صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ الْهِبَةِ الْمَقْبُوضَةِ وَغَيْرِ الْمَقْبُوضَةِ، وَالْمَقْسُومَةِ وَغَيْرِ الْمَقْسُومَةِ:
باب: جو چیز قبضہ میں ہو یا نہ ہو اور جو چیز بٹ گئی ہو اور جو نہ بٹی ہو، اس کا ہبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَوَزَنَ". قَالَ شُعْبَةُ: أُرَاهُ فَوَزَنَ لِي فَأَرْجَحَ، فَمَا زَالَ مَعِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا محارب بن دثار سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں ایک اونٹ بیچا تھا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وزن کیا۔ شعبہ نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے کہا) میرے لیے وزن کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بلال رضی اللہ عنہ نے) اور (اس پلڑے کو جس میں سکہ تھا) جھکا دیا۔ (تاکہ مجھے زیادہ ملے) اس میں سے کچھ تھوڑا سا میرے پاس جب سے محفوظ تھا۔ لیکن شام والے (اموی لشکر) یوم حرہ کے موقع پر مجھ سے چھین کر لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2604]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ فروخت کیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں آؤ اور دو رکعت نماز ادا کرو۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت تول کر دی۔ (راوی حدیث) شعبہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت جھکاؤ کے ساتھ تول کر دی۔ اس نقدی سے کچھ نہ کچھ ہمیشہ میرے پاس رہا یہاں تک کہ حرہ کی لڑائی میں اہل شام کے ہاتھ لگ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2605
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا، وَاللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے ابوحازم سے، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پینے کو لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک بچہ تھا اور قوم کے بڑے لوگ بائیں طرف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ کیا تمہاری طرف سے اس کی اجازت ہے کہ میں بچا ہوا پانی ان بزرگوں کو دے دوں؟ تو اس بچے نے کہا کہ نہیں قسم اللہ کی! میں آپ سے ملنے والے اپنے حصہ کا ہرگز ایثار نہیں کر سکتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب ان کی طرف جھٹکے کے ساتھ بڑھا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2605]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور بائیں جانب کچھ اکابر تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے کہا: ”کیا تمہاری طرف سے اجازت ہے کہ میں (اپنا بچا ہوا) ان بزرگوں کو دے دوں؟“ لڑکے نے جواب دیا: نہیں، اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والا تبرک کسی کو دینے والا نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے وہ مشروب اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2606
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، وَقَالَ: اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ، فَقَالُوا: إِنَّا لَا نَجِدُ سِنًّا إِلَّا سِنًّا هِيَ أَفْضَلُ مِنْ سِنِّهِ، قَالَ: فَاشْتَرُوهَا، فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً".
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا (اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2606]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے کچھ قرض تھا۔ (اس نے سختی سے اس کا تقاضا کیا تو) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چاہا کہ اس کی خبر لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔ جس کا کوئی حق ہوتا ہے، اسے کچھ کہنے کا بھی حق ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اس کے لیے اونٹ خرید کر اسے دے دو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہمیں اس عمر کا اونٹ نہیں ملتا بلکہ اس سے بہتر عمر کا اونٹ دستیاب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے وہی خریدو اور اسے دے دو کیونکہ تم میں بہتر وہی شخص ہے جو (اپنے ذمے واجبات کی) ادائیگی بہتر طریقے سے کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2606]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ إِذَا وَهَبَ جَمَاعَةٌ لِقَوْمٍ:
باب: اگر کئی شخص کئی شخصوں کو ہبہ کریں۔
حدیث نمبر: 2607
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: طَيَّبْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِيهِ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا، وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ". هَذَا آخِرُ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ يَعْنِي فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، کہا ہم سے عقیل نے ابن شہاب سے، وہ عروہ سے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے ساتھ جتنی بڑی جماعت ہے اسے بھی تم دیکھ رہے ہو اور سب سے زیادہ سچی بات ہی مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اس لیے تم لوگ ان دو چیزوں میں سے ایک ہی لے سکتے ہو، یا اپنے قیدی لے لو یا اپنا مال۔ میں نے تمہارا پہلے ہی انتظار کیا تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن تک (مقام جعرانہ میں) ان لوگوں کا انتظار فرماتے رہے۔ پھر جب ان لوگوں کے سامنے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز واپس فرما سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں ہی کو (واپس لینا) پسند کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف بیان کی اور فرمایا، امابعد! یہ تمہارے بھائی ہمارے پاس اب توبہ کر کے آئے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ انہیں ان کے قیدی واپس کر دوں۔ اس لیے جو صاحب اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہیں وہ ایسا کر لیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہوں کہ اپنے حصے کو نہ چھوڑیں بلکہ ہم انہیں اس کے بدلے میں سب سے پہلی غنیمت کے مال میں سے معاوضہ دیں، تو وہ بھی (اپنے موجودہ قیدیوں کو) واپس کر دیں۔ سب صحابہ نے اس پر کہا، یا رسول اللہ! ہم اپنی خوشی سے انہیں واپس کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن واضح طور پر اس وقت یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اپنی خوشی سے دینے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں۔ اس لیے سب لوگ (اپنے خیموں میں) واپس جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا معاملہ لا کر پیش کریں۔ چنانچہ سب لوگ واپس ہو گئے اور نمائندوں نے ان سے گفتگو کی اور واپس ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ تمام لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا یہ زہری رحمہ اللہ کا آخری قول تھا۔ یعنی یہ کہ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2607]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں ان کے قیدی اور مال واپس کر دیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ میرے ساتھ ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو اور سچی بات مجھے بہت محبوب ہے۔ تم دو باتوں میں سے ایک اختیار کرلو: قیدی لے لو یا مال کا انتخاب کرلو۔ اس سلسلے میں میں نے تمہارا کافی انتظار کیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے لوٹ کر آئے تو دس سے زیادہ راتیں ان کا انتظار کیا، چنانچہ ان لوگوں پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چیز واپس کریں گے۔ انہوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدیوں کو لینا چاہتے ہیں۔ (ان کا فیصلہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس مسلمان ہوکر آئے ہیں اور میں ان کو ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ تم میں سے جو راضی خوشی قیدی لوٹانا چاہے وہ لوٹا دے اور جو چاہے کہ اپنے حصے پر قائم رہے حتیٰ کہ ہم اسے پہلی غنیمت سے حصہ دیں جو اللہ ہمیں آئندہ دے تو وہ ایسا کرے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بخوشی انہیں قیدی واپس کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دے دی اور کس نے اجازت نہیں دی، اس لیے اب تم واپس چلے جاؤ، حتیٰ کہ ہمارے پاس تمہارے نمائندے تمہاری رائے پہنچائیں۔“ چنانچہ وہ لوگ لوٹ گئے اور ان کے نمائندگان نے ان سے بات کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سب لوگ راضی خوشی قیدیوں کو واپس کرنے پر تیار ہیں۔ یہ وہ خبر ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں پہنچی ہے۔ (امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ) یہ آخری قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے، یعنی «فَهٰذَا الَّذِي بَلَغَنَا» ”پس یہ وہ بات ہے جو ہمیں پہنچی ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ، فَقَالَ النَّاسُ: طَيَّبْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِيهِ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا، وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ". هَذَا آخِرُ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ يَعْنِي فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، کہا ہم سے عقیل نے ابن شہاب سے، وہ عروہ سے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے ساتھ جتنی بڑی جماعت ہے اسے بھی تم دیکھ رہے ہو اور سب سے زیادہ سچی بات ہی مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اس لیے تم لوگ ان دو چیزوں میں سے ایک ہی لے سکتے ہو، یا اپنے قیدی لے لو یا اپنا مال۔ میں نے تمہارا پہلے ہی انتظار کیا تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن تک (مقام جعرانہ میں) ان لوگوں کا انتظار فرماتے رہے۔ پھر جب ان لوگوں کے سامنے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز واپس فرما سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں ہی کو (واپس لینا) پسند کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف بیان کی اور فرمایا، امابعد! یہ تمہارے بھائی ہمارے پاس اب توبہ کر کے آئے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ انہیں ان کے قیدی واپس کر دوں۔ اس لیے جو صاحب اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہیں وہ ایسا کر لیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہوں کہ اپنے حصے کو نہ چھوڑیں بلکہ ہم انہیں اس کے بدلے میں سب سے پہلی غنیمت کے مال میں سے معاوضہ دیں، تو وہ بھی (اپنے موجودہ قیدیوں کو) واپس کر دیں۔ سب صحابہ نے اس پر کہا، یا رسول اللہ! ہم اپنی خوشی سے انہیں واپس کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن واضح طور پر اس وقت یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اپنی خوشی سے دینے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں۔ اس لیے سب لوگ (اپنے خیموں میں) واپس جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا معاملہ لا کر پیش کریں۔ چنانچہ سب لوگ واپس ہو گئے اور نمائندوں نے ان سے گفتگو کی اور واپس ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ تمام لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا یہ زہری رحمہ اللہ کا آخری قول تھا۔ یعنی یہ کہ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2608]
حضرت مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا تو انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ انہیں اپنے قیدی اور مال واپس کر دیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ میرے ساتھ ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو اور سچی بات مجھے بہت محبوب ہے۔ تم دو باتوں میں سے ایک اختیار کرلو: قیدی لے لو یا مال کا انتخاب کرلو۔ اس سلسلے میں میں نے تمہارا کافی انتظار کیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے لوٹ کر آئے تو دس سے زیادہ راتیں ان کا انتظار کیا، چنانچہ ان لوگوں پر واضح ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چیز واپس کریں گے۔ انہوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدیوں کو لینا چاہتے ہیں۔ (ان کا فیصلہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس مسلمان ہوکر آئے ہیں اور میں ان کو ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ تم میں سے جو راضی خوشی قیدی لوٹانا چاہے وہ لوٹا دے اور جو چاہے کہ اپنے حصے پر قائم رہے حتیٰ کہ ہم اسے پہلی غنیمت سے حصہ دیں جو اللہ ہمیں آئندہ دے تو وہ ایسا کرے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بخوشی انہیں قیدی واپس کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دے دی اور کس نے اجازت نہیں دی، اس لیے اب تم واپس چلے جاؤ، حتیٰ کہ ہمارے پاس تمہارے نمائندے تمہاری رائے پہنچائیں۔“ چنانچہ وہ لوگ لوٹ گئے اور ان کے نمائندگان نے ان سے بات کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ سب لوگ راضی خوشی قیدیوں کو واپس کرنے پر تیار ہیں۔ یہ وہ خبر ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں پہنچی ہے۔ (امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ) یہ آخری قول امام زہری رحمہ اللہ کا ہے، یعنی «فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا» ”پس یہ وہ ہے جو ہمیں پہنچا ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ مَنْ أُهْدِيَ لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ جُلَسَاؤُهُ فَهْوَ أَحَقُّ:
باب: اگر کسی کو کچھ ہدیہ دیا جائے اس کے پاس اور لوگ بھی بیٹھے ہوں تو اب اس کو دیا جائے جو زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: Q2609
وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جُلَسَاءَهُ شُرَكَاءُ وَلَمْ يَصِحَّ.
. [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: Q2609]
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، وَقَالَ: أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً".
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا (اور نازیبا گفتگو کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ”تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2609]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص عمر کا اونٹ کسی سے بطور قرض لیا۔ قرض خواہ نے آ کر سختی سے تقاضا کیا تو (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اسے مارنے کا ارادہ کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حقدار کو ایسی گفتگو کرنے کا حق پہنچتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک بہتر عمر کا اونٹ ادا کیا اور فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو (اپنے ذمے قرض کی) ادائیگی بہتر طریقے سے کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ أَبُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ، فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ لَكَ، فَاشْتَرَاهُ، ثُمَّ قَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اس لیے ان کے والد (عمر رضی اللہ عنہ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کہ عمر! اسے مجھے بیچ دے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا۔ پھر فرمایا، عبداللہ یہ اب تیرا ہے۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2610]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ایک منہ زور اونٹ پر سوار تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تھا۔ وہ اونٹ بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل جاتا تھا تو ان کے والد (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) انھیں کہتے: عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کوئی نہیں بڑھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس اونٹ کو میرے ہاتھ فروخت کردو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ آپ کا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! یہ تمہارا ہے اب اس سے جو چاہو کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ إِذَا وَهَبَ بَعِيرًا لِرَجُلٍ وَهْوَ رَاكِبُهُ، فَهُوَ جَائِزٌ:
باب: اگر کوئی شخص اونٹ پر سوار ہو اور دوسرا شخص وہ اونٹ اس کو ہبہ کر دے تو درست ہے۔
حدیث نمبر: 2611
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: بِعْنِيهِ، فَابْتَاعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ".
اور حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا اور پھر فرمایا عبداللہ! تو یہ اونٹ لے جا (میں نے یہ تجھ کو بخش دیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2611]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ پھر اسے خرید کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! یہ تمہارا (اونٹ) ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ هَدِيَّةِ مَا يُكْرَهُ لُبْسُهَا:
باب: ایسے کپڑے کا تحفہ دینا جس کا پہننا مکروہ ہو۔
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، وَقَالَ: أَكَسَوْتَنِيهَا، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ (فروخت ہو رہا) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے (ریشمی) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2612]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعے کے دن، نیز کسی وفد کی آمد کے موقع پر اسے زیب تن فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے جوڑے تو وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“ پھر کچھ اور جوڑے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ خلعت مجھے عنایت فرما رہے ہیں، حالانکہ آپ نے حلہ عطارد کے متعلق تو جو کچھ فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ (یعنی آپ نے ان کے متعلق تو بہت سخت وعید سنائی تھی۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ خلعت تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی۔“ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة