🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سدرۃ المنتہٰی اور اس سے نکلنے والی چار نہریں، سیحان، جیحان، فرات، نیل
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 112 ترقیم فقہی: -- 3892
-" رفعت لي سدرة المنتهى في السماء السابعة نبقها مثل قلال هجر وورقها مثل آذان الفيلة يخرج من ساقها نهران ظاهران ونهران باطنان، فقلت: يا جبريل ما هذان؟ قال: أما الباطنان ففي الجنة وأما الظاهران فالنيل والفرات".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہیٰ کو بلند کیا گیا، اس کے پھل (‏‏‏‏کی ساخت) ہجر علاقے کے مٹکوں جتنی تھی اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح (‏‏‏‏بڑے بڑے) تھے۔ اس کے تنے سے دو ظاہری اور دو باطنی نہریں پھوٹ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے جبریل! یہ دونہریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور ظاہری نہریں دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3892]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 112

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک ہوا ہے، لیکن کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1874 ترقیم فقہی: -- 3893
-" الريح تبعث عذابا لقوم، ورحمة لآخرين".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک قسم کی ہوا بھیجی جاتی ہے، لیکن وہ کسی قوم کے لیے عذاب اور کسی کے لیے رحمت بن کر آتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3893]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1874

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تخلیق جہنم کے بعد میکائیل ہنسے نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2511 ترقیم فقہی: -- 3894
-" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل عليه السلام: ما لي لم أر ميكائيل ضاحكا قط؟ قال: ما ضحك ميكائيل منذ خلقت النار".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میکائیل کبھی بھی مجھے ہنستے دکھائی نہیں دئیے؟ انہوں نے کہا: جب سے (‏‏‏‏جہنم کی) آگ کو پیدا کیا گیا، اس وقت سے میکائیل نہیں ہنسے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3894]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2511
وضاحت: نوٹ: اسی متن «ما ضحك ميكائيل منذ خلقت النار» کو (إسماعيل بن عياش عن عمارة بن غزية عن حميد بن عبيد عن ثابت البناني عن أنس بن مالك)، شیخ الألباني رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة میں ضعیف قرار دیا ہے (تقریباً نمبر 4454 کے قریب، اور ضعيف الجامع الصغير میں بھی نمبر 107 کے آس پاس)۔
ضعف کی وجوہات جو شیخ الألباني نے بیان کیں:

إسماعيل بن عياش کی روایت مدنی راویوں (جیسے عمارة بن غزية جو مدنی ہے) سے ضعیف ہے۔ محدثین کا اتفاق ہے کہ إسماعيل بن عياش کی روایت شامیوں سے تو اچھی ہے، لیکن حجازیوں اور مدنیوں سے مناکیر (غلطیاں) آتی ہیں۔ یہ ضعف مجمع علیہ ہے، اور ہیثمی نے بھی یہی کہا: "رواه أحمد من رواية إسماعيل بن عياش عن المدنيين وهي ضعيفة".
حميد بن عبيد (مولى بني المعلى) مجہول الحال ہے۔ حافظ ابن حجر نے "التعجيل" میں کہا: "لا يدري من هو" (یعنی معلوم نہیں کون ہے)۔ صرف یہ کہنا کہ وہ مدنی اور موالی انصار سے ہے، توثیق نہیں بلکہ صرف شناخت ہے، جو ضعف کو دور نہیں کرتی۔

یہ دونوں علتیں (ضعف) اس سند کو ضعیف بناتی ہیں، اس لیے العراقي کا "إسناده جيد" کہنا اور سیوطی کا حسن قرار دینا غلطی ہے، جیسا کہ الألباني نے تفصیل سے بیان کیا۔
نوٹ: یہ ضعیف سند الگ ہے اس صحیح سند سے جو بروایت (ابن عمر السلسلة الصحيحة 2511 میں صحیح ہے)۔ دونوں کا متن ایک جیسا ہے، لیکن سندیں مختلف ہیں۔ ضعیف والی (أنس بن مالك والی) کو شواہد کی وجہ سے بعض جگہ حسن لغیرہ بھی کہا گیا، لیکن الألباني نے اس مخصوص طريق کو ضعیف رکھا کیونکہ علتیں واضح ہیں۔
یہ تحقیق الألباني کی کتابوں (سلسلة الضعيفة، ضعيف الجامع، اور دیگر تخاریج) پر مبنی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
داود علیہ السلام بڑے عبادت گزار تھے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 707 ترقیم فقہی: -- 3895
-" كان داود أعبد البشر".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3895]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 707

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1479 ترقیم فقہی: -- 3896
-" كان لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا، وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا، فيدنو من كل امرأة من غير مسيس حتى يبلغ إلى التي هو يومها، فيبيت عندها، ولقد قالت سودة بنت زمعة حين أسنت وفرقت أن يفارقها رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله يومي لعائشة، فقبل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، وفي ذلك أنزل الله تعالى وفي أشباهها - أراه قال - * (وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا) *".
عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم (‏‏‏‏امہات المؤمنین) کے لیے دنوں کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے، تقریباً ہر روز تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ہر بیوی کے قریب ہوتے تھے، لیکن جماع نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ اس کے پاس پہنچ جاتے جس کو وہ دن ہوتا تھا اور اس کے پاس رات گزارتے تھے۔ جب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں داغ مفارقت نہ دے دیں، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ پیشکش قبول کر لی، اسی قسم کے مسائل کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا» ”اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بےپرواہی کا خوف ہو تو وہ۔۔۔“ (۴-النساء:۱۲۸) [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3896]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1479

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عورتیں ایسا لباس نہیں پہن سکتیں، جو مردوں کو ان کی طرف متوجہ کرے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 486 ترقیم فقہی: -- 3897
-" كان في بني إسرائيل امرأة قصيرة، فصنعت رجلين من خشب، فكانت تسير بين امرأتين قصيرتين واتخذت خاتما من ذهب وحشت تحت فصه أطيب الطيب: المسك فكانت إذا مرت بالمجلس حركته فنفنخ ريحه (وفي رواية) : وجعلت له غلقا فإذا مرت بالملأ أو بالمجلس قالت به ففتحته، ففاح ريحه".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل میں ایک کوتاہ قد عورت تھی، اس نے کھڑاؤں (‏‏‏‏لکڑی کے جوتے) بنوا لیے۔ اب وہ دو پست قد عورتوں کے درمیان چلتی تھی اور سونے کی ایسی انگوٹھی پہنتی تھی، جس کے نگینے میں بہترین خوشبو کستوری بھر لیتی تھی۔ جب کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو نگینے کو حرکت دیتی، سو خوشبو پھیل جاتی تھی۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اس نے نگینے کا ایک ڈھکن بنوایا تھا، جب کسی گروہ یا مجلس کے پاس سے گزرتی تو اسے کھول دیتی تھی اور خوشبو پھیل جاتی تھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3897]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بےصبری کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1485 ترقیم فقہی: -- 3898
-" كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح، فجزع فأخذ سكينا، فحز بها يده فما رقأ الدم حتى مات، قال الله عز وجل: بادرني عبدي بنفسه فحرمت عليه الجنة".
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگوں میں ایک آدمی زخمی ہو گیا، اس نے بےتابی کا اظہار کرتے ہوئے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ دیا اور خون نہ رکنے کہ وجہ سے وہ فوت ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے، (‏‏‏‏یعنی میری تقدیر پر راضی نہ ہوا اور خود فیصلہ کر دیا) لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ ”‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3898]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1485

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
انبیاء پر آزمائیشں سخت ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2047 ترقیم فقہی: -- 3899
-" كما يضاعف لنا الأجر، كذلك يضاعف علينا البلاء".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ ام بشر بن برا بن معرور رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرض الموت میں تشریف لائیں، اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا اور کہا: جو (‏‏‏‏ شدید) بخار آپ کو ہے، اتنا بخار تو میری نظر میں کسی کو نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کئی گنا بڑھایا جاتا ہے، اس طرح آزمائشیں بھی کئی گنا ہوتی ہیں۔ ‏‏‏‏“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3899]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2047

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر نبی اپنی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث کیا گیا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3561 ترقیم فقہی: -- 3900
- (لم يبعث الله نبياً إلا بلغة قومه) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو معبوث نہیں فرمایا، مگر اس کی قوم کی زبان میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3900]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3561

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں موسیٰ و خضر علیہم السلام کے علم کی مثال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2467 ترقیم فقہی: -- 3901
-" لما لقي موسى الخضر عليهما السلام جاء طير، فألقى منقاره في الماء، فقال الخضر لموسى: تدري ما يقول هذا الطير؟ قال: وما يقول؟ قال: يقول: ما علمك وعلم موسى في علم الله إلا كما أخذ منقاري من الماء".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب موسی علیہ السلام کی خضر علیہ السلام سے ملاقت ہوئی تو ایک پرندہ آیا اور اس نے پانی سے اپنی چونچ بھر لی۔ خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: کیا تجھے علم ہے کہ یہ پرندہ کیا کہنا چاہتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کیا کہنا چاہتا ہے؟ خضر علیہ السلام نے کہا: یہ مجھے کہہ رہا ہے کہ تیرا اور موسیٰ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے اتنا ہی ہے جتنا کہ (‏‏‏‏سمندر کے مقابلے میں) میری چونچ میں پانی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3901]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2467

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں