صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب صفة النار وأنها مخلوقة:
باب: دوزخ کا بیان اور یہ بیان کہ دوزخ بن چکی ہے، وہ موجود ہے۔
حدیث نمبر: 3260
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو، اس کا یہی سبب ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3260
| أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فأشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير |
صحيح مسلم |
1401
| أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فهو أشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير |
صحيح مسلم |
1403
| أكل بعضي بعضا فأذن لي أتنفس فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فما وجدتم من برد أو زمهرير فمن نفس جهنم وما وجدتم من حر أو حرور فمن نفس جهنم |
جامع الترمذي |
2592
| أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفسا في الشتاء ونفسا في الصيف فأما نفسها في الشتاء فزمهرير وأما نفسها في الصيف فسموم |
سنن ابن ماجه |
4319
| أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فشدة ما تجدون من البرد من زمهريرها وشدة ما تجدون من الحر من سمومها |
موطأ مالك رواية يحيى الليثي |
27
| النار اشتكت إلى ربها فأذن لها في كل عام بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3260 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3260
حدیث حاشیہ:
یہ اسباب باطنی ہیں۔
جن کو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی طرح تسلیم کرلینا اور مزید کرید نہ کرنا ہی اہل ایمان کے لیے ضروری ہے جو لوگ امور باطن کو اپنی محدود عقل کے پیمانے سے ناپنا چاہتے ہیں، ان کو سوائے خسران اور خرابی ایمان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
منکرین حدیث نے اپنی کور باطنی کی بنا پر ایسی احادیث کو خصوصیت سے نشانہ تنقید بنایا ہے وہ اتنا نہیں سمجھ پاتے کہ ایسے استعارات خود قرآن کریم میں بھی بہت جگہ استعمال کئے گئے ہیں جیسے ارشاد ہے ﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بني إسرائیل: 44)
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے مگر تم ان کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔
یا جیسے آیت ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ﴾ (ق: 30)
میں نار دوزخ کا کلام کرنا مذکور ہے۔
منکرین حدیث جو محض قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ایسے قرآنی استعارات کے بارے میں کیا تنقید کریں گے۔
ثابت ہوا کہ عالم برزخ باطنی، عالم آخرت، عالم دوزخ، عالم جنت ان سب کے لیے جو جو کوائف جن جن لفظوں میں قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں ان کو ان کے ظاہری معانی کی حد تک تسلیم کرکے آگے زبان بند کرنا ایمان والوں کی شان ہے یہی لوگ راسخین في العلم اور یہی لوگ عنداللہ سمجھ دار ہیں۔
جعلنا اللہ منھم۔
آمین
یہ اسباب باطنی ہیں۔
جن کو جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی طرح تسلیم کرلینا اور مزید کرید نہ کرنا ہی اہل ایمان کے لیے ضروری ہے جو لوگ امور باطن کو اپنی محدود عقل کے پیمانے سے ناپنا چاہتے ہیں، ان کو سوائے خسران اور خرابی ایمان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
منکرین حدیث نے اپنی کور باطنی کی بنا پر ایسی احادیث کو خصوصیت سے نشانہ تنقید بنایا ہے وہ اتنا نہیں سمجھ پاتے کہ ایسے استعارات خود قرآن کریم میں بھی بہت جگہ استعمال کئے گئے ہیں جیسے ارشاد ہے ﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ (بني إسرائیل: 44)
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے مگر تم ان کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔
یا جیسے آیت ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ﴾ (ق: 30)
میں نار دوزخ کا کلام کرنا مذکور ہے۔
منکرین حدیث جو محض قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ایسے قرآنی استعارات کے بارے میں کیا تنقید کریں گے۔
ثابت ہوا کہ عالم برزخ باطنی، عالم آخرت، عالم دوزخ، عالم جنت ان سب کے لیے جو جو کوائف جن جن لفظوں میں قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں ان کو ان کے ظاہری معانی کی حد تک تسلیم کرکے آگے زبان بند کرنا ایمان والوں کی شان ہے یہی لوگ راسخین في العلم اور یہی لوگ عنداللہ سمجھ دار ہیں۔
جعلنا اللہ منھم۔
آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3260]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3260
حدیث حاشیہ:
1۔
مذکورہ احادیث میں دوزخ کی گرمی اور سردی کا ذکر ہے۔
اس سے امام بخاری ؒنے عنوان ثابت کیا ہے کہ جہنم اب بھی موجود ہے۔
2۔
حدیث میں آگ سے مراد دوزخ ہے اور اس میں دونوں قسم کے عذاب ہیں سخت گرم اور سخت سرد، اس کے علاوہ عذاب کی اور قسمیں بھی ہیں۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ادراک اور شعور ہے جسے منکرین حدیث نے ہدف تنقید بنایاہے۔
حالانکہ اس قسم کے استعارات خود قرآن نے بھی بیان کیے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے مگر تم اس کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔
“ (بني إسرائیل 44۔
17)
نیز قرآن میں ہے ”ہم قیامت کے دن جہنم سے پوچھیں گے۔
کیا تو بھر گئی ہے؟ تو وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟“(ق: 30)
منکرین جو احادیث کا مذاق اڑاتے ہیں۔
وہ ان آیات کا کیا جواب دیں گے؟ ﴿قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
1۔
مذکورہ احادیث میں دوزخ کی گرمی اور سردی کا ذکر ہے۔
اس سے امام بخاری ؒنے عنوان ثابت کیا ہے کہ جہنم اب بھی موجود ہے۔
2۔
حدیث میں آگ سے مراد دوزخ ہے اور اس میں دونوں قسم کے عذاب ہیں سخت گرم اور سخت سرد، اس کے علاوہ عذاب کی اور قسمیں بھی ہیں۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ادراک اور شعور ہے جسے منکرین حدیث نے ہدف تنقید بنایاہے۔
حالانکہ اس قسم کے استعارات خود قرآن نے بھی بیان کیے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے مگر تم اس کی کیفیت نہیں سمجھ سکتے۔
“ (بني إسرائیل 44۔
17)
نیز قرآن میں ہے ”ہم قیامت کے دن جہنم سے پوچھیں گے۔
کیا تو بھر گئی ہے؟ تو وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟“(ق: 30)
منکرین جو احادیث کا مذاق اڑاتے ہیں۔
وہ ان آیات کا کیا جواب دیں گے؟ ﴿قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3260]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4319
جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4319]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4319]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اللہ تعالی کی تمام مخلوقات اپنے خالق کا شعور رکھتی ہیں۔
اس لیے اسکی عبادت کرتی ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتی ہیں۔
(2)
جنت اور جہنم بھی باشعور مخلوقات ہیں قرآن مجید میں جہنم کے غصے کا ذکر ہے۔ دیکھیے: (سورۃ ملك: 67: 8)
(3)
جہنم کی حرارت اتنی شدید ہے کہ خود جہنم کے لیے بھی ناقابل برداشت ہے۔
اس لیے اسے اجازت دی گئی ہے کہ سال میں دو بار گرم اور سرد ہوا خارج کرکے اس شدت میں قدرے تخفیف کر لے۔
(4)
کرہ ارض پر گرمی کے موسم میں سخت گرمی کی لہراور سردی کے ایام میں سخت سردی کی لہر ایک معروف اور محسوس حقیقت ہے۔
اس کے کچھ ظاہری اسباب ہے جن سے سائنس دان واقف ہیں۔
لیکن اسکے کچھ باطنی اور غیر مادی اسباب بھی ہے۔
جن کا علم صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے ہوا ہے۔
(5)
دنیا میں پیش آنے والے واقعات کے ظاہری اور سائنسی اسباب کے ساتھ کچھ روحانی اور باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جنکا اندازہ ظاہری اسباب سے نہیں ہو سکتا۔
مثلاً صدقہ کرنے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔
تجارت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے مال میں بے برکتی کا ہونا، سلام کی وجہ سے محبت کا پیدا ھونا وغیرہ ان پہ ایمان رکھنا ضروری ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اللہ تعالی کی تمام مخلوقات اپنے خالق کا شعور رکھتی ہیں۔
اس لیے اسکی عبادت کرتی ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتی ہیں۔
(2)
جنت اور جہنم بھی باشعور مخلوقات ہیں قرآن مجید میں جہنم کے غصے کا ذکر ہے۔ دیکھیے: (سورۃ ملك: 67: 8)
(3)
جہنم کی حرارت اتنی شدید ہے کہ خود جہنم کے لیے بھی ناقابل برداشت ہے۔
اس لیے اسے اجازت دی گئی ہے کہ سال میں دو بار گرم اور سرد ہوا خارج کرکے اس شدت میں قدرے تخفیف کر لے۔
(4)
کرہ ارض پر گرمی کے موسم میں سخت گرمی کی لہراور سردی کے ایام میں سخت سردی کی لہر ایک معروف اور محسوس حقیقت ہے۔
اس کے کچھ ظاہری اسباب ہے جن سے سائنس دان واقف ہیں۔
لیکن اسکے کچھ باطنی اور غیر مادی اسباب بھی ہے۔
جن کا علم صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے ہوا ہے۔
(5)
دنیا میں پیش آنے والے واقعات کے ظاہری اور سائنسی اسباب کے ساتھ کچھ روحانی اور باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جنکا اندازہ ظاہری اسباب سے نہیں ہو سکتا۔
مثلاً صدقہ کرنے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔
تجارت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے مال میں بے برکتی کا ہونا، سلام کی وجہ سے محبت کا پیدا ھونا وغیرہ ان پہ ایمان رکھنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4319]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1401
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے اپنے آقا کے حضور شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا تو اس کو دو سانس لینے کی اجازت دے دی گئی یا اللہ نے اجازت دے دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، گرمی اور سردی میں جو تم گرمی اور سردی کی شدت محسوس کرتے ہو وہ اسی کا نتیجہ ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1401]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
زَمهَرِير:
شدید سردی۔
(2)
نفس:
سانس۔
فوائد ومسائل:
دوزخ کو قوت ادراک و شعور اور قوت تکلم و گویائی حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو سمجھتا ہے اس لیے دوزخ نے شکایت زبان قال سے کی محض زبان حال سے نہیں جہنم کا گرم طبقہ گرمی میں سانس لے کر گرمی میں شدت کا باطنی سبب بنتا ہے اور سرد طبقہ سردی میں سانس لے کر سردی بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسانوں کو سہولت وآسانی کے لیے ایسے ظاہری اسباب پیدا کرتا رہتا ہے کہ گرمی و سردی کی شدت میں کمی و بیشی وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
زَمهَرِير:
شدید سردی۔
(2)
نفس:
سانس۔
فوائد ومسائل:
دوزخ کو قوت ادراک و شعور اور قوت تکلم و گویائی حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی زبان کو سمجھتا ہے اس لیے دوزخ نے شکایت زبان قال سے کی محض زبان حال سے نہیں جہنم کا گرم طبقہ گرمی میں سانس لے کر گرمی میں شدت کا باطنی سبب بنتا ہے اور سرد طبقہ سردی میں سانس لے کر سردی بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسانوں کو سہولت وآسانی کے لیے ایسے ظاہری اسباب پیدا کرتا رہتا ہے کہ گرمی و سردی کی شدت میں کمی و بیشی وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1401]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1403
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے عرض کی، اے میرے رب! میرے بعض نے بعض کو کھا لیا تو مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائیے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، تو تم جو سردی یا ٹھنڈ کی شدت پاتے ہو وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم گرمی یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ جہنم کی سانس سے ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1403]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
زَمْهَرِيْر:
سردی کی شدت۔
(2)
حَرُوْر:
گرمی کی تیزی،
حدت۔
فوائد ومسائل:
یہ گرم اور سرد سانس اپنے علاقوں کی طرف پھیلتی ہے جن کا رب النار حکم دیتا ہے اس لیے ہر جگہ اور ملک میں گرمی و سردی کا موسم یکساں نہیں ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
زَمْهَرِيْر:
سردی کی شدت۔
(2)
حَرُوْر:
گرمی کی تیزی،
حدت۔
فوائد ومسائل:
یہ گرم اور سرد سانس اپنے علاقوں کی طرف پھیلتی ہے جن کا رب النار حکم دیتا ہے اس لیے ہر جگہ اور ملک میں گرمی و سردی کا موسم یکساں نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1403]
Sahih Bukhari Hadith 3260 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي