🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
بنو اسرائیل کے بعض افراد کے لیے میت کا سو سال کے بعد قبر سے نکل پڑنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2926 ترقیم فقہی: -- 3883
-" حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، فإنه كانت فيهم الأعاجيب". ثم أنشأ يحدث قال:" خرجت طائفة من بني إسرائيل حتى أتوا مقبرة لهم من مقابرهم، فقالوا: لو صلينا ركعتين، ودعونا الله عز وجل أن يخرج لنا رجلا ممن قد مات نسأله عن الموت، قال: ففعلوا. فبينما هم كذلك إذ أطلع رجل رأسه من قبر من تلك المقابر، خلاسي، بين عينيه أثر السجود، فقال: يا هؤلاء ما أردتم إلي؟ فقد مت منذ مائة سنة، فما سكنت عني حرارة الموت حتى كان الآن فادعوا الله عز وجل لي يعيدني كما كنت".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل سے (‏‏‏‏ان کی احادیث) بیان کیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ان میں بڑے تعجب انگیز واقعات پائے جاتے ہیں۔ ‏‏‏‏“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بیان فرمایا: ”‏‏‏‏بنو اسرائیل کے کچھ لوگ نکلے اور کسی مقبرہ تک جا پہنچے، وہاں وہ کہنے لگے کہ اگر ہم دو رکعت نماز پڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے کسی مردہ کو (‏‏‏‏قبر سے باہر) نکالے، تاکہ ہم اس سے موت کی بابت کچھ دریافت کر سکیں۔ پس انہوں نے ایسے ہی کیا، وہ اسی حالت و کیفیت میں تھے کہ ایک آدمی نے اس قبرستان کی ایک قبر سے سر باہر نکالا، وہ گندم گوں رنگ کا تھا اور اس کی پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا۔ اس نے کہا: او لوگو! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میری موت کے واقعہ کو سو سال بیت چکے ہیں، لیکن ابھی تک موت کی حرارت (‏‏‏‏کے آثار) ختم نہیں ہوئے، سو تم لوگ اللہ عز وجل سے دعا کرو کہ وہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے، جس میں میں تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3883]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2926

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کیا سانپ مسخ شدہ جن ہیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1824 ترقیم فقہی: -- 3884
-" الحيات مسخ الجن، كما مسخت القردة والخنازير من بني إسرائيل".
سیدنا عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بندر اور خنزیر (‏‏‏‏بعض) بنو اسرائیل کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3884]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1824

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چھپکلی کو قتل کرنا اور اس کی وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1581 ترقیم فقہی: -- 3885
-" إن إبراهيم عليه السلام حين ألقي في النار، لم تكن دابة إلا تطفي النار عنه غير الوزغ، فإنه كان ينفخ عليه".
امام نافع، فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر پوچھا: اے ام المؤمنین! اس نیزے کو کیا کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس سے چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ہر جانور نے آگ بجھانے (‏‏‏‏کے لیے کوشش) کی، سوائے اس چھپکلی کے، کہ یہ (‏‏‏‏آگ کو بھڑکانے کے لیے) پھونک مارتی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3885]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1581

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فاسق جانور اور ان کو قتل کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1825 ترقیم فقہی: -- 3886
-" الحية فاسقة، والعقرب فاسقة، والفأرة فاسقة، والغراب فاسق".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپ فاسق (‏‏‏‏یعنی شر پسند) جانور ہے، بچھو فاسق جانور ہے، چوہیا فاسق جانور ہے اور کوا فاسق جانور ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3886]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1825

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کائنات کی کون سی اشیاء کب پیدا کی گئیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1833 ترقیم فقہی: -- 3887
-" خلق الله التربة يوم السبت وخلق فيها الجبال يوم الأحد وخلق الشجر يوم الاثنين وخلق المكروه يوم الثلاثاء وخلق النور يوم الأربعاء وبث فيها الدواب يوم الخميس وخلق آدم بعد العصر من يوم الجمعة آخر الخلق من آخر ساعة الجمعة فيما بين العصر إلى الليل".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سنیچر وار کو مٹی، اتوار کو پہاڑ، سوموار کو درخت، منگل کو مکروہ چیزیں، بدھ کو نور، جمعرات کو چوپائے پیدا کئے اور آدم علیہ السلام جو کہ آخری مخلوق تھے، کو جمعہ کے روز بعد از وقت عصر جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا، یہ گھڑی عصر سے رات (‏‏‏‏غروب آفتاب) تک کے وقت کے مابین ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3887]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1833

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فرشتے کی تخلیق نور سے، انسان کی مٹی سے اور ابلیس کی آگ سے ہوئی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 458 ترقیم فقہی: -- 3888
-" خلقت الملائكة من نور وخلق إبليس من نار السموم وخلق آدم عليه السلام مما قد وصف لكم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏فرشتوں کو نور سے، ابلیس کو جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی جس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3888]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 458

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1858 ترقیم فقہی: -- 3889
-" دفن في الطينة التي خلق منها".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ایک حبشی کو مدینہ (‏‏‏‏کے قبرستان) میں دفن کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مٹی سے اس کو پیدا کیا گیا تھا، اس میں اس کو دفن کر دیا گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3889]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1858

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عمل سے کورے خطیبوں کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 291 ترقیم فقہی: -- 3890
-" رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ فقال: الخطباء من أمتك، يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم، وهم يتلون الكتاب، أفلا يعقلون؟!".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے اسرا کرایا گیا، میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں کے ساتھ کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے خطیب لوگ ہیں جو لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں، لیکن خود اپنے نفسوں کو بھلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا ایسے لوگ عقل نہیں رکھتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3890]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 291

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سدرۃ المنتہٰی اور اس سے نکلنے والی چار نہریں، سیحان، جیحان، فرات، نیل
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 110 ترقیم فقہی: -- 3891
-" سيحان وجيحان والفرات والنيل كل من أنهار الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3891]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 110

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 111 ترقیم فقہی: -- 3891M
-" فجرت أربعة أنهار من الجنة: الفرات والنيل والسيحان وجيحان".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چار نہریں جنت سے پھوٹتی ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3891M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 111

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں