صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. بَابُ: {وَلاَ يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِهِنَّ} إِلَى قَوْلِهِ: {لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ}:
باب: اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا ”اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں“۔
حدیث نمبر: 5248
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَسَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: وَمَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَحُرِّقَ، فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ اس واقعہ میں لوگوں میں اختلاف تھا کہ احد کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کون سی دوا استعمال کی گئی تھی۔ پھر لوگوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، وہ اس وقت آخری صحابی تھے جو مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ انہوں نے بتلایا کہ اب کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جو اس واقعہ کو مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لا رہے تھے۔ (جب بند نہ ہوا تو) ایک بوریا جلا کر آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5248]
حضرت ابو حازم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اس امر میں اختلاف کیا کہ غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کی مرہم پٹی کس چیز سے کی گئی تھی؟ انہوں نے اس سلسلے میں حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے رابطہ کیا، وہ مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے آخری صحابی تھے جو باقی رہے، انہوں نے فرمایا: ”واقعی لوگوں میں کوئی بھی باقی نہیں رہا جو اس معاملے میں مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے خون صاف کرتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے۔ (جب خون بند نہ ہوا تو) پھر ایک بوریا جلا کر اس کی راکھ سے زخم بھر دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5248]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
125. بَابُ: {وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ}:
باب: اس آیت میں جو بیان ہے کہ اور وہ بچے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں اس کے لیے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَأَلَهُ رَجُلٌ:" شَهِدْتَ مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ أَضْحًى أَوْ فِطْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ، ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایک شخص نے یہ سوال کیا تھا کہ تم بقر عید یا عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار نہ ہوتا تو میں اپنی کم سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کا اشارہ (اس زمانے میں) اپنے بچپن کی طرف تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور (لوگوں کے ساتھ عید کی) نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں خیرات دینے کا حکم دیا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ پھر وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا بڑھا کر (اپنے زیورات) بلال رضی اللہ عنہ کو دینے لگیں۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5249]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے کسی آدمی نے پوچھا: ”کیا تم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں اور اگر میرا مقام و مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نہ ہوتا تو میں اپنی صغر سنی کی وجہ سے ایسے موقع پر حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، لوگوں کو نماز عید پڑھائی اور خطبہ دیا۔ انہوں نے اس نماز کے لیے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، نیز انہیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھیں، اپنے زیورات حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کر رہی تھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ دونوں اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
126. بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ هَلْ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ:
باب: ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا۔
حدیث نمبر: 5250
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ" عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (ان کے والد) ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور غصے کی وجہ سے میری کمر میں ایک ہاتھ سے کونچا مارنے لگے۔ میں اس لیے حرکت نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة