورتحال) بتائی۔ نتیجتاً اس نے بھی اینٹیں بنانا شروع کر دیں اور اپنے ہاتھ کی کمائی سے گزر بسر کرنے لگ گیا۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ نماز پڑھتا تھا۔ عُمال نے یہ بات اپنے سردار تک پہنچا دی کہ ایک آدمی ایسے ایسے کرتا ہے۔ ا‏‏‏‏س نے اس کو بلایا، لیکن اس نے ا‏‏‏‏س کے پاس جانے سے انکار کر دیا، ایسے تین دفعہ ہوا، بالآخر وہ سواری پر سوار ہو کر آیا، جب اس نے اس کو آتے ہوئے دیکھا تو بھاگنا شروع کر دیا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور اس سے سبقت لے گیا اور کہا: مجھے اتنی مہلت دو کہ میں تمہارے ساتھ بات کر سکوں۔ چنانچہ وہ ٹھہر گیا، اس نے ا‏‏‏‏س سے بات کی، اس نے ساری صورتحال واضح کی اور کہا کہ میں بھی ایک بادشاہ تھا، لیکن اپنے رب کے ڈر کی وجہ سے بھاگ آیا ہوں۔ اس نے یہ سن کر کہا: مجھے گمان ہے کہ میں بھی تمہارے ساتھ مل جاؤں گا، پھر وہ اس کے پیچھے چلا گیا اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، حتیٰ کہ مصر کے رمیلہ مقام پر فوت ہو گئے۔“ ‏‏‏‏سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں وہاں ہوتا تو ان کی قبروں کو ان صفات کی بناء پر پہچان لیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3858]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2833

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نزول تورات کے بعد کسی قوم کو آسمانی عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا، ماسواے . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2258 ترقیم فقہی: -- 3859
-" ما أهلك الله قوما ولا قرنا ولا أمة ولا أهل قرية منذ أنزل التوراة على وجه الأرض بعذاب من السماء، غير أهل القرية التي مسخت قردة، ألم تر إلى قوله تعالى: * (ولقد آتينا موسى الكتاب من بعد ما أهلكنا القرون الأولى بصائر للناس وهدى ورحمة لعلهم يتذكرون) * (¬1)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب تورات نازل کی، اس وقت سے روئے زمین پر بسنے والی کسی قوم، کسی نسل، کسی امت اور کسی بستی والوں کو آسمانی عذاب سے ہلاک نہیں کیا۔ البتہ ایک گاؤں والوں کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کر دیا گیا تھا۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف نہیں دیکھتے: «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» ”‏‏‏‏اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت و رحمت ہو کر آئی تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ (28-القصص:43) [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3859]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2258

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بنو اسرائیل نے تورات ترک کر کے خود ایک کتاب ایجاد کر لی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2832 ترقیم فقہی: -- 3860
-" إن بني إسرائيل كتبوا كتابا فاتبعوه وتركوا التوراة".
ابوبردہ اپنے باپ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بنو اسرائیل نے خود ایک کتاب لکھی اور اس کی پیروی کرنے لگ گئے اور توراۃ کو ترک کر دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3860]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2832

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بنو اسرئیل کا بہترین فرقہ اصحاب ابوقرن تھا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2694 ترقیم فقہی: -- 3861
-" إن بني إسرائيل لما طال الأمد وقست قلوبهم اخترعوا كتابا من عند أنفسهم، استهوته قلوبهم واستحلته ألسنتهم، وكان الحق يحول بينهم وبين كثير من شهواتهم، حتى نبذوا كتاب الله وراء ظهورهم كأنهم لا يعلمون، فقالوا: (الأصل: فقال) اعرضوا هذا الكتاب على بني إسرائيل، فإن تابعوكم عليه، فاتركوهم، وإن خالفوكم فاقتلوهم. قال: لا، بل ابعثوا إلى فلان - رجل من علمائهم - فإن تابعكم فلن يختلف عليكم بعده أحد. فأرسلوا إليه فدعوه، فأخذ ورقة فكتب فيها كتاب الله، ثم أدخلها في قرن، ثم علقها في عنقه، ثم لبس عليها الثياب، ثم أتاهم، فعرضوا عليه الكتاب فقالوا: تؤمن بهذا؟ فأشار إلى صدره - يعني الكتاب الذي في القرن - فقال: آمنت بهذا، ومالي لا أؤمن بهذا؟ فخلوا سبيله. قال: وكان له أصحاب يغشونه فلما حضرته الوفاة أتوه، فلما نزعوا ثيابه وجدوا القرن في جوفه الكتاب، فقالوا: ألا ترون إلى قوله: آمنت بهذا، ومالي لا أؤمن بهذا، فإنما عنى بـ (هذا) هذا الكتاب الذي في القرن قال: فاختلف بنو إسرائيل على بضع وسبعين فرقة، خير مللهم أصحاب أبي القرن".
ربیع بن عمیلہ کہتے ہیں: سیدنا عبدللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں اتنی بہترین حدیث بیان کی، کہ ہم نے اسے قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات کے بعد حسین پایا، وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بنو اسرائیل کی مدت دراز ہوئی اور ان کے دل سخت ہو گئے تو انہوں نے خود ایک ایسی کتاب ترتیب دی، جو ان کے دلوں کو پسند اور زبانوں کو میٹھی لگتی تھی اور اس وقت حق بھی وہی ہوتا تھا جو ان کی شہوات کے اردگرد منڈلاتا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، اسے لگتا تھا کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں جانتے۔ پھر (‏‏‏‏ایک وقت ایسابھی آیاکہ) انہوں نے کہا کہ یہ (‏‏‏‏خودساختہ) کتاب بنو اسرائیل پر پیش کرو، اگر وہ تمہاری پیروی کرنے لگیں تو انہیں کچھ نہ کہو اور اگر مخالفت کریں تو ان کو قتل کر دو۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، بلکہ یوں کرو کہ فلاں عالم کے پاس پیغام بھیجو، اگر اس نے تمہاری پیروی کی تو اس کے بعد کوئی بھی اختلاف نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس کی طرف کسی کو بھیج کر اسے بلایا۔ اس نے ایک ورق لیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب لکھی، پھر اسے ایک سینگ میں ڈال کر اپنی گردن میں لٹکا لیا اور اس کے اوپر کپڑے زیب تن کر لیے اور ان کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے اس پر (‏‏‏‏اپنی من گھڑت) کتاب پیش کی اور کہا: کیا تو اس پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے جواباً اپنے سینے کی طرف یعنی سینگ کے اندر موجودہ کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں اس پر ایمان لاتا ہوں، بھلا اس پر ایمان کیوں نہ لاؤں۔ (‏‏‏‏اس کا مقصد سینگ میں پنہاں کتاب تھی، نہ کہ ان کی خود ساختہ کتاب، لیکن یہ لوگ اس کی بات سمجھ نہیں پا رہے تھے) بہرحال انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے کچھ ساتھی تھے، جو اس کی مجلس میں بیٹھتے تھے، جب وہ فوت ہو گیا تو وہ آئے اور اس کے کپڑے اتارے، وہاں انہیں ایک سینگ نظر آیا جس کے اندر کتاب تھی۔ اب (‏‏‏‏وہ اصل حقیقت سمجھے اور) کہا: جب اس بندے نے یہ کہا تھا کہ ”میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں اور بھلا اس پر ایمان کیوں نہ لاؤں“ تو اس کی مراد سینگ میں موجود کتاب (‏‏‏‏جو کہ حق ہے) تھی۔ سو بنو اسرائیل تہتر چوہتر فرقوں میں بٹ گئے، ان میں سب سے بہتر فرقے والے وہ لوگ ہیں جو اس سینگ والے کے ساتھی اور پیروکار تھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3861]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2694

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بنو اسرائیل کے تین افراد کی دنیوی مال کے ذریعے آزمائش، دنیوی نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو نہیں بھلا دینا چاہیے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3523 ترقیم فقہی: -- 3862
- (إنّ ثلاثةً في بني إسرائيل: أبرص، وأقرع، وأعمى، فأراد الله أن يبتليهم، فبعث إليهم ملكاً، فأتى الأبرص، فقال: أيّ شيء أحبّ إليك؟ قال: لونٌ حسنٌ، وجلدٌ حسنٌ، ويذهب عني الذي قد قذرني الناس. قال: فمسحه، فذهب عنه قذره، وأعطي لوناً حسناً، وجلداً حسناً، قال: فأي المال أحب إليك، قال: الإبل- أو قال: البقر؛ شك إسحاق؛ إلا أن الأبرص أو الأقرع قال أحدُهما: الإبلُ، وقال الآخرُ: البقرُ-، قال: فأعطي ناقةٌ عُشراءَ، فقال: بارك الله لك فيها! قال: فأتى الأقرع فقال: أي شيء أحبّ إليك؟ قال: شعرٌ حسنٌ، ويذهبُ عئي هذا الذي قذرني الناسُ، قال: فمسحه، فذهب عنه، واُعطي شعراً حسناً، قال: فأي المال أحبّ إليك؟ قال: البقرُ، فأعطي بقرةً حاملاً، فقال: بارك الله لك فيها! قال: فأتى الأعمى، فقال: أي شيء أحبّ إليك؟ قال: أن يردّ الله إليّ بصري، فأبصر به الناس، قال: فمسحه، فردّ الله إليه بصره، قال: فأي المال أحبّ إليك؟ قال: الغنم، فأعطي شاةً والداً، فأنتج هذان، وولد هذا، قال: فكان لهذا واد من الإبل، ولهذا واد من البقر، ولهذا واد من الغنم. قال: ثم إنّه أتى الأبرص في صورته وهيئته، فقال: رجلٌ مسكين، قد انقطعت بي الحبالُ في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك- بالذي أعطاك اللون الحسن، والجلد الحسن، والمال- بعيراً أتبلغ عليه في سفري، فقال: الحقوقُ كثيرةٌ، فقال له: كأني أعرفك، ألم تكن أبرص، يقذرك الناس؟! فقيراً فأعطاك الله؟! فقال: إنّما ورثت هذا المال كابراً عن كابر! فقال: إن كنت كاذباً؛ فصيرك الله إلى ما كنت! قال: وأتى الأقرع في صورته، فقال له مثل ما قال لهذا، وردّ عليه مثل ما رد على هذا، فقال: إن كنت كاذباً؛ فصيرك الله إلى ما كنت! قال: وأتى الأعمى في صورته وهيئته، فقال: رجلٌ مسكين، وابن سبيل، انقطعت بي الحبالُ في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك- بالذي ردّ عليك بصرك- شاة أتبلغ بها في سفري. فقال: قد كنتُ أعمى، فرد الله إلي بصري، فخذ ما شئت، ودع ما شئت، فوالله! لا أجهدك اليوم شيئاً أخذته لله! فقال: أمسك مالك؛ فإنما ابتليتم، فقد رضي [الله] عنك، وسخط على صاحبيك) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بنی اسرائیل میں سے تین آدمی تھے، ایک برص (‏‏‏‏سفید داغوں) کے مرض میں مبتلا تھا، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا، پس ان کی طرف ایک فرشتہ پہلے برص والے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا، تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا: اچھا رنگ، خوبصورت جسم، نیز یہ بیماری مجھ سے دور ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا، جس سے (‏‏‏‏اللہ کے حکم سے) اس کی گھن والی بیماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ دے دیا گیا۔ فرشتے نے اس سے پھر پوچھا: تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواباً اونٹ یا گائے کہا۔ (‏‏‏‏اس کی بابت اسحاق راوی کو شک ہوا، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ برص والے اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کا ذکر کیا اور ایک نے گائے کا)۔ چنانچہ اسے آٹھ دس مہینے کی گابھن اونٹنی دیدی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت عطا فرمائے۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا: تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: اچھے بال، یہ میرا (‏‏‏‏گنجاپن) ختم ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا، جس سے اس کا گنجاپن دور ہو گیا اور اسے (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کی طرف سے) خوبصورت بال عطا کر دیے گئے۔ فرشتے نے اس سے پوچھا: تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: گائے۔ چنانچہ اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے ان اس میں برکت عطا فرمائے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا، اس سے پوچھا، تجھے کون سی چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے، پس میں لوگوں کو دیکھوں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا، پس اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی بحال کر دی، فرشتے نے اس سے پوچھا: تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: بکریاں۔ پس اسے بچہ جننے والی ایک بکری دے دی گئی۔ پس سابقہ دونوں (‏‏‏‏برص والے اور گنجے) کے ہاں بھی دونوں جانوروں (‏‏‏‏اونٹنی اور گائے) کی نسل خوب بڑھی اور اس نابینا کے ہاں بھی بکری نے بچے دیے۔ سو (‏‏‏‏برص والے کے ہاں) ایک وادی اونٹوں کی، گنجے کے ہاں ایک وادی گائیوں کی اور اس اندھے کے ہاں ایک وادی بکریوں کی ہو گئی۔ اب پھر فرشتہ برص والے کے پاس گیا، اس کی صورت اور ہیئت میں آیا اور کہا کہ میں مسکین آدمی ہوں، سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں، آج میرے وطن پہنچنے کا کوئی وسیلہ، اللہ تعالیٰ اور پھر تیرے علاوہ نہیں، اس لیے میں تجھ سے اس ذات کے نام سے جس نے تجھے اچھا رنگ، خوبصورت جسم اور مال عطا کیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، جس کے ذریعے میں اپنے سفر میں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں۔ اس نے جواب دیا: (‏‏‏‏میرے ذمے پہلے ہی) بہت سے حقوق ہیں، یہ سن کر فرشتے نے اس سے کہا: گویا کہ میں تجھے پہچانتا ہوں، کیا تو وہی نہیں کہ جس کے جسم پر سفید داغ تھے، لوگ تجھ سے گھن کرتے تھے، تو فقیر تھا، اللہ تعالیٰ نے تجھے مال سے نواز دیا؟ اس نے کہا: یہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے، فرشتے نے کہا: اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے، جیسا کہ تو تھا۔ اب فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی شکل و صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو (‏‏‏‏برص والے) کو کہا تھا اور اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو برص والے نے دیا تھا، جس پر فرشتے نے اسے بھی بددعا دی، کہ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے، جیسا کہ تو پہلے تھا۔ فرشتہ (‏‏‏‏پھر) اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر کے وسائل ختم ہو گئے ہیں، آج میں نے وطن پہنچنا، اللہ تعالیٰ کی مدد، پھر تیری مالی اعانت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے میں تجھ سے اس ذات کے نام سے، جس نے تیری بینائی تجھ پر لوٹا دی، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے سے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاؤں۔ اندھے نے کہا: بلاشبہ میں اندھا تھا، اللہ تعالیٰ نے میری بینائی بحال کر دی (‏‏‏‏تیرے سامنے بکریوں کا ریوڑ ہے، ان میں سے) جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ کی قسم! آج میں، جو تو اللہ کے لیے لے گا، اس میں تجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کروں گا، یہ سن کر فرشتے نے اسے کہا: اپنا مال اپنے پاس رکھو، بیشک تمہیں آزمایا گیا ہے (‏‏‏‏ جس میں تو کامیاب رہا) پس اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہو گیا (‏‏‏‏ اور تیرے دونوں ساتھی ناکام رہے) ان پر تیرا رب ناراض ہو گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3862]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3523

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں