صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَنْ رَأَى الْهِبَةَ الْغَائِبَةَ جَائِزَةً:
باب: جن کے نزدیک غائب چیز کا ہبہ کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 2583
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: ذَكَرَ عُرْوَةُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ،" فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا"، فَقَالَ النَّاسُ: طَيَّبْنَا لَكَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ابن شہاب سے، ان سے عروہ نے ذکر کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ کی شان کے مطابق ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: امابعد! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے (قیدیوں کو) واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ انہیں ان کا حصہ ملے (تو وہ بھی واپس کر دے) اور ہمیں اللہ تعالیٰ (اس کے بعد) سب سے پہلی جو غنیمت دے گا، اس میں سے ہم اسے معاوضہ دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا ہم اپنی خوشی سے (ان کے قیدی واپس کر کے) آپ کا ارشاد تسلیم کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2583]
حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قبیلہ ہوازن کا وفد آیا تو آپ لوگوں میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جو اس کے شایانِ شان ہے، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد“، (لوگو!) تمہارے بھائی تائب ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔ تم میں سے جو کوئی خوشی سے پسند کرے وہ بھی ایسا کر دے اور جو اپنا حق باقی رکھنا چاہتا ہو، وہ اس شرط پر ایسا کر دے کہ جب آئندہ ہمارے پاس غنیمت کا مال آئے تو ہم اس کو دے دیں گے۔“ لوگوں نے کہا: ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2584
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: ذَكَرَ عُرْوَةُ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ،" فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا"، فَقَالَ النَّاسُ: طَيَّبْنَا لَكَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ابن شہاب سے، ان سے عروہ نے ذکر کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ کی شان کے مطابق ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: امابعد! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں اور میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے (قیدیوں کو) واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ انہیں ان کا حصہ ملے (تو وہ بھی واپس کر دے) اور ہمیں اللہ تعالیٰ (اس کے بعد) سب سے پہلی جو غنیمت دے گا، اس میں سے ہم اسے معاوضہ دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا ہم اپنی خوشی سے (ان کے قیدی واپس کر کے) آپ کا ارشاد تسلیم کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2584]
حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قبیلہ ہوازن کا وفد آیا تو آپ لوگوں میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جو اس کے شایانِ شان ہے، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! (لوگو!) تمہارے بھائی تائب ہو کر ہمارے پاس آئے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔ تم میں سے جو کوئی خوشی سے پسند کرے وہ بھی ایسا کر دے اور جو اپنا حق باقی رکھنا چاہتا ہو، وہ اس شرط پر ایسا کر دے کہ جب آئندہ ہمارے پاس غنیمت کا مال آئے تو ہم اس کو دے دیں گے۔“ لوگوں نے کہا: ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ الْمُكَافَأَةِ فِي الْهِبَةِ:
باب: ہبہ کا معاوضہ (بدلہ) ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 2585
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا". لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ، وَمُحَاضِرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیا کرتے۔ لیکن اس کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو وکیع اور محاضر نے بھی روایت کیا، مگر انہوں نے اس کو ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2585]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔ وکیع اور محاضر نے ہشام «عَنْ أَبِيهِ» کے طریق سے اس روایت کو (موصول) ذکر نہیں کیا۔ (یعنی صرف عیسیٰ بن یونس نے اس طریق سے موصول بیان کیا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
12. بَابُ الْهِبَةِ لِلْوَلَدِ:
باب: باپ کا اپنے لڑکے کو کچھ ہبہ کرنا۔
حدیث نمبر: Q2586
وَإِذَا أَعْطَى بَعْضَ وَلَدِهِ شَيْئًا لَمْ يَجُزْ حَتَّى يَعْدِلَ بَيْنَهُمْ وَيُعْطِيَ الْآخَرِينَ مِثْلَهُ، وَلَا يُشْهَدُ عَلَيْهِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ، وَهَلْ لِلْوَالِدِ أَنْ يَرْجِعَ فِي عَطِيَّتِهِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَتَعَدَّى، وَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمَرَ بَعِيرًا، ثُمَّ أَعْطَاهُ ابْنَ عُمَرَ، وَقَالَ: اصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ.
اور اپنے بعض لڑکوں کو اگر کوئی چیز ہبہ میں دی تو جب تک انصاف کے ساتھ تمام لڑکوں کو برابر نہ دے، یہ ہبہ جائز نہیں ہو گا اور ایسے ظلم کے ہبہ پر گواہ ہونا بھی درست نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عطایا کے سلسلہ میں اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اور کیا باپ اپنا عطیہ واپس بھی لے سکتا ہے؟ اور باپ اپنے لڑکے کے مال میں سے دستور کے مطابق جب کہ ظلم کا ارادہ نہ ہو لے سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدا اور پھر اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطا فرمایا اور فرمایا کہ اس کا جو چاہے کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: Q2586]
حدیث نمبر: 2586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أنهما حدثاه، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،" أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2586]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اس جیسا (غلام) دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا عطیہ واپس لے لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ الإِشْهَادِ فِي الْهِبَةِ:
باب: ہبہ کے اوپر گواہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2587]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے برسرِ منبر کہا کہ میرے والد نے مجھے کچھ عطیہ دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بناؤ۔ لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے اس بیٹے کو کچھ عطیہ دیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرہ کے کہنے کے مطابق آپ کو اس پر گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”آیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اتنا ہی دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کیا کرو۔“ حضرت نعمان رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) میرے والد لوٹ آئے اور انہوں نے دی ہوئی چیز واپس لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ هِبَةِ الرَّجُلِ لاِمْرَأَتِهِ وَالْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا:
باب: خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو کچھ ہبہ کر دینا۔
حدیث نمبر: Q2588
قَالَ إِبْرَاهِيمُ: جَائِزَةٌ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَا يَرْجِعَانِ، وَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: فِيمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ هَبِي لِي بَعْضَ صَدَاقِكِ أَوْ كُلَّهُ، ثُمَّ لَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى طَلَّقَهَا فَرَجَعَتْ فِيهِ، قَالَ: يَرُدُّ إِلَيْهَا إِنْ كَانَ خَلَبَهَا وَإِنْ كَانَتْ أَعْطَتْهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِ خَدِيعَةٌ جَازَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ سورة النساء آية 4.
ابراہیم نخعی نے کہا کہ جائز ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ دونوں اپنا ہبہ واپس نہیں لے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض کے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزارنے کی اپنی دوسری بیویوں سے اجازت مانگی تھی (اور ازواج مطہرات نے اپنی اپنی باری ہبہ کر دی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنا ہبہ واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے چاٹتا ہے۔ زہری نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنا کچھ مہر یا سارا مہر مجھے ہبہ کر دے (اور اس نے کر دیا) اس کے تھوڑی ہی دیر بعد اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی نے (اپنے مہر کا ہبہ) واپس مانگا تو زہری نے کہا کہ اگر شوہر نے محض دھوکہ کے لیے ایسا کیا تھا تو اسے مہر واپس کرنا ہو گا۔ لیکن اگر بیوی نے اپنی خوشی سے مہر ہبہ کیا، اور شوہر نے بھی کسی قسم کا دھوکہ اس سلسلے میں اسے نہیں دیا، تو یہ صورت جائز ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فإن طبن لكم عن شىء منه نفسا» ”اگر تمہاری بیویاں دل سے اور خوش ہو کر تمہیں اپنے مہر کا کچھ حصہ دے دیں (تو لے سکتے ہو)۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: Q2588]
حدیث نمبر: 2588
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَذَكَرْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي: وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں نے اجازت دے دی تو آپ اس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین پر رگڑ کھا رہے تھے۔ آپ اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا۔ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا، جانتے ہو وہ کون تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2588]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کرگئی اور تکلیف سخت ہوگئی تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے اپنی بیماری کے ایام میرے گھر بسر کرنے کی اجازت طلب کی تو تمام ازواج نے بخوشی اجازت دے دی۔ آپ دو آدمیوں کے درمیان اس طرح نکلے کہ آپ کے پاؤں زمین پر نشان کھینچتے تھے۔ آپ جن آدمیوں کے درمیان تھے ان میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے کوئی اور شخص تھے (راوی حدیث) عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے جو بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی تھی جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم اس شخص کو جانتے ہو جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں (جانتا۔) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2589
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2589]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹ جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ هِبَةِ الْمَرْأَةِ لِغَيْرِ زَوْجِهَا:
باب: اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے۔
حدیث نمبر: Q2590
وَعِتْقُهَا إِذَا كَانَ لَهَا زَوْجٌ فَهُوَ جَائِزٌ إِذَا لَمْ تَكُنْ سَفِيهَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَفِيهَةً لَمْ يَجُزْ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ سورة النساء آية 5.
یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو، تو یہ ہبہ جائز ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ عورت بے عقل نہ ہو۔ کیونکہ اگر وہ بے عقل ہو گی تو جائز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «ولا تؤتوا السفهاء أموالكم» ”بے عقل لوگوں کو اپنا مال نہ دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: Q2590]