🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ایوب علیہ السلام پر دوران غسل سونے کی ٹڈیاں گرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3613 ترقیم فقہی: -- 3873
- (بينما أيُّوب يغتسل عُرياناً؛ فخرَّ عليه جرادٌ من ذهب، فجعل أيُّوب يحتثي في ثوبه، فناداه ربُّه: يا أيوب! ألم أكن أغنيتُك عما ترى؟! قال: بلى وعزتك! ولكن؛ لا غنى بي عن بركتك) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ ایوب علیہ السلام برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے، اسی اثنا میں ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، وہ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی: ایوب! کیا میں نے تجھے ان چیزوں سے غنی نہیں کر دیا، جو تجھے نظر آ رہی ہیں؟ انہوں نے جواباً فرمایا: کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم! (‏‏‏‏تو نے مجھے غنی کیا ہے) لیکن میں تیری برکتوں سے غنی اور بے نیاز نہیں ہو سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3873]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3613

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اسلام کی طرف نسبت کرنے کی فضیلت اور نسب پر فخر کرنے کا وبال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1270 ترقیم فقہی: -- 3874
-" انتسب رجلان على عهد موسى عليه السلام. فقال أحدهما: أنا فلان بن فلان حتى عد تسعة، فمن أنت لا أم لك؟! قال: أنا فلان بن فلان ابن الإسلام، قال: فأوحى الله إلى موسى عليه السلام أن قل لهذين المنتسبين: أما أنت أيها المنتمي أو المنتسب إلى تسعة في النار، فأنت عاشرهم، وأما أنت يا هذا المنتسب إلى اثنين في الجنة، فأنت ثالثهما في الجنة".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں۔۔۔۔۔۔ ہوں (‏‏‏‏نو پشتیں ذکر کر دیں)، تیری ماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتییں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3874]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1270

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر نبی کو قبل از موت اس کا جنتی ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری الفاظ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3580 ترقیم فقہی: -- 3875
- (إنّه لم يُقبض نبيٌ حتّى يُرى مقعدُه من الجنة، ثم يُخيّر) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحتمند تھے تو فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کو اس وقت تک موت نہیں آتی، جب تک اسے اس کا جنتی ٹھکانہ نہ دکھایا جائے اور پھر (‏‏‏‏موت و حیات میں) اختیار نہ دے دیا جائے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، تو آپ پر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا شروع کر دیا اور یہ کہنے لگ گئے: ”اے اللہ! مجھے رفیق اعلی تک پہنچا دے۔“ اس وقت میں نے کہا: مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (‏‏‏‏موت و حیات کے اختیار میں) ہمیں ترجیح نہیں دی، اور میں نے پہچان لیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حدیث کا مصداق بن رہے ہیں، جو ہمیں تندرستی کی حالت میں بیان کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ یہ تھا: ”‏‏‏‏اے اللہ! رفیق اعلیٰ تک پہنچا دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3875]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3580

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صحابہ کے بعد والے مسلمانوں کا ایمان جزوی اعتبار سے سب سے پسندیدہ ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3215 ترقیم فقہی: -- 3876
- (أيُّ الخلق أعجبُ إيماناً؟ قالوا: الملائكة. قال: الملائكة كيف لا يؤمنون؟! قالوا: النبيون. قال: النبيون يوحى إليهم فكيف لا يؤمنون؟! قالوا: الصحابة. قال: الصحابة مع الأنبياء فكيف لا يؤمنون؟! ولكن أعجب الناس إيماناًً: قوم يجيئُون من بعد كم فيجدون كتاباً من الوحي؛ فيؤمنون به ويتَّبعونه، فهم أعجب الناس إيماناً- أو الخلق إيماناً-) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی مخلوق کا ایمان (‏‏‏‏اعلیٰ و افضل ہونے میں) تعجب انگیز ہے؟“ صحابہ نے کہا: فرشتوں کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتوں (‏‏‏‏کو کیا ہے کہ وہ) ایمان نہ لائیں، (‏‏‏‏کیونکہ سارے حقائق ان کے سامنے ہوتے ہیں)۔“ انہوں نے کہا: تو پھر انبیاء ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کی طرف تو وحی کی جاتی ہے (‏‏‏‏جس کی وجہ سے ہر چیز ان پر عیاں ہو جاتی ہے) وہ ایمان کیوں نہ لائیں؟“ انہوں نے کہا: تو پھر صحابہ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحابہ تو انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں، (‏‏‏‏ان کے لیے کوئی شق مبہم نہیں رہتی اس لیے) انہیں ایمان قبول کرنے میں کیا دقت ہے؟ دراصل ایمان کے لحاظ سے سب سے زیایہ تعجب انگیز لوگ وہ ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے، ان کے ہاں وحی کی صورت ایک کتاب ہو گی، لیکن وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی پیروی کریں، یہ لوگ ہیں جن کا ایمان قابل تعجب ہے، (‏‏‏‏یعنی کوئی معجزہ یا کوئی علامت دیکھے بغیر ہی مشرف بایمان ہو جائیں گے)۔ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3876]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3215

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عیسیٰ علیہ السلام کو معبودیت کی تہمت سے کیسے پاک کیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2454 ترقیم فقہی: -- 3877
-" تلقى عيسى حجته، فلقاه الله في قوله" * (وإذ قال الله يا عيسى بن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله) * (¬1) ، فلقاه الله" * (سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق) * (¬2) ، الآية كلها".
طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عیسٰی علیہ السلام نے اپنی حجت (‏‏‏‏اﷲ تعالیٰ سے) سیکھی اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں سکھا دی، جس کا ذکر اس آیت میں ہے: «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّـهِ» ‏‏‏‏ ”اور جب اﷲ کہے گا: اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں کہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود بنا لو۔“ (۵-المائدة:۱۱۶) پھر آیت کا باقی حصہ روک لیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے (‏‏‏‏ عیسیٰ علیہ السلام) کو یہ جواب سکھایا: «سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ» ”تو پاک ہے، یہ تو مجھے زیب ہی نہیں دیتا کہ میں ایسی بات کروں جو میرے لیے حق نہ ہو۔“ ‏‏‏‏ (۵-المائدة:۱۱۶) [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3877]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2454

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عیسیٰ علیہ السلام کی تواضع کی مثال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2343 ترقیم فقہی: -- 3878
-" من سره أن ينظر إلى تواضع عيسى، فلينظر إلى أبي ذر".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏جو عیسیٰ علیہ السلام کی تواضع دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے، وہ (‏‏‏‏میرے صحابی) ابوذر کو دیکھ لے۔ ‏‏‏‏“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3878]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2343

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد امن والا دور
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2182 ترقیم فقہی: -- 3879
-" (الأنبياء إخوة لعلات، أمهاتهم شتى ودينهم واحد وأنا أولى الناس بعيسى بن مريم لأنه) ليس بيني وبينه نبي وإنه نازل، فإذا رأيتموه فاعرفوه، رجل مربوع إلى الحمرة والبياض، بين ممصرتين، كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل، فيقاتل الناس على الإسلام، فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك الله المسيح الدجال (وتقع الأمنة في الأرض حتى ترتع الأسود مع الإبل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم) ، فيمكث في الأرض أربعين سنة، ثم يتوفى، فيصلي عليه المسلمون".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علامتی بھائی ہیں، (‏‏‏‏یعنی ان کا باپ ایک ہے اور) مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ (‏‏‏‏میری امت میں) اترنے والے ہیں۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ درمیانے قد کے ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، وہ دو سوتی چادروں میں ملبوس ہوں گے، جب وہ اتریں گے تو ایسے لگیں گے کہ گویا کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، اگرچہ ان کو گیلا نہیں کیا ہو گا، وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ (‏‏‏‏کا تصور) ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام (‏‏‏‏باطل) مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور مسیح دجال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اور (‏‏‏‏ان کے زمانے میں) زمین میں اتنا امن ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کرنے کے بعد فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3879]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2182

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گھوڑوں میں برکت ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3615 ترقیم فقہی: -- 3880
- (البركةُ في نواصي الخيل) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3880]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3615

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بیت معمور میں عبادت کرنے والے فرشتوں کی تعداد
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 477 ترقیم فقہی: -- 3881
-" البيت المعمور في السماء السابعة يدخله كل يوم ألف ملك، ثم لا يعودون إليه حتى تقوم الساعة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت معمور ساتویں آسمان میں ہے، ہر روز اس میں ایک ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور قیامت کے قائم ہونے تک ان کی باری دوبارہ نہیں آتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3881]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 477

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
یہودیوں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند سوالات، بچہ تذکیر یا تانیث کے قالب میں کیسے ڈھلتا ہے؟ بادلوں میں کیسے آواز پیدا ہوتی ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1872 ترقیم فقہی: -- 3882
-" الرعد ملك من الملائكة موكل بالسحاب، (بيديه أو في يده مخراق من نار يزجر به السحاب) والصوت الذي يسمع منه زجره السحاب إذا زجره حتى ينتهي إلى حيث أمره".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے کچھ چیزوں کے بارے سوالات کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے (‏‏‏‏درست) جوابات دے دیے تو ہم آپ کی پیروی کریں گے، آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ عہد و پیمان لیا جو اسرائیل (‏‏‏‏یعقوب علیہ السلام) نے اپنے لیے اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا: جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر محافظ و نگران ہے۔ (‏‏‏‏سوالات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی علامت کے بارے میں بتلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی کی آنکھیں سوتی ہیں، لیکن دل نہیں سوتا۔“ انہوں نے کہا: عورت کے بطن سے مذکر و مونث کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏مذکر مؤنث) کے پانی ملتے ہیں، اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے اور اگر مرد کا پانی عورت کے مادہ پر غالب آ جائے تو مرد پیدا ہو جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”رعد“ (‏‏‏‏بادلوں کی گرج یا کڑک) کے بارے میں ہمیں بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرشتے کا نام رعد ہے، بادلوں کے معاملات اس کے سپرد ہیں، اس کے ہاتھوں میں آگ کی تلوار (‏‏‏‏یا کوڑا) ہوتا ہے، جس کے ذریعے وہ بادلوں کو ا دھر ا‏‏‏‏دھر لے جاتا ہے، اور جب وہ بادلوں کو (‏‏‏‏مخصوص انداز میں ڈانٹ ڈپٹ کر کے) متحرک کرتا ہے، تو اس وقت وہ آواز پیدا ہوتی ہے جو (‏‏‏‏ہمیں) سنائی دیتی ہے، حتیٰ کہ وہ اس مقام تک ان کو پہنچا دیتا ہے، جہاں کا اس کو حکم ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3882]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1872

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں