صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. بَابُ الْقُرْعَةِ بَيْنَ النِّسَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا:
باب: سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لیے قرعہ ڈالنا۔
حدیث نمبر: 5211
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، فَقَالَتْ: بَلَى، فَرَكِبَتْ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلُوا وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ رِجْلَيْهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ ڈالتے۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام نکلا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت معمولاً چلتے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے۔ ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو اور میں بھی۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور (ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر) سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے اونٹ کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، پھر چلتے رہے، جب پڑاؤ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں (اس غلطی پر عائشہ کو اس درجہ رنج ہوا کہ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المؤمنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈال لیے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھ کو ڈس لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ حرکت خود میری ہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5211]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں میں قرعہ اندازی کرتے، چنانچہ ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا قرعہ نکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دورانِ سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو فرمایا کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”آج تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں آپ کے اونٹ پر سواری کرتی ہوں، میں بھی نئے مناظر کا مشاہدہ کروں؟“ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی اور وہ اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس تشریف لائے اور اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، پھر (وہاں سے) روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پاؤں اذخر گھاس میں ڈال لیے اور کہنے لگیں: ”اے اللہ! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، میری طاقت نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق کچھ کہہ سکوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5211]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
99. بَابُ الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا مِنْ زَوْجِهَا لِضَرَّتِهَا وَكَيْفَ يُقْسِمُ ذَلِكَ:
باب: عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے؟
حدیث نمبر: 5212
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، اس سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں خود ان کی باری کے دن اور سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5212]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس خود ان کی باری کے دن اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن رہتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5212]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
100. بَابُ الْعَدْلِ بَيْنَ النِّسَاءِ:
باب: بیویوں کے درمیان انصاف کرنا واجب ہے۔
حدیث نمبر: Q5213
{وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَاسِعًا حَكِيمًا}.
اور اللہ نے سورۃ نساء میں فرمایا «ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء» کہ ”اگر تم اپنی کئی بیویوں کے درمیان انصاف نہ کر سکو (تو ایک ہی عورت سے شادی کرو)۔“ آخر آیت «واسعا حكيما» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5213]
101. بَابُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ:
باب: اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5213
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَكِنْ قَالَ:" السُّنَّةُ: إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (راوی ابوقلابہ یا انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (آنے والی حدیث) ارشاد فرمائی۔ لیکن بیان کیا کہ دستور یہ ہے کہ جب کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک رہنا چاہئے اور جب بیوہ سے شادی کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک رہنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5213]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“ لیکن انہوں نے کہا: ”سنت یہ ہے کہ جب آدمی کسی (شوہر دیدہ بیوی کی موجودگی میں) کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس دن گزارے اور جب کنواری کی موجودگی میں شوہر دیدہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
102. بَابُ إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ:
باب: کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5214
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَخَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" مِنَ السُّنَّةِ: إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَقَسَمَ وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَسَمَ". قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ شِئْتُ، قُلْتُ: رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، کہا ہم سے ایوب اور خالد نے دونوں نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دستور یہ کہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔ اور عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ایوب اور خالد نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5214]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص شوہر دیدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن تک قیام کرے، پھر باری کا آغاز کرے۔ اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں کسی شوہر دیدہ سے شادی کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے، پھر باری کا اہتمام کرے۔“ ابوقلابہ نے کہا: ”اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔“ (راویِ حدیث) خالد نے کہا: ”اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
103. بَابُ مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ:
باب: مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5215
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ".
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5215]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”(بعض اوقات) ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے اور ان دنوں آپ کی نو بیویاں تھیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
104. بَابُ دُخُولِ الرَّجُلِ عَلَى نِسَائِهِ فِي الْيَوْمِ:
باب: مرد کا اپنی بیوی کے پاس دن میں جانا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5216
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" كَان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ".
ہم سے فروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب بھی بیٹھتے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے اور معمول سے زیادہ کافی دیر تک ٹھہرے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5216]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عصر سے فارغ ہوتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو پہلے جتنا وقت ٹھہرا کرتے تھے اس سے زیادہ وقت ان کے پاس ٹھہرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5216]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
105. بَابُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الرَّجُلُ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ بَعْضِهِنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ:
باب: اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لیے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے۔
حدیث نمبر: 5217
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5217]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بیماری میں وفات ہوئی اس میں پوچھا کرتے تھے: ”کل میری باری کس کے پاس ہے؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار تھا، چنانچہ آپ کو تمام ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں آرام فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا انتخاب کیا حتیٰ کہ ان کے ہاں آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن وفات پائی جس دن میرے گھر میں آپ کے آنے کی باری تھی۔ یہ (حسن اتفاق تھا کہ) اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو وفات دی تو آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا اور آپ کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے مل گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
106. بَابُ حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ:
باب: اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 5218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةِ، لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا، يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ حفصہ کے یہاں گئے اور ان سے کہا کہ بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے۔ آپ کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا (عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی آپ مسکرا دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5218]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے کہا: ”اے میری پیاری بیٹی! یہ خاتون تجھے مغرور نہ کر دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے ساتھ محبت پر بہت ناز ہے۔“ آپ کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) ”میں نے یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی تو آپ مسکرا دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
107. بَابُ الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يَنَلْ، وَمَا يُنْهَى مِنِ افْتِخَارِ الضَّرَّةِ:
باب: جھوٹ موٹ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کرنا عورت کے واسطے منع ہے۔
حدیث نمبر: 5219
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی (دوسروں کے کپڑے) مانگ کر پہنے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5219]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا مجھے گناہ تو نہیں ہوگا اگر میں اپنے خاوند کی دی ہوئی چیز کو خوب بڑھا چڑھا کر ظاہر کروں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہ دیا جائے اس کا خوب بڑھا کر اظہار کرنے والا ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5219]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة