🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَبِي عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوعمرو عثمان بن عفان القرشی (اموی) رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3695
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَحْفِرْ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ فَحَفَرَهَا عُثْمَانُ، وَقَالَ:" مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ فَجَهَّزَهُ عُثْمَانُ".
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص بئررومہ (ایک کنواں) کو خرید کر سب کے لیے عام کر دے۔ اس کے لیے جنت ہے۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے خرید کر عام کر دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص جیش عسرہ (غزوہ تبوک کے لشکر) کو سامان سے لیس کرے اس کے لیے جنت ہے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3695]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ , فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ" , فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ" , فَإِذَا عُمَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَسَكَتَ هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى سَتُصِيبُهُ" , فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ حَمَّادٌ: وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , وَعَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ , سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِنَحْوِهِ , وَزَادَ فِيهِ عَاصِمٌ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا فِي مَكَانٍ فِيهِ مَاءٌ قَدِ انْكَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ (بئراریس) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتا رہوں۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو، وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور (دنیا میں) ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنا دو، وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نے اپنے گھٹنے کو چھپا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3695]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے تو مجھے حکم دیا کہ باغ کے دروازے کی نگرانی کروں، چنانچہ ایک آدمی آیا اور اس نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ایک تیسرا شخص آیا تو اس نے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو اس مصیبت پر جو اسے پہنچے گی۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ حماد نے کہا: ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان کو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کرتے ہوئے سنا۔ عاصم نے اس میں یہ اضافہ ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ تشریف فرما تھے جہاں پانی تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گھٹنوں یا ایک گھٹنے سے کپڑا اٹھا رکھا تھا، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنوں پر کپڑا کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ عُثْمَانَ لِأَخِيهِ الْوَلِيدِ فَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيهِ فَقَصَدْتُ لِعُثْمَانَ حَتَّى خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ لَكَ، قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: مَعْمَرٌ أُرَاهُ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَانْصَرَفْتُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ إِذْ جَاءَ رَسُولُ عُثْمَانَ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ، فَقُلْتُ:" إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ"، قَالَ: أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ , فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا، قُلْتَ: وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُهُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ مِثْلُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ أَفَلَيْسَ لِي مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لَهُمْ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ بِالْحَقِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِدَهُ فَجَلَدَهُ ثَمَانِينَ".
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عروہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے مقدمہ میں (جسے عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا) کیوں گفتگو نہیں کرتے، لوگ اس سے بہت ناراض ہیں۔ چنانچہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور جب وہ نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے اور وہ ہے آپ کے ساتھ ایک خیر خواہی! اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلے آدمی تم سے (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ معمر نے یوں روایت کیا، میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں واپس ان دونوں کے پاس گیا، اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھ کو بلانے کے لیے آیا میں جب اس کے ساتھ عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ تمہاری خیر خواہی کیا تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل کی آپ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ آپ نے دو ہجرتیں کیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو دیکھا، لیکن بات یہ ہے کہ لوگ ولید کی بہت شکایتیں کر رہے ہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ایک کنواری لڑکی تک کو اس کے تمام پردوں کے باوجود جب پہنچ چکی ہیں تو مجھے کیوں نہ معلوم ہوتیں۔ اس پر عثمان نے فرمایا: امابعد: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس دعوت کو لے کر بھیجے گئے تھے میں اس پر پورے طور سے ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا دو ہجرتیں بھی کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا ہوں اور آپ سے بیعت بھی کی ہے۔ پس اللہ کی قسم میں نے کبھی آپ کے حکم سے سرتابی نہیں کی۔ اور نہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی دھوکا کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا تو کیا جب کہ مجھے ان کا جانشیں بنا دیا گیا ہے تو مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں تھے؟ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر ان باتوں کے لیے کیا جواز رہ جاتا ہے جو تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں لیکن تم نے جو ولید کے حالات کا ذکر کیا ہے، ان شاءاللہ ہم اس کی سزا جو واجبی ہے اس کو دیں گے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ ولید کو حد لگائیں۔ چنانچہ انہوں نے ولید کو اسی کوڑے حد کے لگائے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3696]
حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے متعلق گفتگو کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ لوگ اس کے متعلق بہت چہ میگویاں کرتے ہیں۔ چنانچہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب وہ نماز کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کی: مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے جس میں آپ کے لیے خیر خواہی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلے آدمی! میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں واپس آکر ان لوگوں کے پاس آگیا۔ اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھے بلانے کے لیے آگیا۔ میں جب اس کے ہمراہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا: بتاؤ، تمہاری خیر خواہی کیا تھی؟ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور آپ پر قرآن نازل کیا، نیز آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ نے دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو ملاحظہ کیا۔ بات یہ ہے کہ لوگ ولید کے متعلق بہت باتیں کر رہے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے پہنچی ہیں جیسا کہ کنواری لڑکی تک کو اس کے پردے کے باوجود پہنچ چکی ہیں۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں ہی تھا۔ میں اس حق پر ایمان لایا جسے دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا اور میں نے دو ہجرتیں کی ہیں جیسا کہ تو نے ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ کی صحبت میں رہا، اللہ کی قسم! میں نے کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی آپ سے خیانت ہی کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی رویہ تھا۔ پھر مجھے ان کا جانشین بنا دیا گیا۔ تو کیا مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں حاصل تھے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور حاصل ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: پھر ان باتوں کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے جو وقتاً فوقتاً تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں؟ باقی جو تم نے ولید کے متعلق شکایت کی ہے، ان شاء اللہ ہم اس کی سزا جو واجب ہے ضرور دیں گے۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں فرمایا کہ وہ ولید کو کوڑے ماریں، چنانچہ انہوں نے ولید کو اسی (80) کوڑے بطور حد لگائے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3697
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ، وَقَالَ:" اسْكُنْ أُحُدُ أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو پہاڑ کانپنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا احد ٹھہر جا۔ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3697]
حضرت عثمان بن موہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص آیا، اس نے بیت اللہ کا حج کیا تو لوگوں کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا، اس نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان میں یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مصری نے کہا: اے عبد اللہ بن عمر! میں آپ سے چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُحد کے دن میدان سے ہٹ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (مجھے اس بات کا علم ہے)۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگِ بدر سے بھی غائب تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں (مجھے اس کا بھی علم ہے)۔ اس نے کہا: کیا آپ اس سے آگاہ ہیں کہ وہ بیعتِ رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہ ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (جانتا ہوں)۔ تب اس شخص نے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے کا نعرہ بلند کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ادھر آ، میں تجھے ان کی وضاحت کرتا ہوں۔ اُحد سے ہٹ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا! تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، وہ ان دنوں بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (تم ان کی تیمارداری کرو) تمہیں جنگِ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔ باقی رہا ان کا بیعتِ رضوان سے غائب رہنا! تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کرتے، لہٰذا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو وہ چلے گئے اور جب بیعتِ رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا: اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا , ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
مجھ سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے شاذان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے، اس حدیث کو عبداللہ بن صالح نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے۔ اس کو اسماعیلی نے وصل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3698]
حضرت عثمان بن مواہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مصر سے ایک شخص آیا، اس نے بیت اللہ کا حج کیا تو لوگوں کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان میں یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مصری نے کہا: اے عبد اللہ بن عمر! میں آپ سے چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُحد کے دن میدان سے بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (مجھے اس بات کا علم ہے)۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے بھی غائب تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں (مجھے اس کا بھی علم ہے)۔ اس نے کہا: کیا آپ اس سے آگاہ ہیں کہ وہ بیعت رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہ ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (جانتا ہوں)۔ تب اس شخص نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ادھر آ، میں تجھے ان کی وضاحت کرتا ہوں۔ اُحد سے بھاگ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا! تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں، وہ ان دنوں بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (تم اس کی تیمارداری کرو) تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔ باقی رہا ان کا بیعت رضوان سے غائب رہنا! تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے، لہٰذا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو وہ چلے گئے اور جب بیعت رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا اور فرمایا: یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا، فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ، قَالَ: فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ , وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ" , وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ لِعُثْمَانَ" فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، کہا ہم سے عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ مصر والوں میں سے ایک نام نامعلوم آدمی آیا اور حج بیت اللہ کیا، پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا کہ یہ قریشی ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ان میں بزرگ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمر ہیں۔ اس نے پوچھا۔ اے ابن عمر! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ مجھے بتائیں گے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی سے راہ فرار اختیار کی تھی؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے؟ جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہیں تھے۔ جواب دیا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ یہ سن کر اس کی زبان سے نکلا اللہ اکبر تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قریب آ جاؤ، اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاؤں گا۔ احد کی لڑائی سے فرار کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور اس وقت وہ بیمار تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہیں (مریضہ کے پاس ٹھہرنے کا) اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے مطابق مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا اور بیعت رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر وادی مکہ میں کوئی بھی شخص (مسلمانوں میں سے) عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ عزت والا اور بااثر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو ان کی جگہ وہاں بھیجتے، یہی وجہ ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (قریش سے باتیں کرنے کے لیے) مکہ بھیج دیا تھا اور جب بیعت رضوان ہو رہی تھی تو عثمان رضی اللہ عنہ مکہ جا چکے تھے، اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سوال کرنے والے شخص سے فرمایا کہ جا، ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو پہاڑ کانپنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا احد ٹھہر جا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3699]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو خیال نہیں کرتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے، ایک دوسرے سے کسی کو افضل نہیں جانتے تھے۔ عبدالعزیز سے روایت کرنے میں عبداللہ نے شاذان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ قِصَّةُ الْبَيْعَةِ، وَالاِتِّفَاقُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کا قصہ اور آپ کی خلافت پر صحابہ کا اتفاق کرنا اور اس باب میں امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ وَقَفَ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ:" كَيْفَ فَعَلْتُمَا أَتَخَافَانِ أَنْ تَكُونَا قَدْ حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ؟، قَالَا: حَمَّلْنَاهَا أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ مَا فِيهَا كَبِيرُ فَضْلٍ، قَالَ: انْظُرَا أَنْ تَكُونَا حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ، قَالَ: قَالَا لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَئِنْ سَلَّمَنِي اللَّهُ لَأَدَعَنَّ أَرَامِلَ أَهْلِ الْعِرَاقِ لَا يَحْتَجْنَ إِلَى رَجُلٍ بَعْدِي أَبَدًا، قَالَ: فَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا رَابِعَةٌ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ: إِنِّي لَقَائِمٌ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ غَدَاةَ أُصِيبَ وَكَانَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ، قَالَ: اسْتَوُوا حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِنَّ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَرُبَّمَا قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ أَوْ النَّحْلَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: قَتَلَنِي أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ حِينَ طَعَنَهُ فَطَارَ الْعِلْجُ بِسِكِّينٍ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ , حَتَّى طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَاتَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَدَّمَهُ فَمَنْ يَلِي عُمَرَ فَقَدْ رَأَى الَّذِي أَرَى وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ قَدْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ، وَهُمْ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ , فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَلَاةً خَفِيفَةً فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِي فَجَالَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: غُلَامُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: الصَّنَعُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَاتَلَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَمَرْتُ بِهِ مَعْرُوفًا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْ مِيتَتِي بِيَدِ رَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ قَدْ كُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوكَ تُحِبَّانِ أَنْ تَكْثُرَ الْعُلُوجُ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَكْثَرَهُمْ رَقِيقًا، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَعَلْتُ أَيْ إِنْ شِئْتَ قَتَلْنَا، قَالَ: كَذَبْتَ بَعْدَ مَا تَكَلَّمُوا بِلِسَانِكُمْ وَصَلَّوْا قِبْلَتَكُمْ وَحَجُّوا حَجَّكُمْ فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ وَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَقَائِلٌ، يَقُولُ: لَا بَأْسَ وَقَائِلٌ، يَقُولُ: أَخَافُ عَلَيْهِ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ , فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ , ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ , فَعَلِمُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَاءَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ لَكَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِيتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ شَهَادَةٌ، قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ لَا عَلَيَّ وَلَا لِي فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُهُ يَمَسُّ الْأَرْضَ، قَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي ارْفَعْ ثَوْبَكَ فَإِنَّهُ أَبْقَى لِثَوْبِكَ وَأَتْقَى لِرَبِّكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ: إِنْ وَفَى لَهُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ , فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَأَدِّ عَنِّي هَذَا الْمَالَ , انْطَلِقْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْ يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ السَّلَامَ وَلَا تَقُلْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنِّي لَسْتُ الْيَوْمَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَمِيرًا , وَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَهَا قَاعِدَةً تَبْكِي، فَقَالَ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَيَسْتَأْذِنُ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي وَلَأُوثِرَنَّ بِهِ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي , فَلَمَّا أَقْبَلَ قِيلَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ، قَالَ: ارْفَعُونِي فَأَسْنَدَهُ رَجُلٌ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا لَدَيْكَ، قَالَ: الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَذِنَتْ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَإِذَا أَنَا قَضَيْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمْ فَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَأَدْخِلُونِي وَإِنْ رَدَّتْنِي رُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ , وَجَاءَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةُ وَالنِّسَاءُ تَسِيرُ مَعَهَا فَلَمَّا رَأَيْنَاهَا قُمْنَا , فَوَلَجَتْ عَلَيْهِ فَبَكَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً وَاسْتَأْذَنَ الرِّجَالُ فَوَلَجَتْ دَاخِلًا لَهُمْ فَسَمِعْنَا بُكَاءَهَا مِنَ الدَّاخِلِ، فَقَالُوا: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَخْلِفْ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا , وَعُثْمَانَ , وَالزُّبَيْرَ , وَطَلْحَةَ , وَسَعْدًا , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: يَشْهَدُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ كَهَيْئَةِ التَّعْزِيَةِ لَهُ فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ ذَاكَ وَإِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمْ مَا أُمِّرَ فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ عَنْ عَجْزٍ وَلَا خِيَانَةٍ، وَقَالَ:" أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ , وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ يُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الْأَمْصَارِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ وَجُبَاةُ الْمَالِ وَغَيْظُ الْعَدُوِّ , وَأَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلُهُمْ عَنْ رِضَاهُمْ وَأُوصِيهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّةُ الْإِسْلَامِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَتُرَدَّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ , وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ" , فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَتْ: أَدْخِلُوهُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ هُنَالِكَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ، فَقَالَ: الزُّبَيْرُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: طَلْحَةُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عُثْمَانَ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَيُّكُمَا تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلُهُ إِلَيْهِ وَاللَّهُ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفَتَجْعَلُونَهُ إِلَيَّ وَاللَّهُ عَلَيَّ أَنْ لَا آلُ عَنْ أَفْضَلِكُمْ، قَالَا: نَعَمْ فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: لَكَ قَرَابَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَدَمُ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَاللَّهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ، فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ، قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ فَبَايَعَهُ فَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ وَوَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے سے چند دن پہلے مدینہ میں دیکھا کہ وہ حذیفہ بن یمان اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھڑے تھے اور ان سے یہ فرما رہے تھے کہ (عراق کی اراضی کے لیے، جس کا انتظام خلافت کی جانب سے ان کے سپرد کیا گیا تھا) تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تم نے زمین کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان پر خراج کا اتنا ہی بار ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی زمین میں طاقت ہے، اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو پھر سمجھ لو کہ تم نے ایسی جمع تو نہیں لگائی ہے جو زمین کی طاقت سے باہر ہو۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دونوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے پائے گا، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا تو میں عراق کی بیوہ عورتوں کے لیے اتنا کر دوں گا کہ پھر میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔ راوی عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیئے گئے۔ عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس صبح کو آپ زخمی کئے گئے، میں (فجر کی نماز کے انتظار میں) صف کے اندر کھڑا تھا اور میرے اور ان کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی نہیں تھا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب صف سے گزرتے تو فرماتے جاتے کہ صفیں سیدھی کر لو اور جب دیکھتے کہ صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا ہے تب آگے (مصلی پر) بڑھتے اور تکبیر کہتے۔ آپ (فجر کی نماز کی) پہلی رکعت میں عموماً سورۃ یوسف یا سورۃ النحل یا اتنی ہی طویل کوئی سورت پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے۔ اس دن ابھی آپ نے تکبیر ہی کہی تھی کہ میں نے سنا، آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے قتل کر دیا یا کتے نے کاٹ لیا۔ ابولولو نے آپ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا اور دائیں اور بائیں جدھر بھی پھرتا تو لوگوں کو زخمی کرتا جاتا۔ اس طرح اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سات حضرات نے شہادت پائی۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب (حطان نامی) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس پر اپنی چادر ڈال دی۔ اس بدبخت کو جب یقین ہو گیا کہ اب پکڑ لیا جائے گا تو اس نے خود اپنا بھی گلا کاٹ لیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے بڑھا دیا (عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ) جو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے بھی وہ صورت حال دیکھی جو میں دیکھ رہا تھا لیکن جو لوگ مسجد کے کنارے پر تھے (پیچھے کی صفوں میں) تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہو سکا، البتہ چونکہ عمر رضی اللہ عنہ کی قرآت (نماز میں) انہوں نے نہیں سنی تو سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہتے رہے۔ آخر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر جب لوگ نماز سے پلٹے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن عباس! دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آ کر فرمایا کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام (ابولولو) نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا، وہی جو کاریگر ہے؟ جواب دیا کہ جی ہاں، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اسے برباد کرے میں نے تو اسے اچھی بات کہی تھی (جس کا اس نے یہ بدلا دیا) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں مقدر کی جو اسلام کا مدعی ہو۔ تم اور تمہارے والد (عباس رضی اللہ عنہ) اس کے بہت ہی خواہشمند تھے کہ عجمی غلام مدینہ میں زیادہ سے زیادہ لائے جائیں۔ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا، اگر آپ فرمائیں تو ہم بھی کر گزریں۔ مقصد یہ تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم (مدینہ میں مقیم عجمی غلاموں کو) قتل کر ڈالیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ انتہائی غلط فکر ہے، خصوصاً جب کہ تمہاری زبان میں وہ گفتگو کرتے ہیں، تمہارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر اٹھا کر لایا گیا اور ہم آپ کے ساتھ ساتھ آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر کبھی اس سے پہلے اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں تھی، بعض تو یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہو گا۔ (اچھے ہو جائیں گے) اور بعض کہتے تھے کہ آپ کی زندگی خطرہ میں ہے۔ اس کے بعد کھجور کا پانی لایا گیا۔ اسے آپ نے پیا تو وہ آپ کے پیٹ سے باہر نکل آیا۔ پھر دودھ لایا گیا اسے بھی جوں ہی آپ نے پیا زخم کے راستے وہ بھی باہر نکل آیا۔ اب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ کی شہادت یقینی ہے۔ پھر ہم اندر آ گئے اور لوگ آپ کی تعریف بیان کرنے لگے، اتنے میں ایک نوجوان اندر آیا اور کہنے لگایا امیرالمؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی۔ ابتداء میں اسلام لانے کا شرف حاصل کیا جو آپ کو معلوم ہے۔ پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف سے حکومت کی، پھر شہادت پائی، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس پر بھی خوش تھا کہ ان باتوں کی وجہ سے برابر پر میرا معاملہ ختم ہو جاتا، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔ جب وہ نوجوان جانے لگا تو اس کا تہبند (ازار) لٹک رہا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پاس واپس بلا لاؤ (جب وہ آئے تو) آپ نے فرمایا: میرے بھتیجے! یہ اپنا کپڑا اوپر اٹھائے رکھو کہ اس سے تمہارا کپڑا بھی زیادہ دنوں چلے گا اور تمہارے رب سے تقویٰ کا بھی باعث ہے۔ اے عبداللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ جب لوگوں نے آپ پر قرض کا شمار کیا تو تقریباً چھیاسی (86) ہزار نکلا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا ہو سکے تو انہی کے مال سے اس کو ادا کرنا ورنہ پھر بنی عدی بن کعب سے کہنا، اگر ان کے مال کے بعد بھی ادائیگی نہ ہو سکے تو قریش سے کہنا، ان کے سوا کسی سے امداد نہ طلب کرنا اور میری طرف سے اس قرض کو ادا کر دینا۔ اچھا اب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ عمر نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ امیرالمؤمنین (میرے نام کے ساتھ) نہ کہنا، کیونکہ اب میں مسلمانوں کا امیر نہیں رہا ہوں، تو ان سے عرض کرنا کہ عمر بن خطاب نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر) سلام کیا اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔ دیکھا کہ آپ بیٹھی رو رہی ہیں۔ پھر کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنے پر ترجیح دوں گی، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ آ گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اٹھاؤ۔ ایک صاحب نے سہارا دے کر آپ کو اٹھایا۔ آپ نے دریافت کیا کیا خبر لائے؟ کہا کہ جو آپ کی تمنا تھی اے امیرالمؤمنین! عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمدللہ۔ اس سے اہم چیز اب میرے لیے کوئی نہیں رہ گئی تھی۔ لیکن جب میری وفات ہو چکے اور مجھے اٹھا کر (دفن کے لیے) لے چلو تو پھر میرا سلام ان سے کہنا اور عرض کرنا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر وہ میرے لیے اجازت دے دیں تب تو وہاں دفن کرنا اور اگر اجازت نہ دیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ اس کے بعد ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ ان کے ساتھ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں، جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم اٹھ گئے۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب آئیں اور وہاں تھوڑی دیر تک آنسو بہاتی رہیں۔ پھر جب مردوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ مکان کے اندرونی حصہ میں چلی گئیں اور ہم نے ان کے رونے کی آواز سنی پھر لوگوں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! خلافت کے لیے کوئی وصیت کر دیجئیے، فرمایا کہ خلافت کا میں ان حضرات سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے راضی اور خوش تھے پھر آپ نے علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف کا نام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ عبداللہ بن عمر کو بھی صرف مشورہ کی حد تک شریک رکھنا لیکن خلافت سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہے گا۔ جیسے آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تسکین کے لیے یہ فرمایا ہو۔ پھر اگر خلافت سعد کو مل جائے تو وہ اس کے اہل ہیں اور اگر وہ نہ ہو سکیں تو جو شخص بھی خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان کا تعاون حاصل کرتا رہے۔ کیونکہ میں نے ان کو (کوفہ کی گورنری سے) نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے اور عمر نے فرمایا: میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے ساتھ بہتر معاملہ کرے جو دارالہجرت اور دارالایمان (مدینہ منورہ) میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے سے) مقیم ہیں۔ (خلیفہ کو چاہیے) کہ وہ ان کے نیکوں کو نوازے اور ان کے بروں کو معاف کر دیا کرے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھے کہ یہ لوگ اسلام کی مدد، مال جمع کرنے کا ذریعہ اور (اسلام کے) دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں اور یہ کہ ان سے وہی وصول کیا جائے جو ان کے پاس فاضل ہو اور ان کی خوشی سے لیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو بدویوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور اسلام کی جڑ ہیں اور یہ کہ ان سے ان کا بچا کھچا مال وصول کیا جائے اور انہیں کے محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی نگہداشت کی (جو اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں سے کیا ہے) وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کئے گئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے اور ان کی حیثیت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے، جب عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم وہاں سے ان کو لے کر (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرہ کی طرف آئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور عرض کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ہے۔ ام المؤمنین نے کہا انہیں یہیں دفن کیا جائے۔ چنانچہ وہ وہیں دفن ہوئے، پھر جب لوگ دفن سے فارغ ہو چکے تو وہ جماعت (جن کے نام عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے بتائے تھے) جمع ہوئی عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: تمہیں اپنا معاملہ اپنے ہی میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دینا چاہیے اس پر زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف کے سپرد کیا۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو مخاطب کر کے) کہا کہ آپ دونوں حضرات میں سے جو بھی خلافت سے اپنی برات ظاہر کرے ہم اسی کو خلافت دیں گے اور اللہ اس کا نگراں و نگہبان ہو گا اور اسلام کے حقوق کی ذمہ داری اس پر لازم ہو گی۔ ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون افضل ہے، اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں، اللہ کی قسم کہ میں آپ حضرات میں سے اسی کو منتخب کروں گا جو سب میں افضل ہو گا۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ جی ہاں، پھر آپ نے ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ آپ کی قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ابتداء میں اسلام لانے کا شرف بھی۔ جیسا کہ آپ کو خود ہی معلوم ہے، پس اللہ آپ کا نگران ہے کہ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ عدل و انصاف سے کام لیں گے اور اگر عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ ان کے احکام سنیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے؟ اس کے بعد دوسرے صاحب کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی یہی کہا اور جب ان سے وعدہ لے لیا تو فرمایا: اے عثمان! اپنا ہاتھ بڑھایئے۔ چنانچہ انہوں نے ان سے بیعت کی اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے بیعت کی، پھر اہل مدینہ آئے اور سب نے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3700]
عمرو بن میمون سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید ہونے سے چند دن پہلے مدینہ طیبہ میں دیکھا تھا کہ آپ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے (ان سے) پوچھ رہے تھے کہ: تم لوگوں نے کیسے کیا ہے؟ کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ تو نہیں کہ تم نے (عراق کی) اراضی کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ: ہم نے ان پر خرچ کا اتنا ہی بوجھ ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی اس زمین میں ہمت ہے۔ اس سلسلے میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو! پھر سوچ لو کہ تم نے اتنا ٹیکس تو نہیں لگایا جو زمین کی طاقت سے باہر ہو؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے (بلکہ حسب استطاعت اور معقول ہے)۔ اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کی بیواؤں کو اس حال میں چھوڑوں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ انہیں زخمی کر دیا گیا۔ جس روز وہ زخمی کیے گئے میں صف میں کھڑا تھا۔ میرے اور ان کے درمیان صرف عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ ان کی یہ عادت تھی کہ جب صف کے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ: صفیں سیدھی کر لو۔ اور جب دیکھتے کہ اب صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا تو آگے بڑھتے اور تکبیر تحریمہ کہتے اور پہلی رکعت میں اکثر سورت یوسف یا سورت النحل یا اتنی ہی طویل کوئی اور سورت پڑھتے تاکہ سب لوگ جمع ہو جائیں۔ اس دن بھی ابھی آپ نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے ہی کہا تھا کہ میں نے سنا، آپ فرما رہے ہیں: مجھے کتے نے قتل کر ڈالا یا مجھے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ دراصل ابو لؤلؤ نے آپ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا۔ دائیں بائیں جدھر سے گزرتا لوگوں کو زخمی کرتا جاتا تھا حتیٰ کہ اس نے تیرہ آدمی زخمی کیے جن میں سے سات فوت ہو گئے۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھ لی تو اس نے اس پر اپنا لمبا کوٹ ڈال دیا۔ جب اس ملعون غلام کو یقین ہو گیا کہ وہ گرفتار ہو چکا ہے تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا۔ ادھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں آگے بڑھا دیا۔ جو لوگ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے وہ صورت حال دیکھی جو میں نے دیکھی تھی لیکن جو لوگ مسجد کے کونوں میں تھے انہیں کچھ نہ معلوم ہو سکا۔ چونکہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قراءت نہ سنی تو وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ» اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے کہتے رہے، تاہم عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی سی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن عباس! دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آکر کہا: مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے (آپ کو زخمی کیا ہے)۔ آپ نے دریافت فرمایا: وہی جو کاریگر ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے! میں نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی تھی۔ اللہ کا شکر ہے جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں مقدر نہیں کی جو اسلام کا مدعی ہو۔ اے ابن عباس! تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ طیبہ میں عجمی غلام زیادہ ہوں۔ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر آپ فرمائیں تو ہم سب کو قتل کر دیتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ سوچ انتہائی غلط ہے، خصوصاً جب وہ تمہاری زبان میں کلام کرتے ہیں، تمہارے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں تو اس کے بعد تم انہیں قتل کرنے میں سچے نہیں ہو۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں ہے۔ کچھ کہتے کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں اور کچھ لوگ کہتے تھے کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے۔ پھر نبیذ لائی گئی، آپ نے نوش کی تو وہ پیٹ کے راستے سے باہر نکل گئی۔ پھر دودھ لایا گیا، آپ نے وہ نوش کیا تو وہ بھی پیٹ سے نکل گیا۔ اس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے جبکہ دوسرے لوگ بھی آ رہے تھے۔ وہ سب آپ کی تعریف کرتے تھے۔ اس دوران میں ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! آپ کو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہو کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت حاصل رہی اور آپ جانتے ہیں کہ آپ قدیم الاسلام ہیں، پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف کے ساتھ حکومت کی، پھر آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو اس بات پر خوش ہوں کہ ان تمام باتوں کی وجہ سے میرا معاملہ برابری پر ختم ہو جائے، نہ مجھے ان کا ثواب ہو اور نہ مجھے ان کی پاداش میں کوئی سزا ہو۔ پھر جب وہ نوجوان واپس ہوا تو اس کا تہبند زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ فرمایا کہ: اس نوجوان کو واپس بلاؤ۔ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: میرے بھتیجے! اپنا تہبند اوپر اٹھاؤ، اس سے کپڑا صاف رہے گا اور اللہ کے ہاں تقویٰ کا باعث بھی ہے۔ عبداللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے؟ انہوں نے حساب کیا تو چھیاسی ہزار یا اس کے لگ بھگ پایا۔ آپ نے فرمایا: اگر عمر کی اولاد کے اموال ہی سے اسے ادا کرنا، بصورت دیگر (میری قوم) قبیلہ بنو عدی بن کعب کو اس کی ادائیگی کے لیے کہنا۔ اگر ان کے اموال بھی کافی نہ ہوں تو قریش سے کہنا۔ ان کے علاوہ کسی اور سے مدد طلب نہ کرنا۔ بہرحال تم نے میرا قرض ادا کرنا ہے۔ اب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور انہیں کہنا کہ عمر نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے۔ امیر المؤمنین نہ کہنا کیونکہ میں اب مسلمانوں کا امیر نہیں رہا۔ ان سے عرض کرنا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اندر جانے کے بعد دیکھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی رو رہی ہیں۔ عرض کیا کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور وہ آپ سے اجازت چاہتے ہیں کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ وہ آ گئے ہیں تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: مجھے اٹھاؤ۔ ایک شخص نے سہارا دے کر آپ کو بٹھایا۔ فرمایا: عبداللہ! کیا جواب لائے ہو؟ عرض کیا: امیر المؤمنین! وہی جو آپ کی تمنا تھی۔ انہوں نے دفن کی اجازت دے دی ہے۔ فرمایا: اللہ کا شکر ہے۔ میرے لیے اس سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہ تھی۔ لیکن جب میری وفات ہو جائے اور مجھے اٹھا لے جاؤ تو پھر سلام عرض کرنے کے بعد کہنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اگر وہ میرے لیے بخوشی اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا اور اگر اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ اس کے بعد ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں۔ ان کے ہمراہ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں۔ جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم وہاں سے اٹھ گئے۔ وہ آپ کے پاس آکر کچھ دیر روتی رہیں۔ پھر جب دوسرے لوگوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ مکان کے اندرونی حصے میں چلی گئیں، چنانچہ ہم نے مکان کے اندر ان کے رونے کی آواز سنی۔ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! خلافت کے متعلق کوئی وصیت کر دیں۔ فرمایا: میں خلافت کا ان حضرات سے زیادہ کسی کو حقدار نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے خوش تھے۔ پھر آپ نے علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، سعد رضی اللہ عنہ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کا نام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مشورے کی حد تک شریک رکھا جائے لیکن خلافت کے معاملات سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ آپ نے یہ جملہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دلجوئی کے لیے فرمایا۔ اگر خلافت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ملے تو وہ اس کے سزاوار ہیں ورنہ جو بھی خلیفہ بنایا جائے وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان سے تعاون حاصل کرتا رہے۔ میں نے ان کو (کوفہ کی گورنری سے) ان کی نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اسے انصار کے ساتھ خیر خواہی کی وصیت کرتا ہوں جو مہاجرین سے پہلے دار الہجرت اور دار الایمان، یعنی مدینہ طیبہ میں مقیم ہیں۔ وہ ان کے نیکوکار لوگوں کے اخلاص کی قدر کرے اور ان کے بروں کی برائی کو نظر انداز کرے۔ میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرے کیونکہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں، مال فراہم کرنے والے اور اسلام دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں۔ اور ان سے وہی کچھ لیا جائے جو ان کی ضروریات سے زیادہ ہو اور وہ بھی ان کی رضامندی سے وصول کیا جائے۔ میں خلیفہ کو دیہاتی آبادی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اصل عرب اور اسلام کی بنیاد ہیں۔ ان کی ضروریات سے زائد ان کا مال لیا جائے اور ان کے ضرورت مندوں پر ہی اسے خرچ کر دیا جائے۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کی پاسداری کی بھی وصیت کرتا ہوں کہ اہل ذمہ کے عہد کو پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں جنگ کی جائے، نیز ان کی حیثیت سے زیادہ بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم انہیں اٹھا کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس لے آئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام عرض کیا اور کہا کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اجازت طلب کر رہے ہیں۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں یہیں دفن کیا جائے، چنانچہ انہیں وہیں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ جب لوگ ان کے دفن سے فارغ ہوئے تو نامزد کردہ لوگ جمع ہوئے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنی رائے تین حضرات کے حوالے کر دو۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: میں اپنا حق علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: میں نے اپنی رائے کا حق عثمان رضی اللہ عنہ کو سونپا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ دونوں میں سے کون امرِ خلافت سے دستبردار ہوتا ہے، ہم اسے خلافت سونپ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہوگا اور حقوقِ اسلام کی ذمہ داری اس پر لازم ہوگی، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک اپنے سے افضل پر غور کرے۔ اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تم سے افضل کا انتخاب کرنے میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ ان دونوں حضرات نے کہا: ہاں (آپ ایسا کریں)۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری اور اسلام میں قدامت کا وہ حق حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا نگہبان ہے۔ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو آپ نے عدل و انصاف کرنا ہوگا اور اگر عثمان کو خلیفہ بنا دوں تو ان کی بات سننی ہوگی اور ان کی اطاعت کرنی ہوگی۔ پھر دوسرے (عثمان رضی اللہ عنہ) کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی اسی طرح کہا۔ اور جب دونوں سے عہد و پیمان لے لیا تو فرمایا: اے عثمان! اپنا ہاتھ اٹھاؤ، چنانچہ پہلے انہوں نے ان سے بیعت کی، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے بیعت کی، پھر اہل دار آئے انہوں نے آپ کی بیعت کی (الغرض سب نے بیعت کی)۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ أَبِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3701
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ"، وَقَالَ عُمَرُ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُ رَاضٍ".
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا علی رضی اللہ عنہ سے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور عمر رضی اللہ عنہ نے (علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: Q3701]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟، فَقَالُوا: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ , فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ:" انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ , فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی عَلم دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئیے عَلم کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات (جو سرکردہ تھے) حاضر ہوئے، سب کو امید تھی کہ عَلم انہیں ہی ملے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوا لو، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، اس سے انہیں ایسی شفاء حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں، چنانچہ آپ نے عَلم انہیں کو عنایت فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں (یعنی مسلمان بن جائیں) آپ نے فرمایا: ابھی یوں ہی چلتے رہو، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں، اللہ کی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (کی دولت) سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3701]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت کرے گا۔ لوگ رات بھر سوچتے رہے کہ دیکھیں جھنڈا کسے ملتا ہے؟ صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ جھنڈا اسے دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھوں میں کوئی شکایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پیغام بھیج کر بلاؤ۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ اس سے انہیں ایسی شفا ہوئی کہ گویا پہلے کوئی مرض ہی نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ان سے جنگ کرتا رہوں حتیٰ کہ وہ سارے ہم جیسے (مسلمان) ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی یوں ہی چلتے رہو۔ جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق (واجب) ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر تمہاری کوشش سے کسی ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ" , أَوْ قَالَ:" يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ" , فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے، پھر انہوں نے سوچا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل) ایک ایسا شخص عَلم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا، اتفاق سے علی رضی اللہ عنہ آ گئے، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلم انہیں دے دیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3702]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پھر انہوں نے سوچا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوہ میں شریک نہیں ہو سکوں گا، چنانچہ گھر سے نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر سے جاملے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا۔ یا فرمایا: کل وہ شخص جھنڈا لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے۔ یا فرمایا: وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب کرے گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے، حالانکہ ان کے آنے کی توقع نہیں تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں