🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ:
باب: جنت کا بیان اور یہ بیان کہ جنت پیدا ہو چکی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبُ".
‏‏‏‏ اور کسی شخص کے لیے ایک کمان کے برابر جنت میں جگہ اس پوری دنیا سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3253]
بے شک جنت میں تمہاری کمان رکھنے کی جگہ ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِينَ عَلَى آثَارِهِمْ كَأَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لَا تَبَاغُضَ بَيْنَهُمْ، وَلَا تَحَاسُدَ لِكُلِّ امْرِئٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیا، ان سے ہلال نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے، سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہو گا اور نہ حسد، ہر جنتی کی دو حورعین بیویاں ہوں گی، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3254]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کے چہرے بدرِ منیر کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد جو گروہ داخل ہوگا ان کے چہرے آسمان میں سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح تابناک ہوں گے۔ سب کے دل ایک جیسے ہوں گے۔ ان میں نہ تو باہم بغض و فساد ہوگا اور نہ حسد و عناد ہی ہوگا۔ ہر جنتی کی حورِ عین میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ وہ اس قدر حسین ہوں گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا ہڈی اور گوشت کے اوپر سے دیکھا جا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (صاحبزادے) ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں اسے ایک دودھ پلانے والی انا کے حوالہ کر دیا گیا ہے (جو ان کو دودھ پلاتی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3255]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اسلم، غفار اور بعض قبیلے مزینہ اور جہینہ اللہ کے ہاں قیامت کے دن اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَيُونَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ، أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ، لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ، وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی لوگ اپنے سے بلند کمرے والوں کو اوپر اسی طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ستارے کو جو صبح کے وقت رہ گیا ہو، آسمان کے کنارے پورب یا پچھم میں دیکھتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے سے افضل ہو گا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو انبیاء کے محل ہوں گے جنہیں ان کے سوار اور کوئی نہ پا سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انبیاء کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3256]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ جنت بالائی منزل والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح لوگ آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر چمکتا ہوا ستارہ دیکھتے ہیں کیونکہ اہل جنت کا آپس میں فرقِ مراتب ضرور ہو گا۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو انبیاء علیہم السلام کے مقامات ہیں، ان کے مراتب پر کوئی اور نہیں پہنچ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (وہ یقیناً ان مراتب کو حاصل کریں گے۔) [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ صِفَةِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ:
باب: جنت کے دروازوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3257
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ فِيهِ عُبَادَةُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے (اللہ کے راستے میں کسی چیز کا) ایک جوڑا خرچ کیا، اسے جنت کے دروازے سے بلایا جائے گا اس باب میں عبادہ بن صامت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: Q3257]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ فِيهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ جس سے داخل ہونے والے صرف روزے دار ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3257]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازے کا نام «الرَّيَّانُ» ریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ صِفَةِ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ:
باب: دوزخ کا بیان اور یہ بیان کہ دوزخ بن چکی ہے، وہ موجود ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3258
وَغَسَّاقًا سورة النبأ آية 25، يُقَالُ: غَسَقَتْ عَيْنُهُ وَيَغْسِقُ الْجُرْحُ وَكَأَنَّ الْغَسَاقَ وَالْغَسْقَ وَاحِدٌ غِسْلِينٍ سورة الحاقة آية 36 كُلُّ شَيْءٍ غَسَلْتَهُ، فَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ فَهُوَ غِسْلِينُ فِعْلِينُ مِنَ الْغَسْلِ مِنَ الْجُرْحِ وَالدَّبَرِ، وَقَالَ: عِكْرِمَةُ حَصَبُ جَهَنَّمَ سورة الأنبياء آية 98 حَطَبُ بِالْحَبَشِيَّةِ، وَقَالَ: غَيْرهُ حَاصِبًا سورة الإسراء آية 68 الرِّيحُ الْعَاصِفُ وَالْحَاصِبُ مَا تَرْمِي بِهِ الرِّيحُ وَمِنْهُ حَصَبُ جَهَنَّمَ يُرْمَى بِهِ فِي جَهَنَّمَ هُمْ حَصَبُهَا، وَيُقَالُ: حَصَبَ فِي الْأَرْضِ ذَهَبَ وَالْحَصَبُ مُشْتَقٌّ مِنْ حَصْبَاءِ الْحِجَارَةِ صَدِيدٍ سورة إبراهيم آية 16 قَيْحٌ وَدَمٌ خَبَتْ سورة الإسراء آية 97 طَفِئَتْ تُورُونَ سورة الواقعة آية 71 تَسْتَخْرِجُونَ، أَوْرَيْتُ أَوْقَدْتُ لِلْمُقْوِينَ سورة الواقعة آية 73 لِلْمُسَافِرِينَ وَالْقِيُّ الْقَفْرُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صِرَاطُ الْجَحِيمِ سَوَاءُ الْجَحِيمِ وَوَسَطُ الْجَحِيمِ لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ سورة الصافات آية 67 يُخْلَطُ طَعَامُهُمْ وَيُسَاطُ بِالْحَمِيمِ زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ سورة هود آية 106 صَوْتٌ شَدِيدٌ وَصَوْتٌ ضَعِيفٌ وِرْدًا سورة مريم آية 86 عِطَاشًا غَيًّا سورة مريم آية 59 خُسْرَانًا، وَقَالَ: مُجَاهِدٌ يُسْجَرُونَ سورة غافر آية 72 تُوقَدُ بِهِمُ النَّارُ وَنُحَاسٌ سورة الرحمن آية 35 الصُّفْرُ يُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ، يُقَالُ ذُوقُوا سورة آل عمران آية 181 بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْفَمِ مَارِجٌ خَالِصٌ مِنَ النَّارِ مَرَجَ الْأَمِيرُ رَعِيَّتَهُ إِذَا خَلَّاهُمْ يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مَرِيجٍ سورة ق آية 5 مُلْتَبِسٍ مَرِجَ أَمْرُ النَّاسِ اخْتَلَطَ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ سورة الفرقان آية 53 مَرَجْتَ دَابَّتَكَ تَرَكْتَهَا.
‏‏‏‏ سورۃ النباء میں جو لفظ «غساقا‏» آیا ہے اس کا معنی پیپ لہو، عرب لوگ کہتے ہیں «غسقت عينه» اس کی آنکھ بہہ رہی ہے۔ «يغسق الجرح» زخم بہہ رہا ہے۔ «غساق‏» اور «غسق» دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ «غسلين‏» کا لفظ جو سورۃ الحاقہ میں ہے اس کا معنی «دهوون» یعنی کسی چیز کے دھونے میں جیسے آدمی کا زخم ہو یا اونٹ کا جو نکلے «فعلين» کے وزن پر غسل سے مشتق ہے۔ عکرمہ نے کہا «حصب» کا لفظ جو سورۃ انبیاء میں ہے معنی «حطب» یعنی ایندھن کے ہیں۔ یہ لفظ حبشی زبان کا ہے۔ دوسروں نے کہا، «حاصبا‏» کا معنی جو سورۃ بنی اسرائیل میں ہے تند ہوا، آندھی اور «حاصب» اس کو بھی کہتے ہیں جو ہوا اڑا کر لائے۔ اسی سے لفظ «حصب جهنم‏» نکلا ہے جو سورۃ انبیاء میں ہے۔ یعنی دوزخ میں جھونکے جائیں گے وہ اس کے ایندھن بنیں گے۔ عرب لوگ کہتے ہیں «حصب في الأرض» یعنی وہ زمین میں چلا گیا۔ «حصب» «حصباء» سے نکلا ہے۔ یعنی پتھریلی کنکریاں۔ «صديد‏» کا لفظ جو سورۃ ابراہیم میں ہے اس کا معنی پیپ اور لہو کے ہیں۔ «خبت‏» کا لفظ جو سورۃ بنی اسرائیل میں ہے اس کا معنی بجھ جائے گی۔ «تورون‏» کا لفظ جو سورۃ الواقعہ میں ہے اس کا معنی آگ سلگاتے ہو، کہتے ہیں «أوريت» یعنی میں نے آگ سلگائی۔ «مقوين‏» کا لفظ جو سورۃ الواقعہ میں ہے یہ لفظ «قي» سے نکلا ہے۔ «قي» اجاڑ زمین کو کہتے ہیں اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «سواء الجحيم» کی تفسیر میں کہا جو سورۃ الصافات میں ہے دوزخ کا بیچوں بیچ کا حصہ، «لشوبا من حميم‏» (جو اسی سورۃ میں ہے) اس کا معنی یہ ہے کہ دوزخیوں کے کھانے میں گرم کھولتا ہوا پانی ملایا جائے گا۔ الفاظ «زفير» اور «شهيق‏» جو سورۃ ہود میں ہیں ان کے معنی آواز سے رونا اور آہستہ سے رونا، لفظ «وردا‏» جو سورۃ مریم میں ہے یعنی پیاسے، لفظ «غيا‏» جو اسی سورۃ میں ہے۔ یعنی ٹوٹا نقصان، اور مجاہد نے کہا لفظ «يسجرون‏» جو سورۃ مؤمن میں ہے، یعنی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ لفظ «نحاس‏» جو سورۃ الرحمن میں ہے اس کا معنی تانبا جو پگھلا کر ان کے سروں پر ڈالا جائے گا۔ لفظ «ذوقوا‏» جو کئی سورتوں میں آیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ عذاب کو دیکھو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ لفظ «مارج» جو سورۃ الرحمن میں ہے یعنی خالص آگ۔ عرب لوگ کہتے ہیں، «مرج الأمير رعيته» یعنی بادشاہ اپنی رعیت کو چھوڑ بیٹھا، وہ ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں۔ لفظ «مريج‏» جو سورۃ ق میں ہے، یعنی ملا ہوا، مشتبہ۔ کہتے ہیں «مرج أمر الناس اختلط» یعنی لوگوں کا معاملہ سب خلط ملط ہو گیا۔ لفظ «مرج البحرين‏» جو سورۃ الرحمن میں ہے «مرجت دابتك» سے نکلا ہے، یعنی تو نے اپنا جانور چھوڑ دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: Q3258]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" أَبْرِدْ ثُمَّ قَالَ: أَبْرِدْ حَتَّى فَاءَ الْفَيْءُ يَعْنِي لِلتُّلُولِ، ثُمَّ قَالَ: أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مہاجر ابوالحسن نے بیان کیا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے (جب بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان دینے اٹھے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت ذرا ٹھنڈا ہو لینے دو، پھر دوبارہ (جب وہ اذان کے لیے اٹھے تو پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہی حکم دیا کہ وقت اور ٹھنڈا ہو لینے دو، یہاں تک کہ ٹیلوں کے نیچے سے سایہ ڈھل گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز ٹھنڈے وقت اوقات میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3258]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپ نے (مؤذن سے) فرمایا: نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔ پھر فرمایا: وقت کو ٹھنڈا ہو لینے دو۔ یہاں تک کہ ٹیلوں کے نیچے سایہ اتر آیا۔ پھر آپ نے فرمایا: نماز ٹھنڈے اوقات میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3259]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز (ظہر) ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کے جوش و خروش سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو، اس کا یہی سبب ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3260]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو عرض کیا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی۔ ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ پس تم جو انتہائی سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور جو سخت سردی پاتے ہو وہ اسی وجہ سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں